کیا واقعی امریکہ ایران پر ایک اور بڑا حملہ کرنے والا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشات کے دوران امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کی رسد پہنچائی گئی ہے، جبکہ ایسے ہتھیار بھی بحری جہاز پر لادے جا رہے ہیں جو ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات اور مضبوط فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کل بھی ہوسکتا ہے، تاہم کسی بڑے معاہدے پر پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملے کے لیے بحری جہاز پر ایسے ہتھیار بھی لادے جا رہے ہیں جو زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد میں کمی کے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اردن، لبنان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی مشنز کے عملے میں عارضی کمی کی گئی ہے، جبکہ سعودی عرب میں غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو روانگی کی ہدایت دی گئی۔ امریکی حکام نے ان اقدامات کو خطے میں امریکی اہلکاروں کے خلاف ممکنہ خطرات سے متعلق خفیہ اطلاعات سے جوڑا ہے؛ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے میں کمی بذاتِ خود ایران پر نئے حملے کے حتمی فیصلے کا ثبوت نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بارے میں کہا ہے کہ حملہ کل بھی ہوسکتا ہے، لیکن کوئی بڑا معاہدہ بھی طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے کارروائی کے وقت کی وضاحت کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی اقدام کے وقت کا اعلان نہیں کریں گے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف فوجی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے کرنے کا امکان بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق امریکی فوجی طاقت میں اضافہ اور خطے میں اضافی بحری وسائل کی تعیناتی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے واشنگٹن کے اختیارات بڑھاتی ہے، لیکن فوجی تیاری اور حملے کے حتمی فیصلے میں فرق ہے۔ امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے ماہر جیمز ایم لنڈسے نے 23 اکتوبر کی اپنی تجزیاتی رپورٹ میں لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں شدت بڑھانے، کسی سمجھوتے کے ذریعے ساتھ رہنے یا موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے جیسے راستوں میں سے انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے اور پینٹاگون کو بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب سو فان سینٹر کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف نئی بڑی فوجی کارروائی کی تو تہران کی جانب سے میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے جوابی حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق ایسی صورتِ حال خلیجی ممالک کے فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے، تجارتی جہاز رانی اور عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث اس خطے میں کسی بڑی فوجی کشیدگی کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود رہنے کے بجائے عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
مبصرین کے نزدیک اس صورتِ حال میں سفارتی رابطوں کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوجی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر دونوں فریق اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہ کرسکے تو تصادم کے خدشات برقرار رہیں گے۔ دوسری طرف کسی بڑے معاہدے کی صورت میں فوجی کارروائی سے بچنے اور کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں کوئی قابلِ عمل پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں، اس طرح امریکی بحری نقل و حرکت، سفارتی عملے میں کمی اور ٹرمپ کے سخت بیانات نے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے۔
