اوباما کی ٹرمپ پر ایران جنگ کے حوالے سے تنقید، اسے غیر ضروری اقدام قرار دے دیا

سابق امریکی صدر نے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کی پالیسیوں کو ٹھہرایا، مسلم سینیٹ امیدوار عبدال السید کی حمایت بھی کردی

واشنگٹن: سابق امریکی صدر باراک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے امریکی عوام کے لیے مشکلات اور اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق باراک اوباما نے اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں سابق ڈیموکریٹک سینیٹر شیروڈ براؤن کی حمایت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے ہیں، جن میں ایک ایسی جنگ شروع کرنا بھی شامل ہے جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی امریکی عوام نے اس کے لیے ووٹ دیا تھا۔

اوباما نے ایران کے ساتھ جنگ کو امریکا میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے باعث امریکی فوجی اڈوں اور اتحادیوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، امریکی شہری ہلاک ہوئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

سابق صدر نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکا کے میزائلوں کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال نے عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل متاثر کی ہے۔ ان کے مطابق تیل اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عام امریکی شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

باراک اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں طے پانے والے 2015 کے ایران جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے سفارت کاری کی مدد سے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے میزائل استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔

اوباما نے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور امیر طبقے کو ٹیکس میں دی جانے والی رعایتوں پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عام شہریوں کے اخراجات کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے، لیکن صدر وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش جیسے منصوبوں میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

سابق صدر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ کو گھر کی تزئین و آرائش کے پروگرام کی میزبانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں سونے کی سجاوٹ اور دیگر تبدیلیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے عمارت کی حالت کا موازنہ اس صورتِ حال سے کیا جیسے صدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھول لی ہو۔

اوباما نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران افراتفری، ظلم، بدعنوانی اور نااہلی دیکھنے میں آئی ہے اور اب ووٹروں کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ بہت ہوچکا، اب تبدیلی آنی چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکی عوام کو ایسے کانگریس ارکان اور ریاستی قیادت کی ضرورت نہیں جو قانون شکنی، لاپروائی اور محنت کش طبقے کی مشکلات سے لاتعلقی کا مظاہرہ کریں۔

اوہائیو می

Back to top button