اسرائیلی عام انتخابات، نیتن یاہو کی پکی چھٹی یقینی کیوں؟

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو 27 اکتوبر کے عام انتخابات میں سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے، جہاں کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے ہونے والی پولنگ ان کی طویل سیاسی حکمرانی کے مستقبل کا فیصلہ کن مرحلہ بن سکتی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے خواہش مند تقریباً 67 ہزار اسرائیلی شہری امریکہ اور یورپ سے ووٹ ڈالنے کے لیے اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جبکہ تل ابیب میں ہزاروں افراد نے حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کی۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور ایران پر انتخابی عمل میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔
انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو کے لیے امریکی صدر کی حمایت اہم سیاسی معاملہ بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کے لیے غیر معمولی عوامی حمایت کا اظہار کیا تھا، تاہم اسرائیلی وزیراعظم اور ان کے قریبی حلقے کی جانب سے مزید حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 2 امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے قریبی بعض افراد بھی صدر کے سامنے بار بار اسرائیلی انتخابات اور نیتن یاہو کا معاملہ اٹھا رہے ہیں تاکہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ان کے حق میں مزید بیانات سامنے آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو کی موجودہ سیاسی صورتحال ان کے لیے غیر معمولی دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔
انتخابی جائزوں کے حوالے سے رپورٹ میں سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کے وزیراعظم بننے کے امکانات 52 فیصد، جبکہ نیتن یاہو کے امکانات 28 فیصد بتائے گئے ہیں۔ تاہم یہ اعداد انتخابی جائزوں سے منسوب ہیں اور حتمی نتائج کی ضمانت نہیں۔ انتخابات میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ کون سا سیاسی دھڑا کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار حمایت حاصل کر پاتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے انتخابات کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزرگاہیں بند کرنے اور فلسطینی کارکنوں کی نقل و حرکت پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے اثرات فلسطینی آبادی کی نقل و حرکت پر پڑنے کا امکان ہے، جبکہ اسرائیل کے اندر حکومت مخالف مظاہرے انتخابی ماحول میں سیاسی کشیدگی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو کو انتخابی دباؤ کے ساتھ معاشی پالیسی پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی کے ذریعے متبادل معیشت قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس پر اسرائیلی مرکزی بینک نے اعتراض کیا۔ مرکزی بینک کے مطابق کرپٹو کرنسیوں کو اسرائیل پر عائد پابندیوں سے بچنے کے طریقے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بینک نے زور دیا کہ اسرائیلی معیشت کے مفاد میں اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنا اور پابندیوں کے منفی اثرات سے بچنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
مجموعی طور پر 27 اکتوبر کے انتخابات نیتن یاہو کے لیے اہم سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم اسرائیلی شہریوں کی وطن واپسی، حکومت مخالف مظاہرے، انتخابی جائزوں میں سامنے آنے والا مقابلہ اور امریکی حمایت کے لیے جاری کوششیں انتخابی ماحول کی اہم خصوصیات ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کی حکمرانی کا مستقبل ووٹوں کی گنتی اور کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار سیاسی حمایت سے ہی واضح ہوگا۔
