سالک صاحب

تحریر: حامد میر
بشکریہ: روزنامہ جنگ
آپ نے گلوکار عالمگیر کی آواز میں یہ ولولہ انگیز ترانہ تو ضرور سنا ہوگاجس کا پہلا مصرع ہی سننے والوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے
اسی ترانے کا یہ مشہور شعر ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰۃ ہے
یہ ترانہ صرف عالمگیر ہی نہیں بلکہ پاکستان ائر فورس کی بھی پہچان بن چکا ہے۔ سات ستمبر کو پاکستان ائر فورس کے قومی دن کی تقریبات میں یہ ترانہ قوم کے شاہینوں کا لہو گرماتا نظر آتا ہے۔ یہ ترانہ تو بہت مشہور ہے لیکن اس کے خالق کا ذکر بہت کم کیا جاتا ہے۔ یہ ترانہ ایک ایسے شاعر کی تخلیق ہے جس کی اصل پہچان صحافت تھی۔ اس صحافی کا نام عبدالمجید سالک تھا جن کے نام پر مسلم ٹاؤن لاہور میں سالک روڈ آج بھی موجود ہے اور یہیں ایک قبرستان میں وہ دفن ہیں۔
سالک صاحب نے قیامِ پاکستان سے بہت پہلے "انقلاب” کے نام سے ایک اخبار جاری کیا تھا۔ 13 جولائی 1931ء کو سرینگر کی سینٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ پولیس کی فائرنگ سے 22 کشمیری شہید ہو گئے تھے۔ عبدالمجید سالک نےانہی کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے یہ ترانہ لکھا تھاجو سب سے پہلے "انقلاب”میں شائع ہوا۔ اُس زمانے میں سالک صاحب "افکار و حوادث” کے نام سے ایک مشہور کالم لکھا کرتے تھے۔ شیخ عبداللہ کو شیرِ کشمیر کا خطاب بھی انہوں نے دیا کیونکہ شیخ صاحب ابھی کانگریس کے ہمنوانہیں بنے تھے اور سالک صاحب کی طرح علامہ اقبال کے ارادت مند تھے۔کچھ دقیقہ نویس کہتے ہیں کہ عبدالمجید سالک مسلم لیگ کی بجائے یونینسٹ پارٹی کے حامی تھے لیکن کئی تاریخی وثیقہ نویس اس دعوے کو آدھا سچ قرار دیتے ہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ روزنامہ انقلاب تو 1927ء میں جاری ہوا لیکن عبدالمجید سالک 1920ء میں مولانا ظفر علی خان کے اخبار "زمیندار” کے ایڈیٹر بنے۔ 4نومبر 1921ء کو سرکارِ برطانیہ کے خلاف ایک گستاخانہ اداریہ تحریر کرنے پر گرفتار کر لیےگئے۔عدالت میں مقدمہ چلا توسالک نے اپناکوئی دفاع کرنے کی بجائے اعترافِ جرم کر لیا اور ایک سال قید بامشقت کی سزا پائی۔ میانوالی جیل میں قید کاٹ کر واپس لاہور آئے تو مالی حالات تنگ تھے۔ "زمیندار” میں تنخواہ وقت پر نہ ملتی تھی لہٰذا مولانا غلام رسول مہر کے ساتھ مل کر ایک نیا اخبار "انقلاب” نکالا۔
حال ہی میں شجاع الدین غوری نے "سالک صاحب” کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جو کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں عبدالمجید سالک کا اپنے بارے میں ایک تعزیتی کالم بھی شامل ہے جو سالک صاحب نے اپنی زندگی میں لکھا۔ اس کالم میں وہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں:”سالک صاحب کی فطرت کی گہرائیوں میں سیاسیات سے نفرت جاگزیں تھی۔ ایک زمانے میں جذبات کی یہ کیفیت تھی کہ اظہارِ حق کیلئے جیل جانے کو بھی ہر دم تیار تھے اور شاید ایک دفعہ ہو بھی آئے تھے لیکن سیاسی آدمیوں کی سازشیں اور لاحاصل جھگڑے سالک صاحب کو ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔ عمر بھر نہ کسی سیاسی مجلس کے ممبر بنے اور نہ کوئی عہدہ قبول کیا۔”آگے چل کر مزید لکھتے ہیں کہ "سالک صاحب اپنے ادبی و صحافی دائروں میں درجہ اول کے آدمی نہ تھے۔ اخبار نویسی میں درجہ دوم، انشا پردازی میں درجہ دوم، ظرافت نگاری میں درجہ دوم، شاعری میں درجہ دوم اور فارسی شاعری میں درجہ سوم۔”
دوسرے الفاظ میں انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو دوسرے درجے کاصحافی قرار دیدیا۔ یہ اُنکی عاجزی تھی اور بہادری بھی تھی حالانکہ وہ بیک وقت علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد کے حلقۂ احباب میں شامل تھے۔ شفیع عقیل نے ہفت روزہ چٹان کیلئے اُن کا ایک انٹرویو کیا تھا جس میں سالک صاحب نے علامہ اقبال اور مولانا آزاد کو نظم و نثر کا امام قرار دیتے ہوئے اپنے ہیرو کہا۔ دونوں کے نظریات میں بہت فرق تھا لیکن سالک صاحب نے دونوں کے ساتھ تعلق برقرار رکھا۔ اُنکی زیادہ قربت علامہ اقبال کے ساتھ تھی۔ اقبال کا بہت سا غیر مطبوعہ کلام سالک صاحب کے ذریعہ تاریخ کا حصہ بنا۔ جگن ناتھ آزاد کے بقول جلیانوالہ باغ امرتسر میں انگریزسرکار کے قتلِ عام پر علامہ اقبال نے کہا:
