خیبرپختونخوا:PTIدور اقتدار میں دہشتگردوں نے پنجے کیسے گاڑے؟

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی مسلسل لہر، پولیس اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی شہادتوں اور حساس اضلاع میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال نے صوبائی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی اور انتظامی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 2013 سے مختلف ادوار میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے باوجود دہشت گردی کے خطرات کا برقرار رہنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتی اقدامات، سیکیورٹی انتظامات اور وسائل کے استعمال کا مؤثر جائزہ لیا جائے۔
مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اور ضم شدہ اضلاع دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، لکی مروت اور ٹانک میں سیکیورٹی اداروں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ افغانستان سے ملحق سرحدی علاقوں کی جغرافیائی صورت حال اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کے 26 اضلاع کو دہشت گردی کے تناظر میں ہارڈ ایریاز قرار دیا ہے۔ یہ صورت حال پولیس کی استعداد کار بڑھانے، جدید آلات فراہم کرنے، خالی آسامیوں پر بھرتیاں کرنے، پولیس چوکیوں کو محفوظ بنانے اور انٹیلی جنس نظام مؤثر بنانے کی ضرورت واضح کرتی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دہشت گرد حملوں کے دوران 159 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ پولیس پر 536 حملے رپورٹ کیے گئے۔ اسی طرح 2026 کے ابتدائی 6 ماہ میں 122 پولیس اہلکاروں کی شہادت کا دعویٰ سامنے آیا۔ یہ اعداد و شمار پولیس اہلکاروں کے تحفظ اور سیکیورٹی انتظامات کی بہتری کو ایک فوری ضرورت بناتے ہیں، تاہم مختلف ادوار اور رپورٹوں کے اعداد و شمار کا تقابل کرتے وقت ان کے ماخذ اور طریقۂ شمار کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے مطابق گزشتہ 2 برس میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے تقریباً 6,200 واقعات پیش آئے جن میں 1,200 افراد جان سے گئے۔ ان کے بقول افغان شہری 37 خودکش حملوں میں ملوث تھے۔ یہ اعداد و شمار ان سے منسوب دعوے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ رپورٹوں سے تقابل ضروری ہے۔ دہشت گردی کے اسباب میں سرحد پار سرگرمیوں کے علاوہ علاقائی حالات اور وفاقی و صوبائی سطح پر سیکیورٹی پالیسیوں کا کردار بھی زیر بحث رہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کے تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ حساس اضلاع میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کو کس حد تک مضبوط بنایا گیا، انہیں کتنے وسائل فراہم کیے گئے اور ان اقدامات کے عملی نتائج کیا نکلے۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کسی ایک صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں، لیکن پولیس کی تیاری، مقامی سطح پر سیکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داریوں کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے محض اجلاسوں اور بیانات کے بجائے قابلِ پیمائش اقدامات، شفاف احتساب، مؤثر وفاقی و صوبائی تعاون اور متاثرہ اضلاع کے لیے واضح حکمت عملی درکار ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اہم پیمانہ یہ ہے کہ شہریوں کی جان و مال کتنی محفوظ ہوئی، پولیس کو کتنے مؤثر وسائل ملے اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی لانے کے لیے کیا عملی پیش رفت ہوئی۔
