کیا گنڈاپور کا دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بننا ممکن ہے؟

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آخری دنوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے تھے اور اسی وجہ سے لانگ مارچ نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں فی الحال نہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا امکان ہے اور نہ ہی کسی نئے وزیراعلیٰ کے آنے کی توقع ہے، جبکہ علی امین گنڈاپور کی دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کی خواہش بھی پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کو پیشکش کی ہے کہ اگر ان کی حمایت کی جائے اور خیبرپختونخوا اسمبلی بحال ہو تو وہ ارکان کو اکٹھا کرکے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ان کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ فی الحال پی ٹی آئی کے ایسے سابق وزیراعلیٰ کا ساتھ دے کر پارٹی کو کنٹرول کرنے کے موڈ میں نہیں، جسے وہ مسترد شدہ سمجھتے ہیں۔
نجم سیٹھی نے گنڈاپور کی حمایت میں 60 سے 70 افراد کے اکٹھے ہونے کی اطلاعات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ خبر خود گنڈاپور کی جانب سے پھیلائی گئی تھی تاکہ انہیں وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ ان کے مطابق گنڈاپور دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کے خواہش مند ہیں، لیکن یہ خواہش پوری ہونے کا امکان نہیں۔سہیل آفریدی کے حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ اگر وہ سیاسی طور پر شہید بن چکے ہوتے تو ان کی حمایت میں لوگ سڑکوں پر نکلتے۔ ان کے مطابق ایسا نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی شہید نہیں بنے۔ سیٹھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر لوگ بڑی تعداد میں باہر نکلتے تو سہیل آفریدی مشکلات میں پھنس سکتے تھے اور انہیں 15 سال قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کے خیال میں سہیل آفریدی نے خود کو اس صورت حال سے بچایا۔
نجم سیٹھی نے پیش گوئی کی کہ خیبرپختونخوا میں نہ کوئی بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی اور نہ ہی نیا وزیراعلیٰ آئے گا۔ ان کے مطابق صوبے کی سیاست میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کمیٹی کا کردار کمزور ہو چکا ہے اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اب قومی اسمبلی بنتا جا رہا ہے۔سیٹھی نے پارلیمنٹ کے اندر ایک کمیٹی قائم کیے جانے کی اطلاعات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کے ذریعے آئندہ سیاسی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اس کمیٹی کی قیادت سونپے جانے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کے خیال میں پی ٹی آئی کی جانب سے سخت مؤقف کے بجائے نسبتاً نرم سیاسی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اس صورت میں استعفوں اور لانگ مارچ جیسے اقدامات کی باتیں کم ہو جائیں گی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمانی کمیٹیوں میں بیٹھ کر حکومتی معاملات میں تعاون کر سکتے ہیں اور سیاسی محاذ آرائی میں کمی آ سکتی ہے۔
