خیبرپختونخوا میں گورنرراج کی مدت 6ماہ سے بڑھ سکتی ہے،راناثنااللہ

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے حالات 3 سے 6 ماہ میں اس سطح پر لانا ہوں گے جہاں لوگوں کو امن میسر ہو، وہ آزادانہ زندگی گزار سکیں، کاروبار کرسکیں اور بلاخوف آمدورفت جاری رکھ سکیں۔
راناثنااللہ کانجی ٹی وی سےگفتگو میں کہنا تھا کہ حالات بہتر نہ ہوئے تو 10 بار بھی ایمرجنسی لگانا پڑی تو لگائیں گے، اقتدار میں چاہے پاکستان تحریک انصاف ہو، اسے دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیررانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ یہ نظام کام کر لے گا۔ ایڈوائزری کونسل سیکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کو سپورٹ دے گی، جن علاقوں کو فوج دہشت گردی سے پاک کرے گی، وہاں انتظامیہ کو انہیں اپنے کنٹرول میں رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی جس شخص کو قائد ایوان منتخب کرتی ہے، اسے دہشت گردی کے خلاف متفق ہونا ہوگا۔ قائد ایوان دہشت گردی کے خلاف متفق نہیں ہوگا تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ پی ٹی آئی اقتدار میں ہو یا کوئی اور جماعت، اسے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے دن کو یوم سیاہ یا یوم نجات کے طور پر یاد نہیں رکھا جانا چاہیے۔ یوم نجات اس دن ہوگا جب دہشت گردی پر قابو پالیں گے اور شہدا کو خراج تحسین پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی جن حالات میں نافذ کی گئی، وہاں ہمارے جوان قربانیاں دے رہے تھے، دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں ہو رہا تھا اور صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی کردار نہیں تھا۔ ہم پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے کردار کو مائنس کرکے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 12 اکتوبر کو پاکستان پر ایک غیر آئینی دور مسلط کیا گیا تھا، مارشل لا نافذ ہوا اور ایک منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تھا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت لگایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی اور اس وقت گورنر راج نافذ کیا گیا تو مسلم لیگ (ن) نے ملکی مفاد کے خلاف کوئی ذاتی مفاد ترجیح نہیں دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف گورنر راج نافذ کرنے کی وجوہات درست نہیں تھیں، تاہم خیبرپختونخوا میں صورت حال یہ تھی کہ لوگوں کے لیے مغرب کے بعد گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا تھا۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ پی ٹی آئی 10 سے 12 ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کرسکے گی اور ایسا ہی ہوا، لیکن اس بار خدشہ تھا کہ افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے بعض افراد مارچ میں شامل ہوکر کوئی کارروائی نہ کردیں، جس سے خون خرابہ ہوسکتا تھا۔ اسی وجہ سے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔
