حکومت 32سال بعد بھی پولیو کے مکمل خاتمے میں ناکام کیوں؟

پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے 32 سال سے جاری سرکاری مہم تاحال اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہے، ہر سال وائرس کے مکمل خاتمے کی امیدیں اور دعوے کیے جاتے رہے، لیکن ہزاروں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔ گزشتہ 19 برس کے دوران ملک میں پولیو کے 1470 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں 74، 2025 میں 31 اور 2026 میں اب تک 7 بچے اس خطرناک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ عالمی یوم انسداد پولیو کے موقع پر سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں، حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم اور بچوں تک ویکسین کی مؤثر رسائی سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2008 میں پولیو کے 118، 2009 میں 89، 2010 میں 144، 2011 میں 198، 2012 میں 58، 2013 میں 93 اور 2014 میں ریکارڈ 306 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 2015 میں یہ تعداد کم ہوکر 54، 2016 میں 20، 2017 میں 8 اور 2018 میں 12 رہ گئی، تاہم 2019 میں کیسز دوبارہ بڑھ کر 147 اور 2020 میں 84 ہوگئے۔ 2021 میں صرف ایک کیس سامنے آنے سے وائرس کے مکمل خاتمے کی امید پیدا ہوئی، لیکن 2022 میں 20 اور 2023 میں 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 2024 میں تعداد بڑھ کر 74 ہوگئی، جبکہ 2025 میں 31 اور رواں سال اب تک 7 کیسز سامنے آچکے ہیں۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف سرکاری مہم کا آغاز 1994 میں ہوا، جبکہ گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہمات 1999 سے جاری ہیں۔ اس سے قبل 1974 میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانے کا آغاز کیا گیا تھا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کوششوں کے باوجود نئے کیسز کا مسلسل سامنے آنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویکسینیشن کے تسلسل، ہر بچے تک رسائی اور مہمات کی مؤثر نگرانی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
پولیو کے خاتمے کی مہم میں خدمات انجام دینے والے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیو مہم سے وابستہ 200 سے زائد افراد قاتلانہ حملوں میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ایسے حالات میں پولیو کا مکمل خاتمہ نہ صرف صحت عامہ بلکہ بچوں کے محفوظ مستقبل اور مہم سے وابستہ اہلکاروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایک بڑا قومی چیلنج بنا ہوا ہے۔
