خیبرپختونخوا کو ’مال غنیمت‘ سمجھ کر مولانا اپنا حصہ مانگ رہے ہیں :طلال چوہدری

 

 

 

 

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کاکہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی وہاں اپنی ’سیاسی بنیادیں‘ بنانے کےلیے بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے ’ون پوائنٹ ایجنڈے‘ پر انتظامی اقدام ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان تو اس کو مال غنیمت سمجھ کر اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی سیاسی جماعت کی حکومت گرانے،نئی حکومت بنانے یا سیاسی اتحاد قائم کرنے کےلیے نہیں لگایاگیا،بلکہ اس کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا ہے۔

سینیٹر طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 یا 234 کا سہارا لینے سے معدنیات کی کان کنی کی سرگرمیاں خودبخود کیسے ممکن ہوسکتی ہیں، بالخصوص ایسے علاقوں میں جہاں بدامنی کے باعث عوام کی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیاں محدود ہوچکی ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اپنے شوہر اور سسر کو کھونےوالی ایک خاتون کو انتظامی کونسل میں شامل کیاگیا ہےتاکہ وہ شہداءکے خاندانوں کی نمائندگی کرسکیں۔یہ کونسل پیشہ ورانہ بنیادوں پر تشکیل دی گئی ہے اور اسے کم سے کم ممکنہ مدت کےلیے برقرار رکھاجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ آپ لانگ مارچ کریں،شارٹ مارچ کریں،ہمیں مسئلہ نہیں لیکن دہشت گردی پر بات کریں ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت ہونی چاہئے، عمران خان نے پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کا دفتر کھولنے کی بات کی۔ 2015 کےبعد پی ٹی آئی کے کسی رہنما پر حملہ نہیں ہوا۔

انہوں نےکہا کہ ہماری سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دےرہی ہے،پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔امن ہوگا تو سیاست ہوگی اگر امن نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔

تحریک انصاف کی عوامی طاقت کہاں غائب ہو گئی؟

طلال چوہدری نے 2024 کے عام انتخابات پر مولانا فضل الرحمان کی تنقید سے متعلق کہاکہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئےتھے۔مولانا فضل الرحمان انتخابی نتائج کےتناظر میں 1971 کے واقعات کا ذکر کیوں کررہے ہیں۔آپ کو 2024 کے انتخابات میں شکست کےبعد 1971 یاد آگیا۔یہ واقعہ بہت پہلے پیش آیا تھا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کا بےحد احترام کرتےہیں،تاہم ان کے سیاسی مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔آپ کے سیاسی قد کاٹھ کے پیش نظر اس طرح کے تلخ بیانات مناسب نہیں۔انہوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آئینی اور قومی مفادات کی حمایت کریں۔

طلال چوہدری نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کی سابقہ کوششوں کا حوالہ دیتےہوئے کہاکہ وزیرداخلہ محسن نقوی صوبائی نمائندوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کرچکے ہیں۔حکومت پی ٹی آئی کے سیاسی مطالبات تسلیم کرنے کےلیے آمادہ تھی،تاہم انسداددہشت گردی کے سلسلے میں تعاون پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے ایک اور دور سے متعلق مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر ذاتی طور پر غورکیا تھا،اس معاملے پر وفاقی کابینہ میں بھی تبادلۂ خیال کیاگیا۔وزیراعظم نے گزشتہ رات اور نمازِ فجر کےبعد بھی اس تجویز پر بات کی،تاہم بعد ازاں جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے رابطے کے باوجود پیشرفت نہ ہو سکی۔

Back to top button