روایتی ہیرو کا تصور بدلنے والے نانا پاٹیکر کی کہانی

75برس کی عمر میں دنیا سے گزر جانے والے بالی وڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر نے بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنے بے مثال ٹیلنٹ اور فنِ اداکاری کی بدولت یہ ثابت کیا کہ کسی اداکار کی اصل طاقت اسکی شکل و صورت نہیں بلکہ اس کی اداکاری ہوتی ہے۔
راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن جیسے سپر اسٹارز کے عروج کے دور میں تھیٹر سے فلمی دنیا کا رخ کرنے والے نانا پاٹیکر نے روایتی ہیرو کی خوب صورت شبیہ اور رومانوی اداکاری کے بجائے اپنے گرج دار لہجے، کاٹ دار مکالموں اور کردار میں ڈوب جانے کے منفرد انداز سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ وہ نہ صرف جلد ہی اپنی اداکاری کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے بلکہ اگلی کئی دہائیوں تک اپنے بے باک انداز، غیر معمولی فن اور یادگار کرداروں کے ذریعے بھارتی سنیما میں اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔
نانا پاٹیکر کا اصل نام وشوناتھ پاٹیکر تھا۔ انہوں نے ایسے دور میں بھارتی فلمی دنیا میں قدم رکھا جب بالی وڈ راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن جیسے سپر اسٹارز کے سحر میں مبتلا تھا اور رومانوی و ایکشن فلمیں سینما گھروں پر چھائی ہوئی تھیں۔ اسی زمانے میں متوازی سنیما اپنی شناخت بنا رہا تھا اور تھیٹر سے وابستہ فنکار فلموں کا رخ کر رہے تھے۔ نانا پاٹیکر نے بھی تھیٹر کے تجربے اور اداکاری کے فطری جوہر کو اپنا سرمایہ بناتے ہوئے فلم گمن سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔
ابتدا میں انہیں سپر اسٹار جیسی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی، لیکن ان کی منفرد شخصیت، سنجیدہ اداکاری اور غیر روایتی انداز نے رفتہ رفتہ فلم سازوں کی توجہ حاصل کر لی۔ نانا پاٹیکر کے فلمی عروج میں فلم پرندہ فیصلہ کن سنگ میل ثابت ہوئی۔ ودھو ونود چوپڑا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں انہوں نے گینگسٹر انا کا کردار ادا کیا، جو خوف، سفاکیت، غصے اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا مجموعہ تھا۔ نانا پاٹیکر نے اس کردار کو محض ایک روایتی ولن بننے سے بچاتے ہوئے اپنی آنکھوں کے تاثرات، چہرے کے اتار چڑھاؤ، خاموشی اور دھماکا خیز مکالموں سے ناقابل فراموش بنا دیا۔ ان کی اداکاری کا کمال یہ تھا کہ وہ کم مکالموں کے باوجود اپنے کردار کی دہشت اور ذہنی کیفیت کو پوری شدت کے ساتھ ناظرین تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔
فلم پرندہ میں ان کی غیر معمولی اداکاری نے انہیں قومی سطح پر نمایاں شناخت دلائی اور وہ بھارتی سنیما کے یادگار ولن میں شمار ہونے لگے۔ پرندہ کے بعد نانا پاٹیکر نے پراہار: دی فائنل اٹیک کے ذریعے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا ایک اور پہلو سامنے لایا۔ اس فلم میں انہوں نے میجر چوہان کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیے۔ فلم ایک ایسے فوجی کی کہانی تھی جو نظم و ضبط، فرض شناسی اور حب الوطنی کو زندگی کا بنیادی اصول سمجھتا ہے، لیکن شہری معاشرے میں جرائم، بدعنوانی اور بے حسی سے اس کی کشمکش اسے ایک بڑے امتحان سے دوچار کر دیتی ہے۔ نانا پاٹیکر نے کردار کی سختی، اصول پسندی اور اندرونی اضطراب کو جس شدت سے پیش کیا، اس نے ثابت کیا کہ وہ محض ایک اداکار نہیں بلکہ اپنے فن کے ذریعے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے حساس فنکار بھی ہیں۔
