کیا عمران خان کا انجام بھی ضدی بھٹو والا ہونے والا ہے؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی سیاسی اٹھان ذوالفقار علی بھٹو جیسی تھی اور شاید ان کا انجام بھی ضدی بھٹو جیسا ہو، ان کا کہنا ہے کہ عمران خان خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور کسی کا مشورہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وزارت عظمی سے ہٹائے جانے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری نے بھٹو کی زندگی اور سیاسی زوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول بھٹو کو نہ جنرل ضیاء الحق نے مارا اور نہ عدلیہ نے، بلکہ ان کے زوال کی بنیادی وجہ انکا ضدی پن اور طاقتور فوجی ڈکٹیٹر کے سامنے جھکنے سے انکار تھا۔ انکے مطابق اقتدار سے برطرفی کے باوجود جیل میں قید بھٹو امریکا اور جنرل ضیاء الحق کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔ انہوں نے جنرل ضیاء سے مفاہمت کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق، جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ چلا تو یحییٰ بختیار ان کی قانونی ٹیم کے سربراہ تھے۔ وہ جیل میں بھٹو سے ملاقاتیں کرتے اور ان کے پیغامات اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں تک پہنچاتے تھے۔ جاوید چوہدری نے یحییٰ بختیار کے کردار کا موازنہ عمران خان کے وکلا بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور سلمان صفدر سے کیا ہے، جو کہ ان کے قانونی دفاع اور پیغام رسانی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو وہ ذوالفقار علی بھٹو یحیی بختیار کا مشورہ مانتے تھے اور نہ ہی عمران خان بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کا مشورہ مانتے ہیں۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق بے نظیر بھٹو بھی اپنے والد کی طرح کسی کا مشورہ نہیں مانتی تھیں، اس لیے وہ بھی بھٹو جیسے حالات کا شکار ہوئیں۔ اس کے برعکس، نواز شریف اپنے وکلا کو بات کرنے کا موقع دیتے اور ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں، اس لیے وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں خود کو بچانے میں کامیاب رہے۔ نواز شریف کو جب بھی گرفتار کیا گیا تو انہوں نے ڈیل کی اور ملک سے باہر نکل گئے اور یوں ان کی جان بچی رہی۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق، جب کوئی مقبول سیاسی رہنما خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے اور مشوروں کو نظرانداز کرے تو اس کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ وہ اسی تناظر میں عمران خان کے سیاسی سفر کو بھٹو کے عروج و زوال سے جوڑتے ہیں۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان اور  بھٹو کی شخصیات میں کئی مماثلتیں تھیں۔ دونوں بیرون ملک تعلیم یافتہ، مغربی معاشرے سے واقف، پراعتماد اور عالمی سطح پر معروف تھے۔ دونوں کو عوامی مقبولیت کے ساتھ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل رہی اور اقتدار تک پہنچنے میں طاقتور حلقوں نے اہم کردار ادا کیا۔

تاہم، جاوید چوہدری کے مطابق، عمران خان بھی بھٹو کی طرح اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ ان کے بغیر ملک اور اسٹیبلشمنٹ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوجائیں گے اور ریاستی ادارے ان کے دباؤ کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکیں گے۔ ان کے مطابق، عمران خان کو توقع تھی کہ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا اور برطانیہ پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کریں گے، عالمی مالیاتی ادارے قرض دینا بند کردیں گے، عوام فوجی چھاؤنیوں پر حملے کریں گے اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں میں ان کے حق میں تقسیم پیدا ہوجائے گی۔ انکے بقول، ابتدا میں بعض واقعات نے ان توقعات کو تقویت دی۔ پاکستان کو سفارتی مشکلات اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے اور بعض عدالتی ریمارکس کو عمران خان کے لیے ہمدردی کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا، تاہم یہ صورت حال مستقل نہ رہی۔

جاوید چوہدری کے مطابق، وقت گزرنے کے ساتھ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی، جبکہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات نے بھی سیاسی منظرنامے پر اثر ڈالا۔

PTI نے خود خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت ختم کیسے کروائی؟

ان کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے عمران خان کو یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ریاستی طاقت اور سیاسی حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، لیکن وہ اپنی کرشماتی شخصیت، اعتماد اور انا کے حصار سے باہر نہ نکل سکے۔ جاوید چوہدری کے خیال میں یہی وہ مرحلہ تھا جہاں انہیں اپنے سیاسی فیصلوں پر نظرثانی اور ساتھیوں کے مشوروں کو اہمیت دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے بعض قریبی ساتھیوں اور خیرخواہوں نے انہیں حالات کی نزاکت سمجھانے کی کوشش کی، لیکن انہیں مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق، امریکا سے تعلق رکھنے والے چند دوست جیل میں ملاقات کے لیے گئے تو عمران خان نے انہیں باہر نکالنے کے لیے شور مچایا، جبکہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے مشورہ دینے کی کوشش پر بھی ناراضی ظاہر کی۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ مقبولیت اور کرشماتی شخصیت کے باوجود جو رہنما خود کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں اور اختلافِ رائے برداشت نہیں کرتے، وہ بالآخر ان کا انجام ذوالفقار علی بھٹو والا ہوتا ہے اور شاید عمران خان کا بھی کچھ ایسا ہی انجام ہو۔

Back to top button