امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، بلومبرگ

انتخابی دباؤ کے باعث نومبر سے پہلے ایران پر حملے کا امکان کم، تاہم خطے میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافے سے جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں

امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے تیاریاں بھی جاری ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جن میں ووٹرز ملک کے آئندہ وزیراعظم کا انتخاب کریں گے، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ اس کے علاوہ 36 امریکی ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات بھی منعقد کیے جائیں گے۔

بلومبرگ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان کم ہے۔ ان انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے ایک یا ممکنہ طور پر دونوں ایوانوں میں اکثریت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سیاسی دباؤ کی ایک بڑی وجہ جنگ کے نتیجے میں امریکا میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جن کے باعث عوام میں روزمرہ اخراجات اور مہنگائی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی، تاہم اب ایسے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ اور مزید 10 ہزار میرینز بھی خلیج کی جانب روانہ کر چکے ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں قائم بعض امریکی فوجی اڈوں پر تعینات اہلکاروں کی تعداد مبینہ طور پر کم کردی گئی ہے۔ ان اڈوں کو ایرانی جوابی حملوں کے دوران شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک ماہر کے مطابق دستیاب اشارے اس امکان کی طرف نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے اور ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی بمباری کی جاسکتی ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ماہر علی واعظ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی سیاسی مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق جس جنگ کو سیاسی مستقبل محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، وہی بالآخر دونوں رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

Back to top button