اسٹیبلشمنٹ نے اپنی تخلیق تحریک لبیک کی کمر کیسے توڑی؟

طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پروان چڑھنے والی تحریک لبیک پاکستان گزشتہ برس اکتوبر میں سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مریدکے آپریشن کے بعد ایسی ذلت آمیز پسپائی سے دوچار ہوئی کہ آج ملکی سیاست میں اس کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔
یاد رہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تحریک لبیک کا خالق قرار دیا جاتا ہے۔ فیض نے اس نام نہاد مذہبی جماعت کو ایک پریشر گروپ کے طور پر قائم کیا تھا جسے برسر اقتدار بڑی سیاسی جماعتوں کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم جب یہ جماعت اپنے سرپرستوں کے لیے دردِ سر بن گئی تو اس کی خالق اسٹیبلشمنٹ نے اس کا وجود مٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکتوبر 2025 کے مرید کے اپریشن کے بعد سے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی انس رضوی منظر نامے سے غائب ہیں اور ان کی جماعت حالت نزاع میں یے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ دونوں بھائی سکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں یا روپوش ہیں؟
تحریک لبیک کا قیام 2015 میں علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں عمل میں آیا۔ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے انتہا پسند پولیس گارڈ ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف احتجاجی تحریک نے اس جماعت کو مذہبی حلقوں میں شناخت دی، جبکہ ناموس رسالت کے معاملے پر سخت مؤقف، جذباتی تقاریر اور سڑکوں پر طاقت کے مظاہروں نے اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ تاہم اس جماعت کو ملک گیر سیاسی شناخت 2017 کے فیض آباد دھرنے سے ملی جو کہ نواز لیگ کی حکومت کے خلاف دیا گیا تھا۔
تحریک لبیک نے یہ دھرنا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر دیا تھا جس کے پیچھے اس جماعت کے خالق فیض حمید تھے۔ اس دھرنے کے نتیجے میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان مرکزی راستہ کئی ہفتوں تک بند رہا۔ بالآخر اس دھرنے کے خاتمے کے لیے حکومت نے ایک تحریری معاہدہ کیا جس پر تب آئی ایس آئی میں بطور میجر جنرل کام کرنے والے فیض حمید نے بطور ضامن دستخط کیے۔ مظاہرین کی اپنے گھروں کو واپسی کے اس لیے فیض حمید کی جانب سے پیسے بانٹنے کے عمل نے اس تاثر کو تقویت دی کہ موصوف تحریک لبیک کے ساتھ معاملات طے کرنے اور اسے سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کا موقع دینے میں بنیادی کردار ادا کر رہے تھے۔
ناقدین نے اس پیش رفت کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور 2018 کے انتخابات سے پہلے اس کے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کی حکمت عملی سے بھی جوڑا۔
تحریک لبیک کے عروج میں 2018 کے انتخابات کے بعد بھی اضافہ ہوتا رہا اور اس نے مذہبی نعروں کی بنیاد پر اپنا الگ ووٹ بینک قائم کر لیا۔ خادم حسین رضوی کی کرونا سے وفات کے بعد ان کے صاحبزادے سعد حسین رضوی نے قیادت سنبھالی تو جماعت نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کو اپنی سیاست کا مرکزی نکتہ بنایا۔ اپریل 2021 میں اس مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے دوران عمران خان کی حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم بھی ہوئے۔ چنانچہ حکومت نے اس پر پر پابندی عائد کر دی، تاہم بعد میں معاہدے کے تحت یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ تب فیض حمید لیفٹینینٹ جنرل بن چکے تھے اور آئی ایس آئی کے سربراہ تھے لیکن ان کے لیے بھی لبیک کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔
تحریک لبیک اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کا سب سے سنگین مرحلہ اکتوبر 2025 میں سامنے آیا، جب جماعت نے غزہ اور فلسطینیوں کے حق میں لبیک یا اقصیٰ مارچ کا اعلان کیا، جس کا ہدف اسلام آباد پہنچ کر امریکی سفارت خانے کے باہر احتجاج کرنا تھا۔ مارچ لاہور سے شروع ہوا اور مریدکے پہنچ کر رک گیا، جہاں مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد 13 اکتوبر 2025 کی صبح پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، کئی پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ مظاہرین کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے بارے میں بھی مختلف دعوے سامنے آئے۔ پولیس نے سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل اور دوسری سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ یوں احتجاجی مارچ، جسے جماعت فلسطین کے حق میں تحریک قرار دے رہی تھی، ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہوگیا اور اس کے نتیجے میں تحریک لبیک کی قیادت کو غیر معمولی قانونی اور تنظیمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
مریدکے آپریشن کے بعد سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی منظرعام سے غائب ہو گئے۔ اس وقت پنجاب پولیس نے ان کی گرفتاری کی تردید کی اور مختلف مراحل پر دعویٰ کیا کہ ان کے ٹھکانے کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جبکہ اکتوبر اور نومبر 2025 کی رپورٹوں میں بھی دونوں بھائیوں کی تلاش جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس حکام نے ان کے خلاف درج مقدمات اور گرفتاری کی کوششوں کا ذکر کیا، لیکن ان کی موجودہ حیثیت کے بارے میں حتمی اور قابلِ اعتماد عوامی تصدیق دستیاب نہیں۔ تحریک لبیک کی جانب سے جون 2026 میں جاری بیان میں دونوں بھائیوں کو حراست میں رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کی عدالت میں پیشی اور رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
مریدکے آپریشن کے بعد حکومت نے تحریک لبیک کے خلاف کارروائی کو محض مظاہرین کی گرفتاریوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ جماعت کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں پر بھی قدغنیں عائد کیں۔
وفاقی کابینہ نے 23 اکتوبر 2025 کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جماعت کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دی، جبکہ وزارت داخلہ نے 24 اکتوبر کو اس باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ اس فیصلے کے بعد تحریک لبیک کے دفاتر، اثاثوں اور تنظیمی ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔جولائی 2026 میں الیکشن کمیشن نے جماعت کے انٹرا پارٹی انتخابات کو قانونی تقاضوں کے مطابق نہ پائے جانے پر اس کا انتخابی نشان بھی واپس لے لیا۔ اس طرح جماعت کو بیک وقت قانونی پابندی، قیادت کی عدم دستیابی، تنظیمی مشکلات اور انتخابی سیاست میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تحریک لبیک کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اس کی وہ احتجاجی طاقت شدید متاثر ہوئی ہے جس کے ذریعے وہ ماضی میں منتخب حکومتوں کو دباؤ میں لا کر اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ مریدکے آپریشن کے بعد سے جماعت کو اپنی قیادت کی گمشدگی، قانونی پابندیوں اور تنظیمی مشکلات کے باعث پہلے کی طرح احتجاج کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ مختصر یہ کہ تحریک لبیک کے عروج اور زوال کی داستان کے پیچھے ملک کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔
