نت نئی پابندیاں، بلوچستان میں صحافت اتنی مشکل کیوں ہوگئی؟

بلوچستان میں صحافیوں کے لیے سکیورٹی واقعات کی رپورٹنگ پہلے ہی خطرات سے بھرپور رہی ہے، تاہم اب سرکاری معلومات تک محدود رسائی اور خبروں کی تصدیق کے لیے نئی شرائط نے صحافتی ذمہ داریاں مزید مشکل بنا دی ہیں۔ صحافی تنظیموں کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی ہدایات اور بلوچستان پولیس کی جانب سے اہلکاروں کو معلومات فراہم کرنے سے روکنے کے اقدامات کے باعث واقعات کی بروقت رپورٹنگ متاثر ہو رہی ہے، جس سے آزادی صحافت اور عوام تک مستند معلومات کی فراہمی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور ان کے دوران جانی نقصان سے متعلق معلومات عموماً فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں۔ ماضی میں مقامی پولیس اہلکار بھی صحافیوں کو واقعات سے متعلق معلومات اور تصدیق فراہم کر دیتے تھے، لیکن اب صوبائی پولیس نے بھی اپنے افسران کو کسی واقعے کے بارے میں معلومات شیئر کرنے یا اس کی تصدیق کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں صحافیوں کے لیے خبر کی بروقت تصدیق اور نشر و اشاعت ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے پریس سیکریٹری کی جانب سے 18 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صوبے کے مخصوص حالات کے پیش نظر پاکستان فوج، بحریہ اور فضائیہ سے متعلق خبروں کو آئی ایس پی آر، جبکہ پولیس سے متعلق خبروں کو آئی جی پولیس بلوچستان کے دفتر سے باضابطہ تصدیق کے بعد ہی نشر یا شائع کیا جائے۔ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ غیر مصدقہ ذرائع سے جاری ہونے والی بعض خبروں میں معلومات درست نہیں ہوتیں، جس سے ابہام اور عوامی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔تاہم صحافیوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام اور ترجمان اکثر فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتے، جس کے باعث تصدیق میں تاخیر ہوتی ہے اور نیوز رومز میں دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ آج کے تیز رفتار خبر رسانی کے ماحول میں جب کسی واقعے کی تفصیلات دوسرے ذرائع سے گردش کرنے لگتی ہیں تو مین اسٹریم میڈیا کے لیے بروقت اور مستند خبر دینا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب پیمرا نے بھی سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز کو ہدایت کی ہے کہ دھماکوں، فائرنگ، بم حملوں اور دہشت گردی جیسے ناخوشگوار واقعات کی براہ راست کوریج سے گریز کیا جائے۔ 13 اکتوبر کے حکم نامے میں چینلز کو متعلقہ محکموں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فراہم کردہ تصدیق شدہ معلومات نشر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پیمرا نے ٹائم ڈیلے نظام مؤثر طور پر استعمال کرنے اور متعلقہ عدالتی احکامات کے مطابق آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دینے پر بھی زور دیا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی سے خبردار کیا گیا۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں صحافت انتہائی مشکل ہو چکی ہے اور کسی واقعے کی معلومات مل جانے کے باوجود اس کی تصدیق صحافیوں کے لیے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات سرکاری تصدیق حاصل کرنے میں پورا دن گزر جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب مین اسٹریم میڈیا پر خبر تاخیر سے آتی ہے تو اس دوران افواہوں اور پروپیگنڈے کو پھیلنے کا موقع مل جاتا ہے، جبکہ عوام تک غیر مصدقہ معلومات دوسرے ذرائع سے پہنچتی رہتی ہیں۔

منظور بلوچ نے سوال اٹھایا کہ اگر اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا بروقت خبر فراہم نہیں کر سکیں گے تو عوام ان ذرائع پر اعتماد کیوں برقرار رکھیں گے؟ ان کے مطابق معلومات تک رسائی میں رکاوٹیں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کے لیے نئے اقدامات صحافتی بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں سہولت فراہم کی جانی چاہیے، نہ کہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کی جائیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان صحافیوں کے لیے پاکستان کے خطرناک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں انہیں عسکریت پسند گروہوں، قبائلی و سیاسی بااثر شخصیات اور سکیورٹی سے متعلق حساس تنازعات کے باعث مختلف نوعیت کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ میڈیا حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران صوبے میں کم از کم 40 صحافی قتل ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنی، جبکہ بعض صحافی بم دھماکوں اور مسلح حملوں میں مارے گئے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ماضی میں آزاد، ذمہ دار اور محفوظ صحافت کو جمہوری معاشرے کی بنیاد قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور ان کی سکیورٹی، فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ تاہم صحافی تنظیموں کے خدشات کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ حکومتی دعوؤں کو زمینی سطح پر کس حد تک عملی شکل دی جا رہی ہے۔اس صورت حال میں اصل چیلنج سکیورٹی خدشات اور عوام کے معلومات حاصل کرنے کے حق کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ غیر مصدقہ خبروں کی روک تھام ضروری ہے، لیکن اگر سرکاری تصدیق کا نظام بروقت معلومات فراہم نہ کر سکے تو اس کا نتیجہ خبر رسانی میں تاخیر اور افواہوں کے پھیلاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے صحافیوں کے لیے فوری تصدیق کا مؤثر نظام قائم کریں، واضح رابطہ کار مقرر کریں اور صحافیوں کی سلامتی کے ساتھ آزادی صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ بھی یقینی بنائیں۔

Back to top button