خیبرپختونخوا اکنامک زونز کمپنی میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب

پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں خیبرپختونخوا میں صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے قائم اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے مالی و انتظامی معاملات میں سنگین بے قاعدگیاں سامنے آگئی ہیں۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کے واجبات کی عدم وصولی، زمین کا قبضہ حاصل کیے بغیر ادائیگیوں، کمرشل پلاٹوں کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹس اور انتظامی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کے معاوضے سے متعلق عدالتی مقدمات کے باعث کمپنی کو 14 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے، جبکہ لیز واجبات کی وصولی میں ناکامی اور زمین کے حصول میں تاخیر نے سرکاری وسائل کے استعمال پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ صوبائی حکومت نے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جامع اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نے شفافیت، احتساب اور قوانین کی پابندی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق کمپنی لیز معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد اور واجب الادا رقوم کی وصولی میں ناکام رہی۔ ڈگری شدہ لیز واجبات میں سے صرف 20 کروڑ 89 لاکھ 38 ہزار روپے وصول کیے گئے، جبکہ 2 ارب 8 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد رقم تاحال بقایا ہے۔ آڈٹ حکام نے اس صورت حال کو مالیاتی کنٹرول کی کمزوری قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کرنے، واجبات اور جرمانوں کی وصولی یقینی بنانے اور قانونی معاہدوں کے بغیر کاروباری سرگرمیوں کو روکنے کی سفارش کی ہے۔
پشاور اکنامک زون میں کمرشل پلاٹوں کے لیز معاہدے 2017 میں ختم ہوگئے تھے، تاہم ان کی تجدید کے لیے پالیسی 2024 میں مرتب کی گئی۔ اس دوران کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں لیکن تجدید کے واجبات وصول نہیں کیے گئے، جس سے آڈٹ رپورٹ کے مطابق 62 کروڑ 98 لاکھ 89 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ یہ معاملہ کمپنی کے انتظامی طریقہ کار اور مالی نگرانی کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ لیز معاہدوں کی بروقت تجدید اور واجبات کی وصولی ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
رپورٹ میں زمین کے حصول کے معاملات پر بھی سنگین تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے بونیر، مہمند اور جلوزئی اکنامک زونز کے لیے زمین کی مد میں ایک ارب 7 کروڑ 74 لاکھ 91 ہزار روپے ادا کیے، لیکن زمین کے حصول اور قبضے کا عمل مکمل نہیں ہوسکا۔ زمین کا قبضہ حاصل کیے بغیر ادائیگیاں کیے جانے سے سرکاری رقم کے تحفظ، معاہدوں کی شرائط اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ میں ان معاملات کی نشاندہی اس بات کی متقاضی ہے کہ ادائیگیوں کے طریقہ کار، ذمہ دار افسران اور زمین کی منتقلی میں تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے۔
دوسری جانب زمین کے معاوضے سے متعلق عدالتی مقدمات کے باعث 14 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ کمپنی کے لیے ایک بڑا مالیاتی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم یہ رقم رپورٹ میں نقصان کے خدشے کے طور پر بیان کی گئی ہے، اسے حتمی طور پر واقع ہوچکا نقصان قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس معاملے میں عدالتی کارروائیوں کی نوعیت، کمپنی کے قانونی مؤقف اور متعلقہ معاہدوں کی تفصیلات اہمیت رکھتی ہیں۔
صوبائی حکومت کے مشیر اطلاعات نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے جامع اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر شہریار گل نے بھی شفافیت، احتساب اور قوانین و ضوابط کی مکمل پابندی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ آڈٹ میں نشاندہی کیے گئے مالی نقصانات، بقایا واجبات اور زمین کے حصول سے متعلق بے ضابطگیوں پر کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں، ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور سرکاری وسائل کے ممکنہ نقصان کا ازالہ کیسے کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر آڈٹ رپورٹ نے خیبرپختونخوا اکنامک زونز کمپنی کے مالیاتی نظم و نسق، زمین کے حصول اور تجارتی پلاٹوں کی لیز کے معاملات میں اصلاحات کی ضرورت نمایاں کردی ہے۔ شفاف تحقیقات، واجبات کی وصولی، ذمہ داروں کا تعین اور مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام ہی اس معاملے میں احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کی سمت متعین کریں گے۔
