عشق عمران میں ڈوبا ’’دیوانہ‘‘ کہاں ہے؟

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
عمران خان کے عشق میں تحریک انصاف کی حکومت کو قربان کرنیوالا دیوانہ سہیل آفریدی آج خود کہاں ہے؟ یہ سوال صرف خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سے متعلق نہیں، بلکہ تحریکِ انصاف کی سیاست، ترجیحات اور اس طرزِ سیاست کے بارے میں بھی ہے جس میں سوشل میڈیا کو عوامی طاقت کا متبادل سمجھ لیا گیا لیکن کچھ حاصل حصول کی بجائے پارٹی اور اس کی قیادت جیسے دلدل میں مزید پھنستی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی منظر عام سے غائب ہیں۔ تحریکِ انصاف نے ان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، جبکہ وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے اگلے روز ان سمیت کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے بھی ان کی بازیابی کیلئے عدالت سے رجوع کیا گیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام سے ان کی تحویل اور موجودہ مقام کے بارے میں جواب بھی طلب کیا ہے۔
یوں سہیل آفریدی کی گمشدگی یا تحویل کا معاملہ محض سیاسی بیان بازی نہیں، ایک سنجیدہ قانونی سوال بن چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان کے عشق میں اپنی پارٹی کی حکومت کو داؤ پر لگانے والے اس رہنما کیلئے تحریکِ انصاف کی سیاسی سرگرمیاں کتنی مؤثر دکھائی دے رہی ہیں؟ یہ بحث الگ ہے کہ عشق عمران میں ڈوبے سہیل آفریدی نے کیا یہ سب کچھ کر کے اپنی پارٹی اور جیل میں قید پارٹی رہنماوں کیلئے کچھ اچھا کیا یا مزید مصیبتوں کا باعث بنے۔ ابھی تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کی پروا کیے بغیر احتجاجی مارچ کی قیادت کی، اس کے بارے میں پارٹی کی طرف سے مسلسل اور بھرپور سیاسی مہم کہاں ہے؟ عدالتوں سے رجوع کرنا اپنی جگہ اہم ہے، مگر کیا سیاسی جماعت کی ذمہ داری صرف قانونی کارروائی تک محدود رہ جاتی ہے؟ سہیل آفریدی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خدشات کے باوجود عمران خان کی رہائی کیلئے مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے میدان میں نکلے لیکن جس تعداد میں وہ لوگوں کو احتجاج میں دیکھنا چاہتے تھے وہ نہ ہو سکا۔ اُنہیں اپنوں نے بھی اور دوسروں نے بھی سمجھایا کہ رک جاؤ ورنہ حکومت چلی جائیگی۔ سہیل آفریدی تو تحریک انصاف کی سوشل میڈیا اور ملک سے باہر بیٹھے یوٹیوبرز کے ہیرو بنے ہوئے تھے اور امید کر رہے تھے کہ اگر ایمرجنسی لگی تو پورا خیبر پختونخوا سڑکوں پرہو گا۔
تاہم صوبے میں تحریکِ انصاف کی حکومت بھی ختم ہوگئی، لوگ بھی نہیں نکلے، جو خواب سوشل میڈیا نے دکھایا اور جس کا نام نہاد ہمدرد یوٹیوبرز نے یقین دلایا ویسا کچھ نہ ہوا۔ اور اب کسی کو وزیراعلیٰ کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ وہ سوشل میڈیا جس کے وہ ہیرو تھے، وہ یوٹیوبرز جو آفریدی کو انقلابی بنا کر پیش کر رہے، وہ بھی جیسے آفریدی کو بھلا بیٹھے۔ ویسے تحریکِ انصاف کی سیاست میں ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی رہائی کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا جاتا ہے، دوسری طرف پارٹی کو درپیش ہر بڑے بحران کے بعد احتجاج، مذاکرات اور سیاسی حکمتِ عملی کے درمیان تذبذب نمایاں ہونے لگتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حکومت کا خاتمہ معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ وہ صوبہ تھا جہاں تحریکِ انصاف 2013ء سے مختلف ادوار میں اقتدار میں رہی اور جہاں اسکی سیاسی بنیاد مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ ایسے صوبے میں حکومت سے محرومی کے بعد کارکنوں کو متحرک رکھنے اور سیاسی مزاحمت کی سمت متعین کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ تھی۔ یہاں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا کا کردار زیرِ بحث آتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عمران خان سمیت پارٹی کے حامی سوشل میڈیا کو اسکی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے تھے۔ مخالفین کے بیانیے کا جواب، کارکنوں کو متحرک کرنا، جلسوں کی تشہیر اور سیاسی مخالفین پر دباؤ، ان تمام مقاصد کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال ہوتے رہے۔ مگر وقت کیساتھ یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ کیا سوشل میڈیا پر مقبولیت کو حقیقی سیاسی تنظیم، زمینی رابطوں اور مشکل وقت میں اجتماعی جدوجہد کا متبادل سمجھ لیا گیا ہے؟ پارٹی کے بعض سنجیدہ حلقوں میں یہ تنقید سامنے آتی رہی ہے کہ سوشل میڈیا کے کارکنوں، پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے بعض یوٹیوبرز اور بیرونِ ملک مقیم قیادت کے ایک حصے نے مفاہمت کی بات کرنیوالوں کو بھی تنقید بلکہ گالم گلوچ کا نشانہ بنایا، اُنہیں غدار گردانا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے والے سوشل میڈیا نے پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کو اس حد تک متاثر کیا کہ اہم اور سنجیدہ نوعیت کے فیصلے سوشل میڈیا کی جذباتیت اور نفرت کی بنیاد پر کیے جاتے رہے۔ سیاسی جماعتیں صرف جذباتی نعروں سے نہیں چلتیں؛ انہیں مشکل حالات میں راستہ نکالنے، اختلاف برداشت کرنے اور کارکنوں کو حقیقت پسندانہ سمت دینے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ بیرونِ ملک بیٹھے رہنماؤں اور یوٹیوبرز کے کردار پر بھی سوال اٹھنا فطری ہے۔ دور بیٹھ کر سخت بیانات دینا نسبتاً آسان ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو گرفتاریوں، مقدمات اور ریاستی کارروائیوں کا سامنا اپنے ملک میں کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہر سمجھوتے کو غداری اور ہر مذاکراتی کوشش کو کمزوری قرار دیا جائے تو پھر سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے گا؟ آج تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان جیل میں ہیں، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی قید میں ہیں، جبکہ ان کی تین بہنیں اور دیگر قریبی افراد بھی قیدوبند کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ان گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں ،جن کا تحریک انصاف کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کی وجہ وہ فیصلے اور پالیسیاں ہیں جو سوشل میڈیا کے دباؤ پر تشکیل دی گئیں۔ اب جبکہ پارٹی خیبر پختونخوا کی حکومت سے محروم ہو چکی ہے تو ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی کی احتجاجی سیاست کا دائرہ اس قدر محدود کیوں ہو گیا ہے کہ جیسے ایمرجنسی اور گورنر راج کا لگنا صوبے میں لوگوں کیلئے کوئی مسئلے کی بات ہی نہیں۔ احتجاجی سرگرمیوں کی شدت کا اندازہ صرف سوشل میڈیا پر بیانات یا وائرل ویڈیوز سے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ وہ سبق ہے جو کم ازکم اب تو تحریک انصاف کو سیکھ لینا چاہیے۔ تحریکِ انصاف کیلئے اصل چیلنج یہ نہیں کہ اس کے پاس سوشل میڈیا پر کتنے اکاؤنٹس ہیں یا اس کے حامی یوٹیوبرز کتنی ویڈیوز بناتے ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا پارٹی ایک مربوط سیاسی حکمتِ عملی رکھتی ہے؟ کیا اس کی قیادت کارکنوں کو بتا سکتی ہے کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟ اور کیا وہ اپنے ان رہنماؤںکیلئے مؤثر سیاسی و قانونی جدوجہد کر سکتی ہے۔ پارٹی کو اپنے اندر بھی یہ جائزہ لینا ہوگا کہ آیا اس نے سوشل میڈیا کی مقبولیت کو زمینی سیاست کی قوت سمجھنے میں غلطی کی۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت مشکل وقت میں سامنے آتی ہے۔ جب حکومت ہاتھ سے نکل جائے، قیادت جیل میں ہو اور کارکن غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہوں، تب ٹرینڈز نہیں بلکہ تنظیم، سیاسی بصیرت، مستقل مزاجی اور درست فیصلے کام آتے ہیں۔ اگر تحریکِ انصاف کو اپنے موجودہ بحران سے نکلنا ہے تو اسے یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا سیاسی جدوجہد کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے، اس کا متبادل نہیں۔
