انقلابی PTIمزاحمت چھوڑ کر مفاہمت کی جانب کیوں آئی؟

پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں مزاحمتی سیاست اور احتجاجی تحریک کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کی جانب پیش رفت شروع کر دی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں کے ذریعے سیاسی تعطل ختم کرنے اور صوبے میں حکومت کی بحالی کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب علی امین گنڈاپور بھی ممکنہ سیاسی پیش رفت کی صورت میں خیبرپختونخوا میں ان ہاؤس تبدیلی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے مزاحمتی سیاست پر زور دینے والی سوشل میڈیا ٹیم سے لاتعلقی کے بیانات دینا شروع کر دیے ہیں۔ اسے پارٹی کے سیاسی بیانیے میں تبدیلی اور وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک معزول رکن صوبائی اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مزاحمتی سیاست سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث اب مذاکرات کے راستے پر غور کیا جا رہا ہے۔پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی کا تنظیمی ڈھانچہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں کے بعد مختلف رہنماؤں کے الگ الگ مؤقف سامنے آنے سے قیادت کے درمیان اعتماد کے فقدان سے متعلق سوالات اٹھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے پارٹی کے اندر وسیع مشاورت کے بغیر لانگ مارچ کا اعلان بھی اختلافات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بحث کا سبب بنا، جس کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ پارٹی میں اہم سیاسی فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے معزول ارکان اسمبلی اور موجودہ قیادت کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان رابطوں کا ایک مقصد وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیاسی تعطل ختم کرنا اور خیبرپختونخوا میں حکومت کی بحالی کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے۔
اسی تناظر میں علی امین گنڈاپور بھی ممکنہ مذاکراتی پیش رفت کے بعد صوبے میں ان ہاؤس تبدیلی کے امیدوار کے طور پر اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ہو چکا ہے یا محض سیاسی امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کا ٹاسک بھی سونپ دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اس فیصلے کی مخالفت بھی ہوئی، تاہم مخالف آوازوں کو خاطر خواہ حمایت نہیں مل سکی۔ اب خیبرپختونخوا میں پارٹی قیادت کے اندر مفاہمتی سیاست کو آگے بڑھانے اور مزاحمتی سوشل میڈیا بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔مجموعی طور پر پی ٹی آئی کے اندر جاری اس پیش رفت کو احتجاجی سیاست سے مذاکرات کی طرف ممکنہ حکمت عملی کی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں سیاسی تعطل ختم ہو سکے گا، صوبے میں حکومت کی بحالی کی راہ نکلے گی یا ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں کوئی نیا سیاسی بندوبست سامنے آئے گا۔
