پاکستان کا قطر اور انڈونیشیا سے ’بدر‘ معاہدہ، ’مکہ‘ دفاعی اتحاد سےمختلف کیوں؟

پاکستان اور ترکی کے درمیان پہلے سے موجود قریبی دفاعی تعاون کے بعد قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط خطے میں دفاعی صنعت کے نئے اشتراکی فریم ورک کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 22 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے اس معاہدے کا مقصد دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی، مشترکہ منصوبوں اور تکنیکی تربیت میں تعاون بڑھانا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ جب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ‘ دفاعی معاہدہ پہلے ہی موجود ہے تو پھر ’بدر‘ جیسے الگ انتظام کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، اور دونوں معاہدوں سے شریک ممالک کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ’مکہ‘ دفاعی معاہدہ اور ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت بنیادی طور پر مختلف مقاصد رکھتے ہیں۔ ’مکہ‘ معاہدہ اجتماعی دفاع اور سلامتی کی یقین دہانی سے متعلق ہے، جبکہ ’بدر‘ کا مرکزی ہدف دفاعی صنعت کو مضبوط بنانا، جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور مشترکہ طور پر دفاعی سازوسامان تیار کرنا ہے۔ یوں ایک فریم ورک کا تعلق دفاعی ذمہ داریوں سے ہے، جبکہ دوسرے کا محور دفاعی پیداوار اور صنعتی صلاحیت میں اضافہ ہے۔
پاکستان کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق اس تعاون میں چاروں ممالک کی وزارت دفاع کے ساتھ پاکستان کا دفاعی پیداواری ادارہ اور ترکی کا دفاعی صنعتی ادارہ بھی شامل ہیں۔
انڈونیشیا نے ’بدر‘ کو اپنی دفاعی صلاحیت اور صنعت کو ترقی دینے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نبیل ملاچیلا کے مطابق اس شراکت داری کے تین بنیادی شعبے ہیں: تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی صنعتی تعاون اور انسانی وسائل کی استعداد میں اضافہ۔ جکارتہ نے واضح کیا ہے کہ اس انتظام کو فوجی اتحاد کے بجائے باہمی اعتماد، مساوات، خودمختاری کے احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی صنعتی شراکت داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ترکی کی سقاریا یونیورسٹی کے پروفیسر مصطفیٰ جانیر کے مطابق ’مکہ‘ ایک باقاعدہ دفاعی اتحاد ہے، جس کے تحت رکن ممالک پر اجتماعی دفاع سے متعلق ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جبکہ ’بدر‘ نسبتاً نرم قانونی حیثیت رکھنے والی مفاہمتی یادداشت ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیجی امور کے تجزیہ کار عمر کریم بھی دونوں معاہدوں کو ایک دوسرے کے برابر قرار دینے کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق ’بدر‘ کو فی الحال ابتدائی شراکت داری سمجھنا چاہیے، جو مستقبل میں عملی منصوبوں اور وسیع تر تعاون میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
سنگاپور کے ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر فیلو جیمز ایم ڈورسی کے مطابق ’مکہ‘ معاہدے میں اجتماعی دفاع اور سلامتی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ ’بدر‘ دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیتیں مشترکہ طور پر فروغ دینے پر توجہ دیتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہی فرق دونوں انتظامات کو ایک دوسرے کا متبادل بننے سے روکتا ہے۔
قطر کی شمولیت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس کے پاس سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ دفاعی صنعتی تعاون کے ذریعے اسے مستقبل میں تیار ہونے والے سازوسامان تک رسائی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ ملائیشیا کی سن وے یونیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر جولیا روکنیفارڈ کے مطابق قطر اس شراکت داری میں سرمایہ کاری فراہم کرنے اور مستقبل میں دفاعی مصنوعات کا خریدار بننے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم عمر کریم کے مطابق قطر کے پاس وسیع دفاعی صنعتی ڈھانچہ موجود نہیں، اس لیے اس کا کردار زیادہ تر مالی معاونت تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ان کے خیال میں مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے محض مفاہمتی یادداشت کافی نہیں ہوگی؛ اس کے لیے سرمایہ کاری، صنعتی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور مسلسل عملی تعاون درکار ہوگا۔
انڈونیشیا کے لیے یہ شراکت داری دفاعی ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ، سرمایہ کاری، انسانی وسائل اور دفاعی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق شریک ممالک کے سیاسی اور دفاعی تعلقات یکساں نوعیت کے نہیں۔ پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی روابط محدود رہے ہیں، جبکہ انڈونیشیا کے بھارت کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ اسی طرح پاکستان اور قطر کے تعلقات بعض اوقات افغانستان سے متعلق پالیسی اختلافات سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے اس شراکت داری کی کامیابی کا انحصار مشترکہ مفادات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر ہوگا۔
سعودی عرب کی ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت میں عدم شمولیت بھی توجہ کا مرکز ہے، کیونکہ ریاض کے پاکستان اور ترکی کے ساتھ پہلے ہی قریبی دفاعی تعلقات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عدم شمولیت کو لازماً کسی سیاسی اختلاف یا پاکستان اور ترکی سے دوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
بیتول دوغان اکّاش کے مطابق خلیجی ممالک اپنی خارجہ اور سلامتی پالیسی میں خودمختاری برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ’بدر‘ جیسا فریم ورک قطر کو دفاعی تعاون میں شریک ہونے کا موقع دیتا ہے، مگر اسے کسی ایک علاقائی طاقت کے زیر اثر آنے کی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان کے مطابق قطر امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے مغربی ممالک کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کرتا ہے، اس لیے مختلف نوعیت کی شراکت داریوں میں حصہ لینا اس کے لیے علاقائی توازن برقرار رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پروفیسر مصطفیٰ جانیر کے خیال میں سعودی عرب کا ’بدر‘ میں شامل نہ ہونا کسی بنیادی اختلاف کے بجائے دفاعی تعاون کے لیے مختلف ترجیحات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ریاض دفاعی تحقیق، ترقی اور صنعتی اشتراک کو دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے آگے بڑھانے کو ترجیح دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر جولیا روکنیفارڈ کے مطابق سعودی عرب کا اس مفاہمتی یادداشت سے باہر رہنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے کسی اہم دفاعی انتظام سے الگ رکھا گیا ہے، کیونکہ ’مکہ‘ اور ’بدر‘ کے مقاصد مختلف ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں نئے دفاعی انتظامات کی تشکیل کو امریکہ کے بدلتے ہوئے کردار اور روایتی سکیورٹی شراکت داریوں پر بڑھتے سوالات کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب بڑی حد تک امریکی اسلحے پر انحصار کرتا ہے، جبکہ خطے میں فضائی دفاعی نظاموں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ جیمز ایم ڈورسی کے مطابق بڑھتے ہوئے سلامتی کے خدشات سعودی عرب کو امریکہ کے علاوہ دیگر شراکت داروں اور متبادل دفاعی انتظامات کی جانب دیکھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
تاہم ’مکہ‘ معاہدے کو عملی شکل دینا بھی آسان نہیں ہوگا۔ جیمز ایم ڈورسی کے مطابق کسی ملک کے لیے فوری طور پر سعودی عرب کی ممکنہ جنگ میں اپنی افواج بھیجنے کا فیصلہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پیدا ہو تو سعودی عرب کے لیے پاکستان کی حمایت سے متعلق فیصلے بھی آسان نہیں ہوں گے۔ ترکی میں معاہدے پر عمل درآمد پارلیمانی منظوری سے مشروط ہے، جبکہ پاکستان میں اس معاملے پر اسی نوعیت کی پارلیمانی بحث تاحال سامنے نہیں آئی۔
مجموعی طور پر ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کو ’مکہ‘ دفاعی معاہدے کے متبادل کے بجائے دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کی ایک الگ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے لیے یہ شراکت داری اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار کو وسعت دینے، قطر کے لیے سرمایہ کاری اور ممکنہ خریداری کے مواقع حاصل کرنے، جبکہ انڈونیشیا کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم اس کی حقیقی اہمیت کا تعین مستقبل میں مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عملی پیداوار سے ہوگا۔ سعودی عرب سمیت مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت بھی مستقبل میں اس فریم ورک کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے، لیکن فی الحال اسے ایک ابتدائی دفاعی صنعتی شراکت داری ہی سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
