تحریک انصاف میں بغاوت، قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ

 

 

 

 

 

سہیل آفریدی کا لانگ مارچ ناکام ہونے اور خیبر پختون خوا حکومت کی معطلی کے بعد تحریک انصاف کے اندر ان ناکامیوں کے ذمہ دار پارٹی عہدے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو عہدوں سے برطرف کرنے کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اسکے علاوہ مذاکرات کی ناکامی پر محمود خان اچکزئی کے کردار پر بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔ یعنی عمران خان کی جماعت کو اب بیرونی سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ اندرونی اختلافات کا بھی سامنا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کے لانگ مارچ شروع کرنے کے فیصلے اور اس کی ناکامی اور خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورت حال کے دوران قیادت مؤثر لائحہ عمل دینے میں ناکام رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کا ایجنڈا لے کر شروع کیا گیا تھا وہ صوبائی حکومت کی برطرفی پر منتج ہوا۔ ایسے میں پارٹی کے اندر سے بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیے جانے کی اطلاع بھی ہے۔

 

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں جبکہ ان کی بہنیں بھی گرفتار ہیں اور کوئی بھی شخص اس پوزیشن میں نہیں کہ پارٹی چیئرمین اور سیکرٹری جنرل کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔ پارٹی کے بعض حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب خیبر پختونخوا میں حکومت کو بڑے سیاسی اور آئینی چیلنج کا سامنا تھا تو اس کے خلاف بروقت اور مؤثر قانونی حکمت عملی کیوں اختیار نہیں کی گئی۔

آفریدی حکومت دہشت گردی میں اضافے کا باعث کیسے بنی؟

سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختون خواہ حکومت کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے پارٹی قیادت کی فیصلہ سازی کی صلاحیت اور بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کے حوالے سے ایک اور اہم اعتراض بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ ہے۔ پارٹی ذرائع سے منسوب دعوؤں کے مطابق، بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ موجودہ قیادت عمران خان تک رسائی کے معاملے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔

 

حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے مابین ہونے والے مذاکرات کی ناکامی نے بھی تحریک انصاف کے اندر اختلافات کو نمایاں کیا ہے۔ پارٹی کے بعض رہنما محمود خان اچکزئی کے کردار اور مذاکراتی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کیے بغیر کسی ایک شخصیت کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں، تاہم اس معاملے پر اختلافات پارٹی کی فیصلہ سازی اور سیاسی حکمت عملی میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پارٹی قیادت کو گرفتار کارکنوں کی قانونی معاونت کے معاملے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔

 

پارٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت سینکڑوں پارٹی کارکنان مختلف مقدمات میں قید ہیں اور انہیں مؤثر قانونی معاونت نہیں مل رہی۔ پارٹی کارکنوں کے خلاف مقدمات کی پیروی میں ناکامی نے بھی دیگر ورکرز کو بددل کر دیا ہے اور اسی لیے لانگ مارچ میں بہت کم تعداد میں لوگ باہر نکلے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، تحریک انصاف کا موجودہ بحران صرف چند عہدے داروں کی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کی مجموعی حکمت عملی، تنظیمی نظم و ضبط اور قیادت پر اعتماد کا امتحان بھی ہے۔ لانگ مارچ کی ناکامی، خیبر پختونخوا کی صورت حال، مذاکرات میں تعطل اور کارکنوں کی قانونی معاونت کے معاملات نے پارٹی کو کئی محاذوں پر مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کرے اور اندرونی اختلافات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔

 

اب تحریک انصاف کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ قیادت اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا اعتماد بحال کر پائے گی یا بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کی تبدیلی کا مطالبہ باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کر لے گا۔ عمران خان سے مشاورت، گورنر راج کے خلاف قانونی پیش رفت، مذاکراتی حکمت عملی اور کارکنوں کے مسائل کا حل پارٹی کی آئندہ سمت متعین کرنے میں اہم ہوں گے۔ اگر قیادت بروقت فیصلے کرنے اور اندرونی اختلافات دور کرنے میں ناکام رہی تو پارٹی کو بیرونی سیاسی دباؤ کے ساتھ اپنی صفوں میں بڑھتی بے چینی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button