PTI نے خود خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت ختم کیسے کروائی؟

پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی، اندرونی اختلافات اور مسلسل اقتدار سے محرومی نے جماعت کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق پی ٹی آئی نے گزشتہ 4 برس کے دوران سیاسی غلطیوں اور غیر مؤثر حکمت عملی کے باعث اپنے لیے مشکلات پیدا کیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو خطرے میں ڈالنے میں بھی جماعت کی اپنی پالیسیوں کا کردار رہا۔ ان کے بقول، پارٹی نے اپنے خلاف پابندی کی راہ ہموار کرنے کے حالات خود پیدا کیے ہیں۔

نجم سیٹھی نے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور مقامی سیاست دانوں اور ڈیجیٹل کارکنوں کے درمیان اختلافات جماعت کی سیاسی سمت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک مقبول جماعت کے لیے مسلسل سیاسی نقصانات اٹھانا اس کی قیادت کی حکمت عملی اور فیصلہ سازی پر سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔

نجم سیٹھی کے خیال میں خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ بھی پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مارچ کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے تھے تو پارٹی کی مرکزی قیادت ان کے ساتھ کیوں موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق، حکومت نے بھی ممکنہ پیش رفت روکنے کے لیے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی، جس سے تصادم اور سیاسی دباؤ کے خدشات بڑھ گئے۔

نجم سیٹھی نے پی ٹی آئی کے اندر مختلف رہنماؤں اور گروپوں کے اختلافات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کے مطابق، جماعت میں واضح سیاسی سمت اور مشترکہ حکمت عملی کا فقدان کارکنوں میں مایوسی پیدا کر رہا ہے۔ پارٹی کے لیے یہ چیلنج مزید سنگین ہوسکتا ہے، کیونکہ سیاسی دباؤ، مقدمات اور گرفتاریوں کے خدشات کے باعث اس کی سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔

مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اندرونی اختلافات کم کرکے اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرتی ہے یا محاذ آرائی کا راستہ برقرار رکھتی ہے۔ تاہم، کسی جماعت پر پابندی کا امکان محض سیاسی تجزیے سے طے نہیں ہوتا؛ اس کے لیے قانونی بنیاد، آئینی تقاضے اور متعلقہ عدالتی و قانونی کارروائی اہم ہوتی ہے۔

Back to top button