فلم کرانتی ویر نے نانا پاٹیکر کو مقبولیت کی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ فلم میں پرتاپ نارائن تلک کا کردار ابتدا میں ایک باغی اور بے پروا شخص دکھائی دیتا ہے، لیکن بعدازاں وہ سماجی ناانصافی، بدعنوانی اور فرقہ واریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن جاتا ہے۔ فلم کے عدالتی مناظر اور نانا پاٹیکر کے طویل، جوشیلیے مکالمے آج بھی بھارتی سنیما کے یادگار حصوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی اداکاری نے کردار کے غصے کو محض چیخ و پکار کے بجائے محرومی، بے بسی اور انصاف کی طلب سے جوڑ دیا۔ نانا پاٹیکر نے اپنے مکالموں کی ادائیگی میں جس شدت، درد اور سچائی کا مظاہرہ کیا، اس نے کردار کو محض فلمی ہیرو کے بجائے ناانصافی کے خلاف عوامی غصے کی علامت بنا دیا۔ اس فلم میں بہترین اداکاری پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کا ایک اور نمایاں حوالہ فلم انگار ہے، جس میں انہوں نے جرائم پیشہ مافیا اور طاقت ور عناصر کے خلاف کھڑے ہونے والے ایک ایسے کردار کو پیش کیا جس کی شخصیت میں غصہ، بے چینی اور مزاحمت نمایاں تھی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ غصے کو محض بلند آواز یا چیخ و پکار تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے ایک گہری انسانی کیفیت میں بدل دیتے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، گفتگو کے انداز اور جسمانی حرکات میں کردار کی داخلی کشمکش نمایاں ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ منفی کردار ادا کرتے ہوئے بھی ناظرین کی توجہ حاصل کر لیتے اور باغی کرداروں میں بھی انسانی کمزوریوں، محرومیوں اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو نمایاں کرنے میں کامیاب رہتے تھے۔
اگرچہ نانا پاٹیکر کو زیادہ تر سنجیدہ، تلخ اور باغی کرداروں کے حوالے سے پہچانا گیا، لیکن ان کی فنی صلاحیت کسی ایک طرز کی اداکاری تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اب تک چھپن، اگنی ساکشی اور ویلکم جیسی کامیڈی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے مختلف رنگ دکھائے۔ بالخصوص ویلکم میں ادے شیٹی کے کردار نے ثابت کیا کہ وہ سنجیدہ اور خوف ناک کرداروں کے ساتھ مزاحیہ اداکاری میں بھی ناظرین کو محظوظ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی یہی ہمہ جہت اداکاری انہیں بھارتی سنیما کے ان فنکاروں میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے جنہوں نے روایتی ہیرو کی تعریف بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
نانا پاٹیکر نے اپنی اداکاری سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ ایک مضبوط کردار کے لیے دل کش چہرے یا روایتی ہیرو جیسی شخصیت سے زیادہ فن کی سچائی اور کردار پر گرفت ضروری ہوتی ہے۔ نانا پاٹیکر کے فلمی سفر میں تنازعات بھی شامل رہے، تاہم ان کی فنی میراث کا بنیادی حوالہ ان کے یادگار کردار، مکالموں کی منفرد ادائیگی اور سماجی موضوعات سے وابستگی ہے۔ انہیں بھارتی اعزاز پدم شری سے بھی نوازا گیا تھا۔ فلم پرندہ کا انا، پراہار کا میجر چوہان، کرانتی ویر کا پرتاپ نارائن تلک اور ویلکم کا ادے شیٹی ان کے فن کے مختلف رنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نانا پاٹیکر کا فلمی سفر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی فنکار اپنی آواز، چہرے کے تاثرات، مکالموں کی ادائیگی اور کردار کی سچائی سے ناظرین کے ذہنوں میں ایسی جگہ بنا لیتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود برقرار رہتی ہے۔ ان کی اداکاری نے بھارتی سنیما میں یہ مثال قائم کی کہ فن کی قوت کسی بھی روایتی تصورِ حسن اور سٹارڈم سے زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔
