گورنر راج کے نفاذ پر TTP کے سخت رد عمل کا امکان

خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ تو پیش نہیں آیا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صوبائی حکومت کی معطلی سے وہاں پرورش پانے والا دہشت گردی کا جن بوتل میں بند کرنا ممکن ہو گا؟ دفاعی تجزیہ کار ایسا نہیں سوچتے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں حکومت کا خاتمہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں کیونکہ دونوں نظریاتی طور پر ایک ہی صفحے پر تھے، لہٰذا ٹی ٹی پی کی قیادت عبوری حکومت کو ناکام بنانے کے لیے صوبے میں دہشت گردی کا سلسلہ تیز کر سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ابھی سے کاؤنٹر سٹریٹجی بنانا ہو گی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے والی وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں ناکامی کے باعث غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہوگئے تھے۔ تاہم بنیادی سوال یہی ہے کہ منتخب حکومت کو ہٹا کر انتظامی اختیارات وفاق کے پاس منتقل کرنے سے کیا دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے گا یا اس اقدام سے امن و امان کی صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے خلاف مطلوبہ کارروائیاں نہیں کی گئیں اور صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون نہیں کیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی الزام عائد کیا کہ صوبے کو انسداد دہشت گردی کے لیے تقریباً آٹھ سو ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن پولیس کی استعداد کار بڑھانے، محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنانے، سیف سٹی منصوبوں اور جدید سیکیورٹی آلات کی فراہمی کے شعبوں میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
مبصرین کے مطابق صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کی تمام تر ذمہ داری صرف ایک حکومت پر ڈالنے سے مسئلے کی پیچیدگی نظرانداز ہو سکتی ہے۔ سابق سیکرٹری داخلہ سید اختر علی شاہ کے مطابق شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مؤثر انتظامی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد اختیارات اور انتظامی طریقۂ کار میں ایسی کون سی تبدیلی آئی ہے جو پہلے ممکن نہیں تھی اور جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
پشاور کے معروف صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسف زئی کے مطابق خیبر پختون خوا میں امن و امان کی ذمہ داری صرف وزیراعلیٰ یا صوبائی حکومت تک محدود نہیں بلکہ پولیس، محکمہ داخلہ، وفاقی اداروں اور سرحدی نگرانی سمیت متعدد شعبے اس نظام کا حصہ ہیں۔ انضمام شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں اور ادارہ جاتی معاونت کے وعدوں پر عمل درآمد بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دہشت گرد سرحد پار سے داخل ہو رہے ہیں تو سرحدی نگرانی اور قومی سلامتی کے معاملات میں وفاقی حکومت کا کردار بھی بنیادی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ناگزیر ہوگا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ نے وفاقی حکومت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے گورنر راج کو سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خاتمے کی حامی رہی ہے اور اس کے دور حکومت میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کے لیے وسائل بھی فراہم کیے جاتے رہے۔ اس تنازعے میں محض سیاسی دعوؤں اور جوابی الزامات کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے بجٹ، اخراجات، پولیس کی استعداد کار، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور ان کے نتائج سے متعلق سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ خیبر پختون خوا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا ممکنہ ردعمل کیا ہوگا۔ اگر شدت پسند گروہ نئی انتظامیہ کو دباؤ میں لانے یا حکومتی اقدامات کو ناکام ثابت کرنے کے لیے حملوں میں اضافہ کرتا ہے تو محض انتظامی کنٹرول کی تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پیشگی سیکیورٹی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد میں اضافہ اور حساس علاقوں میں مؤثر نگرانی ضروری ہوگی۔ تاہم دہشت گردی میں اضافے کے کسی امکان کو یقینی نتیجہ سمجھنے کے بجائے اسے سیکیورٹی منصوبہ بندی کا ایک اہم خطرہ تصور کیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی عوامی طاقت کہاں غائب ہو گئی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق گورنر راج کی کامیابی کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا کہ انتظامی اختیارات کس کے پاس ہیں یا اس کے نفاذ کے بعد فوری طور پر کوئی بڑا دہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اصل پیمانہ دہشت گرد حملوں میں پائیدار کمی، شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ، متاثرہ علاقوں میں ریاستی عمل داری اور مقامی آبادی کا اعتماد ہوگا۔ بلوچستان میں دو ہزار تیرہ کے گورنر راج کی مثال بھی اس بحث میں پیش کی جاتی ہے کہ انتظامی اختیارات کی تبدیلی بذات خود پائیدار امن کی ضمانت نہیں بنتی۔
خیبر پختونخوا میں بھی نتائج کا تعین زمینی صورت حال اور قابلِ پیمائش سیکیورٹی اہداف کی بنیاد پر ہی کیا جا سکے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے دیرپا خاتمے کے لیے حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ایک جامع اور مسلسل حکمت عملی درکار ہوگی، جس میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کو ضروری وسائل کی فراہمی، سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون، قبائلی اضلاع میں ترقیاتی وعدوں کی تکمیل اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا شامل ہو۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی اختلافات کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر اثرانداز ہونے سے روکنا بھی اہم ہوگا۔ اگر گورنر راج کے باوجود شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی میں کمی کے ٹھوس نتائج سامنے نہیں آتے تو اس اقدام کی افادیت پر سوالات اٹھتے رہیں گے، کیونکہ اصل امتحان انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ہے۔
