PTIکا13سالہ دور اقتدار، عوام بنیادی سہولیات تک سے بھی محروم کیوں؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان تحریک انصاف کی تقریباً 13 سالہ حکمرانی، طرزِ حکومت اور سیاسی حکمتِ عملی کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت اسے امن و امان کی خراب صورت حال سے جوڑتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی انتقام اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیتی ہے۔ تاہم، سیاسی کشمکش سے ہٹ کر بنیادی سوال یہ ہے کہ طویل اقتدار کے باوجود صوبے میں امن، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے مسائل کس حد تک حل ہوئے؟ کیا پی ٹی آئی کی حکمرانی نے عام شہری کی زندگی میں پائیدار تبدیلی پیدا کی یا سیاسی محاذ آرائی نے حکومتی ترجیحات کو متاثر کیا؟
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پی ٹی آئی کی حکمرانی کا اہم امتحان رہی ہے۔ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتیں 2023 میں 941 سے بڑھ کر 2024 میں 1,363 ہوگئیں، جبکہ واقعات کی تعداد 312 سے بڑھ کر 702 تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار انسداد دہشت گردی کی حکمتِ عملی، پولیس کی استعداد اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان مسلسل کشیدگی نے صوبائی معاملات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود صوبائی حکومت نے مالی وسائل، ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز، سکیورٹی اور عوامی منصوبوں کے لیے وفاق کے ساتھ کتنی مؤثر رابطہ کاری کی۔پی ٹی آئی صحت کارڈ، پشاور بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی کو اپنی نمایاں کامیابیوں میں شمار کرتی ہے۔ تاہم، ان منصوبوں کی مجموعی افادیت جانچنے کے لیے صحت کارڈ سے مستفید ہونے والے خاندانوں، اسپتالوں کی ادائیگیوں، بی آر ٹی کے اخراجات اور مسافروں کی تعداد، جبکہ شجرکاری منصوبے میں پودوں کی بقا اور جنگلات کے رقبے سے متعلق قابلِ تصدیق اعداد و شمار کا جائزہ ضروری ہے۔ نمایاں منصوبوں کی موجودگی اہم ہے، لیکن ان کی کامیابی کا تعین نتائج اور عوام کو پہنچنے والے فائدے سے ہونا چاہیے۔
تقریباً 13 سالہ حکمرانی کا جائزہ صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پشاور میں ٹریفک، صفائی، نکاسیٔ آب اور صاف پانی کے مسائل کے ساتھ دور دراز اضلاع اور ضم شدہ علاقوں میں صحت، تعلیم، سڑکوں اور روزگار کی صورت حال بھی اہم ہے۔ ترقیاتی بجٹ، جاری کیے گئے فنڈز، مکمل ہونے والے منصوبوں اور بنیادی سہولتوں کے ضلع وار اعداد و شمار سے معلوم ہو سکتا ہے کہ سرکاری وسائل عوام تک کس حد تک پہنچے اور کن علاقوں کو زیادہ توجہ ملی۔
تعلیمی اداروں کا معیار، اسکولوں میں بنیادی سہولتیں، جامعات کی مالی مشکلات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے بنیادی پیمانے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور میں کتنے اداروں کی حالت بہتر ہوئی، تعلیمی نتائج میں کیا تبدیلی آئی اور روزگار کے کتنے پائیدار مواقع پیدا ہوئے، ان سوالات کے جواب سرکاری اعداد و شمار اور تقابلی جائزے سے ملنے چاہییں۔
مجموعی طور پر، خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ صوبائی خودمختاری، امن و امان اور سیاسی اختیارات سے متعلق ایک اہم تنازع ہے۔ لیکن اس سیاسی کشمکش کے ساتھ پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کا غیر جانب دارانہ جائزہ بھی ضروری ہے۔ اصل پیمانہ یہ نہیں کہ کسی جماعت نے کتنے منصوبوں کا افتتاح کیا یا کتنے سیاسی احتجاج کیے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے دور میں شہریوں کو کتنا تحفظ ملا، بنیادی سہولتوں تک رسائی کتنی بہتر ہوئی اور عوام کی زندگی میں کتنی پائیدار تبدیلی آئی۔
