خودکشی یا قتل؟میر رضا کی موت کا معمہ اب تک برقرار کیوں؟

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پُراسرار موت کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ حکومتِ سندھ کو پیش کیے جانے کے باوجود حل طلب سوالات میں گھرا ہوا ہے۔ خودکشی یا قتل، مسجد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے 5 گھنٹے غائب ہونے، ایپل واچ اور آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ تک مبینہ رسائی اور کاروباری لین دین سے متعلق ابہام نے تفتیش کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ میر رضا کی موت کیسے ہوئی، اس کے ذمہ دار کون تھے اور ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے اہم سوالات کے تسلی بخش جواب کیوں نہیں ملے۔

میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے نکلے تھے، جبکہ 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر کے قریب ایک ویران مقام سے ملی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں خودکشی کا امکان زیر بحث آیا، لیکن خاندان نے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔ بعد میں قبر کشائی اور طبی معائنے کے معاملے نے موت کی نوعیت سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا۔ خاندان کے وکیل جبران ناصر کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم اور خصوصی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ نے خودکشی کو حتمی طور پر موت کی وجہ قرار نہیں دیا۔ تاہم موت کی اصل نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین تفتیشی شواہد اور قانونی کارروائی سے ہی ممکن ہوگا۔

اس مقدمے کا ایک اہم پہلو مسجد خضرا کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ ہے۔ جبران ناصر کے مطابق 28 جولائی کی شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک کی فوٹیج دستیاب نہیں تھی۔ پولیس نے اس کی وجہ بجلی کی بندش بتائی، جبکہ وکیل کے مطابق کے الیکٹرک کے نمائندوں نے کمیشن کو بتایا کہ متعلقہ مقام پر بجلی کی فراہمی جاری تھی۔ چونکہ خاندان کے مطابق طبی شواہد میں موت کا ممکنہ وقت شام 5 سے 7 بجے کے درمیان بتایا گیا، اس لیے اس ریکارڈنگ کی عدم دستیابی اہم سوال بن گئی ہے۔ تاہم فوٹیج غائب ہونے کی وجہ یا اس کے پیچھے کسی فرد کے کردار کا تعین صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب متعلقہ ریکارڈ اور شواہد کی مکمل جانچ کی جائے۔

ایک سرمئی سوزوکی سوئفٹ بھی تحقیقات کے دوران زیر بحث آئی۔ جبران ناصر کے مطابق یہ گاڑی مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کی نقل و حرکت کے دوران دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار افراد کی موجودگی اور ان کے بیانات کی مزید جانچ ضروری ہے۔ دوسری جانب تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج احمد لاشاری نے کمیشن کو بتایا کہ قتل کے زاویے سے تفتیش کی گئی، لیکن دستیاب فوٹیج اور دیگر ذرائع سے گاڑی کا کسی مخصوص شخص کے ساتھ تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ میر رضا کے موبائل فون کے مبینہ طور پر پھینکے جانے کے مقام سے متعلق پولیس کے مختلف بیانات نے بھی مزید وضاحت کی ضرورت پیدا کی۔

ڈیجیٹل شواہد میں ایپل واچ اور آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ تک رسائی کا معاملہ بھی اہم ہے۔ جبران ناصر کے مطابق میر رضا کی ایپل واچ موت کے بعد مختلف افراد کے پاس رہی اور اسے فوری طور پر محفوظ نہیں کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 31 جولائی کو موصول ہونے والی ای میل میں آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ میں کسی تیسرے فریق کے آلے سے کامیاب لاگ اِن کی اطلاع دی گئی تھی۔ وکیل نے اس رسائی سے منسلک ای میل اور فون نمبر کا تعلق مبینہ طور پر کاروباری شراکت دار احمد بھاردوے سے جوڑا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ بذاتِ خود کسی جرم یا قتل میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اکاؤنٹ تک کس نے رسائی حاصل کی، کیا معلومات دیکھی یا تبدیل کی گئیں اور ڈیجیٹل ریکارڈ سے اس کی تصدیق کیسے ہو سکتی ہے۔

میر رضا کے کاروباری معاملات، قرض خواہوں اور سرمایہ کاری سے متعلق بیانات نے بھی کیس کو پیچیدہ بنایا ہے۔ ان کی بہن علیشباہ کے مطابق سوشل میڈیا پر کاروباری لین دین سے متعلق مختلف فہرستیں گردش کرتی رہیں، جبکہ کمیشن کے سامنے بعض افراد نے اپنے معاملات کو وفلکس کے کاروبار سے منسلک قرار دیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ کاروباری اکاؤنٹس، مارکیٹنگ مواد، ادائیگیوں اور دیگر سامان سے متعلق بعض تبدیلیوں کے وقت اور ذمہ دار افراد کے بارے میں وضاحت ضروری ہے۔ احمد بھاردوے نے کمیشن کے سامنے ایپل واچ اور اس کے نوٹیفکیشنز سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا، لیکن خاندان کے مطابق ان کی وضاحتوں سے تمام سوالات حل نہیں ہوئے۔ ان معاملات کی اہمیت کا تعین ریکارڈ، مالی دستاویزات اور متعلقہ افراد کے بیانات کی تصدیق کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

خاندان اور اس کے وکیل کا مؤقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی سے بعض اہم سوالات ریکارڈ پر ضرور آئے، لیکن اس سے قتل کے ذمہ داروں کی شناخت یا گرفتاری کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ جبران ناصر کے مطابق کمیشن کی رپورٹ چارج شیٹ نہیں ہوتی؛ ملزمان کی شناخت، شواہد اکٹھے کرنا، پوچھ گچھ، گرفتاری اور عدالت میں مقدمہ پیش کرنا تفتیشی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے خاندان مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس میں مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کے نمائندے شامل ہوں۔

میر رضا علی کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تفتیش کسی پیشگی مفروضے کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھے۔ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی عدم دستیابی، ڈیجیٹل اکاؤنٹ تک رسائی، موبائل فون کے مقام، گاڑی کی نقل و حرکت اور کاروباری معاملات سے متعلق ہر سوال کی آزادانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے۔ جب تک شواہد کی بنیاد پر موت کی نوعیت، محرکات اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا، نہ خاندان کے خدشات دور ہوں گے اور نہ ہی عوامی اعتماد بحال ہو سکے گا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر متعلقہ پہلو کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔

Back to top button