ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی مکمل خاموش کیوں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے مؤثر احتجاجی مزاحمت سامنے نہ آنے نے پارٹی کی سیاسی حکمت عملی اور زمینی طاقت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسلام آباد پر چڑھائی، لاکھوں افراد کو جمع کرنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے بڑے احتجاج کے اعلانات کے باوجود نہ خیبر پختونخوا میں کوئی وسیع عوامی تحریک اٹھی اور نہ پنجاب سے متوقع بڑے قافلے روانہ ہوئے۔ پارٹی رہنما پس منظر میں چلے گئے، لبرٹی چوک لاہور میں احتجاج کی کال بھی مؤثر ثابت نہ ہوئی اور کارکنوں میں غیر یقینی صورت حال برقرار رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی قیادت حکومتی کارروائیوں کے خدشات سے پیچھے ہٹ گئی، یا پارٹی کے بلند بانگ دعوے عملی تیاری اور عوامی شرکت کے بغیر کیے جا رہے تھے؟
مبصرین کے مطابق تحریک انصاف نے 27 ستمبر اور پھر 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلانات کیے، لیکن 10 اکتوبر تک سرگرمیاں زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود رہیں۔ پنجاب سے بڑے قافلوں کی روانگی کی توقع پوری نہ ہوئی، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے کسی بڑے احتجاج کی منظم صورت سامنے نہیں آئی۔
سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق کے مطابق، سہیل آفریدی کا 40 لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے کا دعویٰ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ ان کے بقول، پارٹی کے بعض رہنما اب خود اپنی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کارکن عمران خان کے لیے بھی پہلے کی طرح باہر نہیں نکلیں گے۔ منیب فاروق نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے احتجاجوں میں کارکنوں کے جانی و مالی نقصان کے باوجود پارٹی کو خاطر خواہ سیاسی فائدہ نہیں ہوا، جس کے باعث رہنماؤں اور کارکنوں میں دوبارہ بڑے احتجاج کے حوالے سے ہچکچاہٹ پیدا ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت طویل عرصے سے پارٹی کے احتجاجی بیانیے اور تنظیمی سرگرمیوں کا اہم سہارا رہی ہے۔ لیکن ایمرجنسی کے بعد اگر پارٹی اپنے سیاسی مرکز میں بھی بڑے اجتماعات منعقد نہیں کر سکی تو اس کی تنظیمی صلاحیت، قیادت کے فیصلوں اور عوامی حمایت کو متحرک کرنے کے طریقۂ کار کا جائزہ ضروری ہے۔ تاہم، محدود احتجاج کو عوامی حمایت کے مکمل خاتمے کا ثبوت قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔
پنجاب میں بھی صورت حال مختلف دکھائی دی، جہاں لبرٹی چوک لاہور میں احتجاج کی کال کے باوجود کوئی بڑا اجتماع سامنے نہیں آیا۔ ایک رکن قومی اسمبلی کے مطابق، انہیں صوابی پہنچنے کی تیاری کا کہا گیا تھا، لیکن ایمرجنسی کے بعد آئندہ لائحۂ عمل کے بارے میں واضح ہدایات نہیں ملیں۔ اس صورت حال نے پارٹی کے اندر رابطہ کاری، ذمہ داریوں کی تقسیم اور فیصلہ سازی کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین قریشی کے مطابق، پنجاب میں سخت کارروائیوں، گرفتاریوں اور دفعہ 144 کے نفاذ جیسے عوامل احتجاج کو مشکل بناتے ہیں۔ ان کا مؤقف اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں احتجاج کے حالات یکساں نہیں۔ اس لیے عدم احتجاج کی وجوہات میں قیادت کی حکمت عملی کے ساتھ انتظامی پابندیوں اور گرفتاریوں کے خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں، تحریک انصاف کے لیے بنیادی چیلنج اب محض احتجاج کی کال دینا نہیں بلکہ اسے واضح حکمت عملی، منظم تنظیمی رابطوں اور حقیقی عوامی شرکت کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ اگر قیادت کے اعلانات اور عملی اقدامات میں فاصلہ برقرار رہا تو پارٹی کی سیاسی ساکھ اور کارکنوں کے اعتماد پر مزید سوالات اٹھیں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ موجودہ خاموشی عارضی ہے یا تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ۔
