اپوزیشن کاگورنرراج کیخلاف جدوجہدجاری رکھنےکااعلان

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف عوامی اور جمہوری جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔
اسلام آباد میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محموداچکزئی نے کہا کہ جہوریت کی بحالی کے لیے ان کی تحریک پُرامن ہوگی اور وہ نہ کسی کو گالی دیں گے، نہ گولی چلائیں گے اور نہ ہی کسی پر پتھر پھینکیں گے۔سیاسی مسائل کے حل اور ‘جہمہوری پاکستان کی تشکیل کے لیے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
محمود اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ “جن جن اضلاع میں ایمرجنسی نہیں لگی ہے، ان اضلاع میں اپنی جمہوری جد و جہد اور اپنی جمہوری تحریک جاری رکھیں” لیکن کسی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے تشدد کو ہوا ملے۔
محمود اچکزئی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ شروع کیا تھا کہ ان کا لیڈر جیل میں ہے اور ان کی صحت کے بارے میں عجیب عجیب خبریں آ رہی ہیں لہذا ہمیں ان سے ملاقات کرنے دی جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ وہ اور علامہ ناصر عباس چاہتے ہیں کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ایک معاہدہ ہو لیکن یہ کیسے ممکن ہے جب ‘ایک لشکر سے امام’ سے ہمیں ملنے ہی نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان سے ملاقات کے بعد ایک لفظ بھی میڈیا کو نہیں بتائیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا رہا لیکن ‘وہ نہیں جا رہا، یہ اس کی ہمت ہے۔’
محمود خان اچکزئی نے الزام عائد کیا کہ عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا اور پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کے حق رائے دہی پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ان کے بقول، عوام نے بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حمایت کی، لیکن اس مینڈیٹ کو طاقت کے زور پر چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 کروڑ افراد کے حق رائے دہی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے بلوچستان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سکیورٹی کے حالات خراب ہونے کے باوجود ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں کارروائی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں حکمران جماعت کے پسندیدہ لوگ اقتدار میں ہیں۔
