1999 کی کارگل جنگ نے نواز شریف کی چھٹی کیوں کروائی؟

میاں نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری اور ریٹائیرڈ بیوروکریٹ سعید مہدی نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کی فوجی مہم شروع کرنے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف کو اعتماد میں نہیں لیا تھا اور انہیں اس فوجی کارروائی کا علم تب ہوا جب بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے فون پر انہیں دوستی کی آڑ میں دشمنی کرنے اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا طعنہ دیا۔ وزیراعظم کی جانب سے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو کارگل ایشو پر وضاحت کے لیے طلب کرنے پر وہ سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی منتخب سویلین حکومت کی برطرفی اور مشرف کے اقتدار پر قبضے پر منتج ہوا۔
سعید مہدی نے اپنی کتاب ’’چشم دید گواہ‘‘ میں کارگل آپریشن کے پس منظر اور اس وقت کی سول و عسکری قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے اہم واقعات قلم بند کیے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق کارگل کے معاملے پر نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے مؤقف میں بنیادی اختلاف تھا۔ جنرل مشرف کا دعویٰ رہا کہ وزیراعظم کو آپریشن سے آگاہ کیا گیا تھا، جبکہ نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کا مؤقف تھا کہ انہیں اس فوجی مہم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ سعید مہدی کی روداد اس تنازعے کو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی نظر سے بیان کرتی ہے۔
کتاب کے مطابق مئی 1999 میں، بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے لاہور کے تاریخی دورے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا ہو رہی تھیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کے امکانات پر بات چیت جاری تھی، تاہم اسی دوران کارگل میں بھارتی فوج کے خلاف خفیہ فوجی کارروائی نے صورت حال کو یکسر تبدیل کر دیا۔ سعید مہدی کے مطابق وہ اس وقت وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ کراچی کے گورنر ہاؤس میں موجود تھے، جہاں قائداعظم اور فاطمہ جناح کے زیر استعمال کمروں کا معائنہ کرتے ہوئے وزیراعظم تاریخی اشیا میں دلچسپی لے رہے تھے کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ واجپائی فوری طور پر ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
سعید مہدی کے مطابق ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران واجپائی نے نواز شریف سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انہیں لاہور بلا کر دوستی کا پیغام دیا، لیکن دوسری طرف کارگل میں بھارتی فوج کے خلاف خفیہ کارروائی شروع کر دی گئی۔ واجپائی کے اس الزام نے نواز شریف کو حیران کر دیا اور انہوں نے جواب دیا کہ انہیں کارگل آپریشن کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کو یقین دلایا کہ وہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے بات کرکے صورت حال واضح کریں گے اور اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
کتاب میں درج روداد کے مطابق اسی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واجپائی نے معروف بھارتی اداکار دلیپ کمار کو بھی لائن پر لیا، جنہوں نے نواز شریف سے پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دلیپ کمار نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور جنگی ماحول کا سب سے زیادہ نقصان بھارت میں آباد مسلمانوں کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ پاکستان کی جانب سے انہیں نشانِ امتیاز دیے جانے کے بعد بھارت میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم واجپائی نے اس موقع پر ان کا ساتھ دیا۔ سعید مہدی کے مطابق نواز شریف نے دلیپ کمار کو یقین دلایا کہ وہ کشیدگی بڑھنے نہیں دیں گے اور صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کریں گے۔
سعید مہدی لکھتے ہیں کہ واجپائی سے گفتگو ختم ہوتے ہی نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف سے رابطہ کرکے کارگل کی صورت حال پر وضاحت طلب کی۔ جنرل مشرف نے وزیراعظم کو اسلام آباد آنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد اگلے روز ملاقات طے پائی۔ کتاب میں اس ملاقات کی تاریخ 17 مئی 1999 درج کی گئی ہے۔ اجلاس اسلام آباد میں فیض آباد کے قریب اوجڑی کیمپ میں ہوا، جہاں جنرل مشرف کے ساتھ سینئر فوجی افسران موجود تھے، جبکہ نواز شریف اپنی سینئر سیاسی ٹیم کے ہمراہ پہنچے۔ سعید مہدی اور سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل افتخار بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔
کتاب کے مطابق اجلاس میں جب جنرل پرویز مشرف نے کارگل آپریشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دینا شروع کی تو نواز شریف کو کارروائی کے حجم، منصوبہ بندی اور زمینی صورت حال کے بارے میں ایسی معلومات ملیں جن سے ان کی حیرت میں اضافہ ہوا۔ سعید مہدی کے بیان کے مطابق بریفنگ کے دوران وزیراعظم کے چہرے کے تاثرات بدلتے رہے اور انہیں اندازہ ہوا کہ کارگل میں ایک منظم فوجی کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی تھی۔ ان کی روداد کے مطابق اس موقع پر یہ سوال نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ اتنے اہم فوجی آپریشن سے منتخب وزیراعظم کو بروقت آگاہ کیوں نہیں کیا گیا تھا۔
سعید مہدی کے بیان کے مطابق کارگل کے معاملے پر اس ملاقات کے بعد سول اور عسکری قیادت کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔ وزیراعظم کی جانب سے آپریشن کی تفصیلات اور اس کے سیاسی و سفارتی نتائج پر وضاحت طلب کرنے سے دونوں قیادتوں کے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے۔ کارگل آپریشن کے نتیجے میں پاکستان کو بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ فوجی کارروائی کے مقاصد، اس کی منصوبہ بندی اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھتے رہے۔
کتاب کی روداد میں کارگل کے بحران اور اکتوبر 1999 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو بھی اہم پس منظر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کارگل آپریشن کے بعد سول ملٹری تعلقات میں پیدا ہونے والے تناؤ، فوجی قیادت اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات اور بعد ازاں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے واقعات نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا رخ تبدیل کر دیا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ملک میں ایک بار پھر منتخب سویلین حکومت کا خاتمہ اور فوجی حکمرانی کا آغاز ہوا۔
سعید مہدی کی کتاب ’’چشم دید گواہ‘‘ میں بیان کردہ واقعات کارگل آپریشن کے حوالے سے ایک اہم سوال کو دوبارہ اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان میں جنگ اور امن سے متعلق بڑے فیصلوں میں منتخب حکومت اور عسکری قیادت کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی حدود کیا تھیں۔ کتاب کے مطابق نواز شریف کو کارگل آپریشن کا علم بھارتی وزیراعظم کے احتجاج کے بعد ہوا، جبکہ جنرل مشرف کا مؤقف اس سے مختلف رہا۔ اس طرح کارگل کا واقعہ محض ایک فوجی مہم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، سول ملٹری تعلقات، جمہوری نظام اور سویلین بالادستی سے متعلق بحث پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
