دہشت گردی کی وجہ سے گورنرراج کانفاذناگزیرہوچکاتھا،وزیردفاع

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ  بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے باعث صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ 200 فیصد ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولتکاروں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پاکستان کی وحدانیت پر حملہ آور ہیں اور معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، پی ٹی آئی والوں نے ان کے لیے صوبے کے خزانے کے دہانے کھول رکھے تھے اور ان دہشتگردوں کو اپنا حصہ دار بنا رکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 13 سال تک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رہی لیکن ان 13 سالوں میں ان لوگوں نے مسلسل ملک دشمن کا کردار ادا کیا اور ان کی زبان پاکستانیوں کی زبان نہیں تھی۔

خواجہ آصف نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کا کوئی ایک بیان بتا دیں جس میں انہوں نے دہشتگردی کی مذمت کی ہو۔

جب سے صوبے میں دہشتگردی نے زور پکڑا، پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے نہ تو دہشتگردی کے خلاف بیان دیا، نہ طالبان کی مخالفت کی اور نہ ہی افغانستان کے خلاف کچھ بولے جس نے ہماری سالمیت کو چیلنج کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ تاریخی طور پر 12 اکتوبر کو ایک ڈکٹیٹر نے ملک کا آئین توڑا تھا اور ملک میں متعدد بار ایمرجنسی لگائی گئی، تاہم موجودہ حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نہ لگانا پڑے۔

Back to top button