شاداب خان کی ناقابلِ شکست سنچری، پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی
154 رنز پر 9 وکٹیں گرنے کے باوجود قومی ٹیم نے 242 رنز کا ہدف حاصل کرلیا، شاداب خان نے 113 رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیلی جبکہ شاہین آفریدی نے 4 وکٹیں حاصل کیں

لاہور: پاکستان نے سہ ملکی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے چوتھے میچ میں انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ بنا لی۔ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں شاداب خان کی ناقابلِ شکست سنچری کی بدولت پاکستان نے 242 رنز کا ہدف 47.1 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
انگلینڈ کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 46.4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عرفات منہاس اور رضا اللہ نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستانی اننگز کا مایوس کن آغاز
242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز اچھا نہ رہا اور ابتدائی تین بیٹرز صرف 31 رنز کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔
فخر زمان 18 گیندوں پر 10 رنز بنا کر گس اٹکنسن کی گیند پر جیمی اوورٹن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ صائم ایوب 12 گیندوں پر 6 رنز بنا کر ہنری کروکومب کے شکار بنے، جبکہ سابق کپتان بابر اعظم بھی 12 گیندوں پر 10 رنز بنا کر اٹکنسن کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
ابتدائی وکٹیں گرنے کے بعد سعد بیگ نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 22 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 32 رنز بنائے، تاہم وہ جیمی اوورٹن کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
سلمان علی آغا نے 49 گیندوں پر 26 رنز اسکور کیے، لیکن لیام ڈاسن کی گیند پر سام کیوران کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ حسن نواز 33 گیندوں پر 15 رنز بنانے کے بعد ڈاسن کی گیند پر ہیری بروک کو کیچ دے بیٹھے۔
عرفات منہاس صرف ایک رن بنا سکے اور تین گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد اوورٹن کی گیند پر جو روٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی بھی 4 رنز بنا کر اوورٹن کا شکار بنے، جبکہ رضا اللہ 15 گیندوں پر 8 رنز بنانے کے بعد ول جیکس کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
شاداب خان کی ناقابلِ شکست سنچری نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا
ایک موقع پر پاکستان کے 154 رنز پر 9 کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے اور شکست کے امکانات واضح دکھائی دے رہے تھے۔ ایسے مشکل مرحلے پر شاداب خان نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا۔
شاداب خان نے 96 گیندوں پر ناقابلِ شکست 113 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 13 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے دباؤ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے پاکستان کو ہدف کے قریب پہنچایا اور آخری وکٹ کے لیے حارث رؤف کے ساتھ اہم شراکت قائم کی۔
حارث رؤف نے 19 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 7 رنز بنا کر شاداب خان کا ساتھ دیا۔ دونوں کھلاڑیوں کی کوششوں سے پاکستان نے 47.1 اوورز میں 243 رنز بنا کر ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کرلی۔ قومی ٹیم کو اننگز کے دوران اضافی رنز کی مد میں 11 رنز بھی ملے۔
انگلینڈ کی جانب سے جیمی اوورٹن سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 10 اوورز میں 43 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ لیام ڈاسن نے 10 اوورز میں 30 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ گس اٹکنسن نے 9 اوورز میں 62 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ہنری کروکومب اور ول جیکس نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ سام کیوران کوئی وکٹ نہ لے سکے۔
انگلینڈ کی بیٹنگ، بین ڈکٹ کی سنچری بھی ٹیم کو نہ بچا سکی
اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، جسے پاکستانی بولرز نے درست ثابت کرتے ہوئے انگلینڈ کو 241 رنز تک محدود کردیا۔
انگلینڈ کی ابتدائی بیٹنگ مشکلات کا شکار رہی اور 19 رنز کے مجموعی اسکور پر اس کے تین اہم کھلاڑی پویلین واپس جاچکے تھے۔
ٹام بینٹن 4 رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر عرفات منہاس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ جو روٹ 7 گیندوں پر 5 رنز بنانے کے بعد شاہین کی گیند پر صائم ایوب کو کیچ دے بیٹھے، جبکہ انگلش کپتان ہیری بروک ایک رن بنانے کے بعد رضا اللہ کی تھرو اور سعد بیگ کی وکٹ کیپنگ کے باعث رن آؤٹ ہوگئے۔
ابتدائی نقصان کے بعد بین ڈکٹ نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور شاندار سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 111 گیندوں پر 10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 105 رنز بنائے، تاہم دوسرے اینڈ سے انگلینڈ کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔
جورڈن کوکس 6 رنز بنا کر حارث رؤف کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ سام کیوران نے بین ڈکٹ کا ساتھ دیتے ہوئے 52 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 42 رنز بنائے، لیکن 145 کے مجموعی اسکور پر شاہین آفریدی کی گیند پر سلمان علی آغا کو کیچ دے بیٹھے۔
ول جیکس 16 گیندوں پر 13 رنز بنانے کے بعد رضا اللہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ بین ڈکٹ 187 کے مجموعی اسکور پر عرفات منہاس کی گیند پر سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اسی اسکور پر لیام ڈاسن بھی 5 رنز بنا کر رضا اللہ کی گیند پر شاداب خان کو کیچ دے بیٹھے۔
جیمی اوورٹن نے 16 گیندوں پر 10 رنز بنائے، لیکن عرفات منہاس کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ آخری وکٹوں کے دوران گس اٹکنسن نے مزاحمت کرتے ہوئے 28 گیندوں پر 3 چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 36 رنز بنائے، جبکہ ہنری کروکومب 14 گیندوں پر 8 رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھے۔
انگلینڈ کو اضافی رنز کی مد میں 6 رنز ملے، جن میں ایک بائی، ایک نو بال اور 4 وائیڈ شامل تھے۔
شاہین آفریدی کی چار وکٹیں، 150 ون ڈے وکٹوں کا سنگِ میل
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 8.4 اوورز میں 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ عرفات منہاس نے 8 اوورز میں 26 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ رضا اللہ نے 8 اوورز میں 38 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔ حارث رؤف نے 8 اوورز میں 55 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
شاداب خان نے 7 اوورز میں 31 رنز دیے، جبکہ سلمان علی آغا نے 5 اوورز میں 26 اور صائم ایوب نے 2 اوورز میں 18 رنز دیے، تاہم ان تینوں کو کوئی وکٹ نہ ملی۔
شاہین آفریدی نے انگلش اوپنر ٹام بینٹن کو آؤٹ کرکے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی 150 وکٹیں مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وقار یونس اور شعیب اختر نے 91، 91 میچز میں 150 وکٹیں مکمل کی تھیں، جبکہ ثقلین مشتاق نے 78 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں یہ سنگِ میل عبور کیا تھا۔
قذافی اسٹیڈیم میں شاہین آفریدی کی کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے، جہاں وہ 6 میچز میں 16 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 13 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں سے 9 میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں قذافی اسٹیڈیم میں 21 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیل رہی تھیں۔ اس میدان پر دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ون ڈے مقابلہ 12 دسمبر 2005 کو ہوا تھا، جس میں پاکستان نے انگلینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
شاداب خان کی ناقابلِ شکست سنچری اور پاکستانی بولرز کی عمدہ کارکردگی نے قومی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی، جس کے ساتھ پاکستان نے سہ ملکی سیریز کے فائنل میں بھی جگہ بنا لی۔
