خیبر پختونخواہ کے اسمبلی اراکین کو ونڈر بوائے کی تلاش

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی معطلی کے بعد پی ٹی آئی کے منتخب ارکان کو ایک ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے نام پر فروری 2024ء کے انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کی اکثریت اپنے ’’بانی قائد‘‘ سے بیگانہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سہیل آفریدی کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد ارکان اسمبلی اب اپنی صفوں میں ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو عسکری فیصلہ سازوں کے لیے قابل قبول ہو کیونکہ عمران خان کی مشکلات اب ان کا دردِ سر نہیں رہیں۔
نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ارکان کو امید ہے کہ سہیل آفریدی کی جگہ کسی دوسرے رکن کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے پر اتفاق ہوجائے تو 90 روز بعد صوبائی اسمبلی بحال ہو سکتی ہے، تاہم وہ اس امید کو بچگانہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول ارکان کی توجہ اب عمران خان کے بجائے اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے اور موجودہ بھنور سے نکلنے کے لیے قابل قبول متبادل تلاش کرنے پر ہے۔
انہوں نے اس صورت حال کا موازنہ 12 اکتوبر 1999ء سے کرتے ہوئے یاد دلایا کہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بجائے معطل رکھی تھی۔ آئین معطل کرکے خود کو چیف ایگزیکٹو قرار دینے والے مشرف نے مارشل لا کے باضابطہ نفاذ سے گریز کیا، جبکہ صدر رفیق تارڑ بھی اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا ایک مقصد نئے انتخابات کی فوری ضرورت سے بچنا تھا۔
نصرت جاوید کے مطابق 17 اکتوبر 1999ء کو قوم سے خطاب میں جنرل مشرف نے ’’حقیقی جمہوریت‘‘ کے قیام کے لیے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کو اولین ترجیح قرار دیا۔ اس وقت معطل قومی اسمبلی کے متعدد ارکان کو امید تھی کہ مشرف جمہوری اداروں کی چھتری برقرار رکھنے کے لیے اسمبلی بحال کریں گے، لیکن اس کے لیے نواز شریف کی جگہ نئے وزیراعظم پر اتفاق ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ تب مسلم لیگ (ن) کے ارکان بھی نواز شریف کے متبادل کی تلاش میں مختلف ناموں پر غور کر رہے تھے۔ بعض خورشید محمود قصوری کو موزوں امیدوار سمجھتے تھے، جبکہ دوسروں کی نظر میں میاں اظہر بہتر انتخاب تھے۔ پارٹی کے متعدد ارکان نے اکتوبر 1999ء سے کئی ماہ قبل ہی میاں اظہر سے خفیہ روابط شروع کردیے تھے، تاہم وہ نواز شریف کے ساتھ دیرینہ خاندانی تعلقات کے باعث کھل کر انکے خلاف آنے سے گریز کرتے رہے۔
نصرت جاوید کے مطابق بعض ارکان قومی اسمبلی کو سابق سپیکر سید فخر امام سے بھی وزارت عظمیٰ کی امید تھی۔ اس سے قبل 1985ء میں الٰہی بخش سومرو کے وزیراعظم بننے کی توقعات بھی ظاہر ہوئی تھیں، لیکن پیر پگاڑا کی سفارش پر محمد خان جونیجو کو یہ منصب دے دیا گیا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار کے بحران میں ارکان اسمبلی اپنے قائد کی حمایت کے بجائے متبادل قیادت اور سیاسی امکانات کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کے بیشتر ارکان نے مشکل وقت میں نواز شریف کا ساتھ دینے کے بجائے نئے وزیراعظم کی تلاش شروع کردی تھی تاکہ اسمبلی کی ممکنہ بحالی کی صورت میں نئے سیاسی بندوبست کا حصہ بن سکیں۔ جماعت کے اندر حمایت کمزور پڑنے کے بعد نواز شریف بیرونی دوستوں سے رابطوں پر مجبور ہوئے اور بالآخر سعودی عرب جلاوطنی اختیار کرلی۔
نصرت جاوید کے بقول، اقتدار کے ایسے بحرانوں میں سیاسی وفاداریاں بدلنے لگتی ہیں اور ارکان اپنی بقا کے راستے تلاش کرتے ہیں۔
نصرت جاوید کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی معطلی کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان کی کیفیت بھی اسی تاریخی صورت حال سے مماثلت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو ناکام لانگ مارچ اور خیبر پختون خواہ حکومت کی معطلی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد اب ارکان کے پی اسمبلی ایک ایسے ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش میں ہیں جو عسکری فیصلہ سازوں کو قابل قبول ہو اور اسمبلی کی بحالی کی امید پیدا کر سکے۔ ان کے بقول، عمران خان کے نام پر منتخب ہونے والے ان ارکان اسمبلی کی ترجیح اب اپنے قائد سے زیادہ اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنانا اور موجودہ بھنور سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔
