کے پی اسمبلی کی بحالی کا دانہ اور مائنس عمران خان

تحریر: نصرت جاوید
چند ذاتی مسائل کی وجہ سے یہ کالم کسی دن لکھنے کی مہلت نہیں ملتی۔ مل بھی جائے تو خود کو دہرانے سے گھن آتی ہے۔ قارئین کا وقت ضائع کرنے سے گریز کو ترجیح دیتا ہوں۔ سرکار کے دیے ڈیکلریشن کے تحت چھاپے اخبار کی واضح محدودات ہیں۔ اپنے ادارے کی بقا یقینی بنانا صحافی کی ذمہ داری ہے۔ خود کو ہیرو ثابت کرنے کی ہوس میں اسے سینکڑوں کارکنوں کے رزق کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہیے۔ کالم نگار کا لکھا تصویر سمیت چھپتا ہے۔ اسے کمپوز کرکے چھاپنے کے لئے تیار کرنے والے مگر مرتے دم تک گمنام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھاپے خانے کے مزدور ہیں اور سب سے بڑھ کر اخبار فروش جو چھپے ہوئے اخبار کو آپ کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔
ریگولرصحافت کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی محدودات کا ادراک واعتراف لازمی ہے۔ محدودات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بھی لیکن چند اہم واقعات کو تاریخی تناظر میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں تانکہ آج اٹھے چند کلیدی سوالات کے جواب تلاش کیے جاسکیں۔ دیرینہ قارئین کی اکثریت اس رویے کو سراہتے ہوئے حوصلہ بڑھاتی ہے۔ ارادہ آج بھی ایک سوال کو تاریخی تناظر میں اجاگر کرنا ہے۔
اس سے قبل مگر یاد دلانا ہوگا کہ خیبرپختونخوا کے معطل یامفلوج ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اپنے قائد کی رہائی کے لئے اسلام آباد پر لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو حسب عادت ملکی تاریخ میں ہوئے مختلف لانگ مارچوں کی تاریخ اس کالم میں بیان کی تھی۔ اس کے ذریعے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ ماضی میں ہوئے تمام لانگ مارچ محلاتی سازشوں کی انتہاپر نمودار ہوئے تھے اور منزل مقصود پر پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے اپنے اہداف حاصل کرلئے۔
’’کامیاب‘‘ لانگ مارچوں کا ذکر کرتے ہوئے محض دو کو یاد رکھنا کافی ہوگا۔ پہلے لانگ مارچ کا اعلان محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے ہوا تھا۔ غلام اسحاق خان ان دنوں صدرِ پاکستان تھے۔ آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت انہیں قومی اسمبلی برطرف کرنے کا اختیار میسر تھا۔ اپریل 1993میں مذکورہ اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے موصوف نے نواز شریف کی پہلی حکومت کو برطرف کردیا۔ وہ برطرف ہوئی تو نسیم حسن شاہ کا سپریم کورٹ متحرک ہوگیا۔ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے صدر کی جانب سے وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کی برطرفی کو غیر آئینی قراردیتے ہوئے بحال کردیا گیا۔
قومی اسمبلی بحال ہوجانے کے بعدبھی لیکن نواز شریف آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے اور اپنے ’’سیاسی قلعہ‘‘ یعنی پنجاب کی حکومت حاصل نہ کر پائے۔ وہاں کے وزیر اعلیٰ منظور وٹو ’’باغی‘‘ ہوگئے تھے۔ ان کا غلام اسحاق خان کی جانب سے گورنر پنجاب نامزد ہوئے چوہدری الطاف حسین نے ڈٹ کر ساتھ دیا۔ نواز شریف نے وزیر اعظم کے منصب پر بحالی کے بعد پارلیمان کی مدد سے میاں اظہرمرحوم کو پنجاب کا کنٹرول سنبھالنے کے اختیارات فراہم کردیے۔ قانونی اعتبار سے درست انداز میں اٹھایا یہ قدم بھی لیکن چوہدری الطاف کی کائیاں مزاحمت کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی مشکلات دور نہ کرپایا۔ دریں اثنا محترمہ بے نظیر بھٹو نے الطاف حسین اور منظور وٹو کی معاونت کے سہارے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔
مذکورہ لانگ مارچ لاہور سے اسلام آباد تک نواز شریف کے حامیوں اور مخالفین کے مابین خانہ جنگی کی فضا تیار کرتا دکھائی دیا تو ان دنوں کے آرمی چیف عبدالوحید کاکڑ مداخلت کو مجبور ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو انہوں نے مذاکرات کے لئے مدعو کیااور بالآخر’’کاکڑ فارمولہ‘‘ تیار ہوا۔ اس کے نتیجے میں صدر اسحاق اور وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔ ان کے استعفوں نے نئے انتخاب کی راہ بنائی اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم کے منصب پر لوٹ آئیں۔ نواز شریف نے چند ہی ماہ بعد مگر ان کی حکومت کے خلاف کراچی سے اسلام آباد تک ’’ٹرین مارچ‘‘ کا اعلان کردیا۔ میں نواز شریف کے ساتھ اس مارچ میں موجود تھا۔ ریل کی پٹریوں کی دونوں جانب رحیم یار خان سے لاہور تک نواز شریف کا ’’ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے نعروں کے ساتھ خیرمقدم کرنے والے افراد کی تعداد متاثرکن تھی۔ یہ مارچ مگر اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
مذکورہ مارچ کے مقابلے میں نواز شریف ہی جب افتخار چوہدری کی سپریم کورٹ کے منصب پر بحالی کے لئے لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے تو ان کے گوجرانوالہ پہنچتے ہی ان دنوں کے سپہ سالار جنرل کیانی نے انہیں فون پر اطلاع دی کہ چوہدری کو بحال کردیا جائے گا۔ ان کے فون کے چند گھنٹوں بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے رات گئے قوم سے براہِ راست خطاب کیا اور ا فتخار چوہدری کی بحالی کا یقین دلایا۔ دوسری صبح نواز شریف گوجرانوالہ سے لاہور واپس لو ٹ گئے۔
سہیل آفریدی اگر لانگ مارچ کو بضد رہتے تو خیبرپختونخوا کے تیسرے وزیر اعلیٰ ہوتے جو ’’اٹک کے اس پار سے‘‘ اسلام آباد پر ’’یلغار‘‘ کا تاثر دیتے نظر آتے۔ اس حوالے سے پہلی ’’یلغار‘‘ کے مناظر نواز شریف کے تیسرے دورِ اقتدار میں پرویز خٹک نے فراہم کئے تھے۔ بعدازاں 2024کے انتخابات کے بعد دوبار اسلام آباد کو علی امین گنڈاپور کے ذریعے ’’تھلے‘‘ لگانے کی کوشش ہوئی۔ ان میں سے ایک بھی مرکزی حکومت کو جھکانے میں لیکن کامیاب نہ ہوا۔ ان کے انجام کو ذہن میں رکھتے ہوئے بارہا اس کالم میں سہیل آفریدی کو متنبہ کرتا رہا کہ ان کی اسلام آباد آنے کی کاوش بھی کار بے سود ثابت ہوگی۔ کیونکہ میری کوتاہ بینی شہباز حکومت کے خلاف ’’محلاتی سازش‘‘ دریافت کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔
میرے صحافی دوستوں کی اکثریت ان دنوں سہیل آفریدی کو تحریک انصاف کی تمام مشکلات کا واحد ذمہ دار ٹھہرارہی ہے۔ ملکی سیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے سہیل آفریدی کی سیاست کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود یہ لکھنے کو مجبور ہوں کہ جواں سال اور نسبتاََغیر تجربہ کار ہوتے ہوئے بھی آفریدی نے جبلی طورپر دریافت کرلیا کہ موصوف کی جماعت کے اکثر رہ نما محض ’’گفتار کے غازی‘‘ ہیں۔ وہ انہیں ’’افرادی قوت‘‘ فراہم کر نہیں سکتے اور خاطر خواہ اور پرجوش ہجوم کے بغیر اٹک سے پنجاب میں داخلہ سیاسی خودکشی ثابت ہوگی۔ اسلام آباد آمد کو لہٰذا اپنے صوبے کے مختلف شہروں میں جاکر وہ ’’سٹریٹ موومنٹ‘‘ کے نام پر ٹالتے رہے اور بالآخر گورنر راج اور ا یمرجنسی کے نفاذکی بدولت اپنی حکومت گنوادی۔
ان کی معطلی کے باوجود خیبرپختونخوا کی 2024کے انتخاب میں منتخب ہوئی صوبائی اسمبلی اب بھی غیر فعال ہونے کے باوجود برقرار ہے۔ اسے 90دنوں بعد فعال بنایا جاسکتا ہے۔ قانونی بنیاد پر بحال کی اس امید کو وفاقی حکومت ہوشیاری سے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ بانی تحریک انصاف سے وفاداری کے نام پر منتخب ہونے والوں کو دلاسہ دیا جارہا ہے اگر وہ سہیل آفریدی کی جگہ کسی ’’سنجیدہ، معاملہ فہم اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے‘‘ وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات سلجھانے والے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرلیں تو 90دنوں بعد خیبرپختونخوا اسمبلی بحال ہوسکتی ہے۔ اپنی بحالی کے بعد وہ مارچ 2027میں سینٹ کی خالی ہوئی نشستوں کے لئے نئے امیدوار بھی چن سکتی ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ سینٹ کی خالی نشستوں کو پر کرنے کا اراکینِ صوبائی اسمبلی کس بے تابی سے انتظار کرتے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کو بحال کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت ہوشیاری سے امید کی لو جلاتے ہوئے تحریک انصاف کو ’’مائنس عمران خان‘‘ کی جانب دھکیل رہی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ ’’دانہ چگنے‘‘ کو کتنے اراکینِ صوبائی اسمبلی تیار ہوں گے۔ ملکی سیاست کے اہم واقعات یاد رکھنے کی علت اگرچہ مجھے اس قومی اسمبلی کی ’’معطلی‘‘ یاد رکھنے کو مجبور کررہی ہے جو 12 اکتوبر 1999کی رات تک قائم تھی۔ ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ نواز شریف اس کے قائدِ ایوان اور دوسری بار منتخب وزیر اعظم ہوا کرتے تھے ۔12اکتوبر کو معطلی کے بعد مگر یہ اسمبلی بحال نہیں ہوپائی تھی۔