ہر زائرِ چمن سے یہ کہتی ہے خاکِ باغ
غافل نہ رہ جہان میں گردوں کی چال سے
سینچا گیا ہے خونِ شہیداں سے اس کا تخم
تو آنسوؤں کا بخل نہ کر اس نہال سے
علامہ اقبال کا یہ قطعہ سالک صاحب نے جگن ناتھ آزاد کو سنایااور انہوں نے اسے تاریخ کا حصہ بنایا۔ سالک صاحب نے علامہ اقبال کے ساتھ اپنے پچیس سال کے تعلق کو ایک کتاب "ذکرِ اقبال” میں سمو دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب علامہ اقبال پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے تو سالک صاحب کا اخبار "انقلاب” متحدہ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے وزیرِ اعظم سر سکندر حیات کی حمایت کر رہا تھا اور سالک صاحب کا بیٹا عبدالسلام خورشید مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے یونینسٹ پارٹی کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس سے بھی بڑا تضاد یہ تھا کہ سالک صاحب قومی سطح پر آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ قائداعظم کی حمایت کرتے تھے لیکن پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے وزیرِ اعظم خضر حیات ٹوانہ کےساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ اُن کا موقف یہ تھا کہ انگریزوں کے ساتھ ٹکر لینے سے کانگریس کو فائدہ ہوگا اور پنجاب تقسیم ہو جائے گا۔ وہ پنجاب کی تقسیم کے خلاف تھے۔ اس مؤقف کے باعث اُنکے اخبار کی مقبولیت کم ہو گئی کیونکہ پنجاب کےمسلمانوں کی اکثریت مسلم لیگ کی حامی بن چکی تھی۔ 1947ء کے فسادات میں لاہور میں انقلاب کے دفتر پر حملہ ہو گیا۔ اخبار بند ہو گیا۔ شورش کاشمیری نے "چٹان” کے دفتر میں اُنہیں "انقلاب” کا دفتر کھول دیالیکن یہ اخبار 1949ء میں پھر بند ہو گیا کیونکہ حکومت وقت خلاف تھی۔ بہت سا قرض سالک صاحب پر واجب تھا۔ 1951ء میں خواجہ ناظم الدین وزیرِ اعظم بنے تو سالک صاحب کو دو ہزار روپے ماہوار پر سرکاری نوکری دی گئی۔ وہ ابو رشید وجدانی کے قلمی نام سے کراچی میں بیٹھ کر صحافتی مزدوری کرنے لگے اور جو پیسے ملتے اُس سے "انقلاب” کے قرض چکاتے۔ ایک دفعہ ماہر القادری نے "نقاب پوش صحافی” کے عنوان سے ایک تحریر میں اُن پر بہت تنقید کی۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ”زمیندار” جس نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی تھی اس اخبار کا ڈیکلریشن 1953ء میں مسلم لیگ کی حکومت نےمنسوخ کر دیا اور یہ بھی بند ہو گیا۔
یہ اخبار تو بند ہو گئے لیکن ظفر علی خان اور سالک صاحب پر آج بھی کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ 1951ء میں سالک صاحب نے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے قلمی نام سے مزدوری کی لیکن آج کل بہت سے صحافی اپنے جھوٹ اور خوشامد کو اپنے اصلی نام سے بیچ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں اخبارات اور ٹی وی چینلز ایک طرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف آزادیِ اظہار کو درپیش خطرات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔ جو صحافی ان خطرات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے اُن کا نام تاریخ کے اوراق سے بھی غائب ہو جائے گا لیکن جو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے اُنکا نام زندہ رہے گا۔ انقلاب، زمیندار اور چٹان بند ہو گئے لیکن سالک صاحب، ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کا نام آج بھی زندہ ہے اور آئندہ بھی زندہ رہے گا۔
