کیا کیا تھا لانگ مارچ اپنے خلاف؟

تحریر:خالد جاوید جان
بشکریہ:روزنامہ جنگ
پی ٹی آئی کے حالیہ لانگ مارچ کے حوالے سے ابھی تک جو بہترین تبصرہ سامنے آیا ہے وہ محترم انور شعور کا وہ قطعہ ہے جو انہوں نے 21اکتوبر 2026 کے روزنامہ جنگ کیلئے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں

دوسروں کا کچھ نہیں بگڑا مگر

ہو گیا خود پارٹی کا نام صاف

کوئی پی ٹی آئی سے پوچھے ذرا

کیا کِیا تھا لانگ مارچ اپنے خلاف؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان کو اصل مقبولیت ان کے اقتدار سے باہر نکالے جانے پر ملی کیونکہ وہ اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں اتنے غیر مقبول ہو چکے تھے کہ اپنے گڑھ یعنی کے پی میں ہونیوالے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات بھی بری طرح ہار گئے تھے ۔اور اسکی سب سے بڑی وجہ انکی سیاسی ناپختگی ، بیڈ گورننس اور غیر جمہوری رویے تھے اور اس کا پس منظر یہ تھا کہ ہمارے اس وقت کے مقتدر حلقوں نے انہیں ملک کی ان روایتی سیاسی جماعتوں کیخلاف متبادل کے طور پر میدان میں اتارا تھا ۔جنہوں نے پہلے تو انہی حلقوں کی شہ پر ایک طویل عرصے تک ایک دوسرے کیخلاف محاذ آرائی کا بازار گرم کیے رکھا تھا جو تقسیم کرو اور لڑاؤ کی پالیسی کے تحت اقتدار پرہمیشہ حاوی رہے ۔ جب ان جماعتوں نے آپس میں ایک معاہدے یعنی میثاقِ جمہوریت کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ مزید کسی محلاتی سازش کا شکار نہیں بنیں گے تو بالادستوں نے اپنے نئے مہرے کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ۔اس سے پہلے جمہوریت کیلئے جانوں کی قربانیاں دینےوالی پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر اور دو مرتبہ کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا ۔ اُس وقت جب محترمہ کی شہادت پر غم و غصہ کی وجہ سے پورا سندھ جل رہا تھا صدر زرداری نے”پاکستان کھپے ” کا نعرہ لگا کر نہ صرف علیحدگی پسندوں کو مسترد کر دیا بلکہ انتہائی سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کو بھی اس وقت ہونیوالے انتخابات میں شرکت کیلئے قائل کر لیا جو محترمہ کی شہادت کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہتی تھی۔ صرف یہی نہیں ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مسلم لیگ کوحکومت سازی میں بھی شریک کیا ۔ لیکن اس سے انتخابات، جمہوری عمل اور سیاسی استحکام پر سوالات اٹھ سکتے تھے اور یہی وہ سیاسی شعور ہے جو صرف زیرک اور سنجیدہ سیاستدانوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ جناب آصف علی زرداری کے صدر اور جناب یوسف گیلانی کے وزیراعظم بننے کے بعد انکے خلاف سازشوں میں اتنی تیزی آ گئی کہ ہر روز حکومت جانے کی پیشین گوئیاں ہونے لگیں۔ پہلے تو وزیراعظم کو اکسایا گیا کہ وہ صدر مملکت کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں فریق بنیں تاکہ انہیں آپس میں لڑا کر کمزور کر دیا جائے۔ جب وزیراعظم نے سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تو انہیں عدالت عظمیٰ کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے معزول کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ میمو گیٹ سکینڈل کے ذریعے دوبارہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان ایک نئی محاذ آرائی کا دروازہ کھول دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے ایک منفی میڈیا مہم چلائی گئی جس میں جناب آصف زرداری کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس تھی کہ اگر صدر زرداری اس جرم میں ملوث ہوتے تو انہیں 12 سال سے زائد بے گناہ قید میں رکھنے والے کبھی معاف نہ کرتے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی تاریخ میں جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے علاوہ کسی سیاسی لیڈر نے اپنی حکومت کی میعاد پوری نہیں کی تھی یہ جناب آصف زرداری کی سیاسی سوجھ بوجھ کا ہی نتیجہ تھا کہ 28 سال بعدتمام تر رکاوٹوں اور شور شرابے کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے دوبارہ اپنی مدت پوری کی اور پاکستان میں سیاسی استحکام کے حوالے سے دو سب سے بڑے کام یہ کئے۔ اوّل، پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں پہلی مرتبہ کوئی سیاسی گرفتاری نہ کی گئی۔ دوم، 2013 کے عام انتخابات میں اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی نے کھلے عام شکست تسلیم کر کے پرامن طریقے سے اقتدار اپنی مخالف پارٹی کے حوالے کر دیا۔ یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا تھا اور جہاں عام انتخابات میں حکمران پارٹی اپنی شکست تسلیم کرنا سیکھ جائے۔ وہاں سیاسی استحکام کو کوئی نہیں روک سکتا اسی خوف اور پس منظر میں جنرل احمد شجاع پاشا کے ذریعے عمران خان کو لانچ کیا گیا۔ عمران خان کی نفرت اور تشدد بھری سیاست کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی گئی۔ اقتدار میں آنے کے بعد پہلے سال ہی پاکستان کی معیشت اوندھے منہ جاگری ۔کیونکہ وزیراعظم کو سب سے زیادہ شوق اپنے زیادہ سے زیادہ سیاسی مخالفین بنانے اور پھر انہیں اذیتیں پہنچانے کا تھا ۔جس طرح عمران خان کو مصنوعی طور پر مسیحا بنا کر پاکستان پر مسلط کرنا غلط تھا اسی طرح انہیں حکومت سے نکالنے کا طریقہ بھی غلط تھا کیونکہ وہ اپنے فاشسٹ رویوں کی وجہ سے انتہائی غیر مقبول ہو چکے تھے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے قائدین کی شہادتوں کے باوجود ریاست کیخلاف وہ پر تعصب رویہ نہیں اپنایا تھا جو تحریک انصاف نے اپنا رکھا ہے ۔جب سے عمران خان لانچ کیے گئے۔ اس دن سے پاکستان کی شورش زدہ سیاست مزید نفرتوں اور ہنگاموں کا شکار ہو گئی ہے اور پاکستان میں سیاستدانوں نے محترمہ کی شہادت کے بعد جو سپیس یا طاقت حاصل کی تھی۔ وہ مکمل طور پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنی جلاؤ گھیراؤ کی غیر سیاسی تحریک کے ذریعے جہاں اپنی پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہاں ملکی سطح پر دیگر جمہوری طاقتوں کو بھی انتہائی کمزور کر دیا ہے۔آج کا شعر

گو ہم بھی کوئی صاحبِ کردار نہیں تھے

لیکن کبھی ظالم کے طرف دار نہیں تھے

 

Back to top button