کیا ڈیانا ریپ کیس کا ملزم بھی پولیس مقابلے میں پار ہو گا؟

آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مرکزی ملزم احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کے باوجود اسے لاہور سیشن کورٹ کے باہر سے حراست میں لیے جانے کے بعد سے اس کا سراغ نہیں مل رہا۔ ملزم کے وکیل نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ احمد تنویر کو فوری بازیاب کرا کے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ احمد کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا جا سکتا ہے، لہٰذا اس کیس میں فوری کارروائی کی جائے۔
ملزم کے وکیل کا موقف ہے کہ احمد تنویر کو وزیراعلی پنجاب کے ایما پر حراست میں لیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔ یاد رہے کہ مریم نواز نے اس کیس کے تناظر میں ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امیر خاندان سے تعلق رکھنے والے ملزم نے متاثرہ خاتون کو الزامات واپس لینے کے عوض ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے دینے کی پیش کش کی، حالانکہ اس کا دفعہ 164 کے تحت بیان پہلے ہی ریکارڈ ہو چکا تھا۔ وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا تھا کہ زیادتی کے کسی ملزم کو دولت یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کے مطابق ڈیانا 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھیں۔ فیصل آباد میں پانچ روز قیام کے بعد وہ لاہور آئیں، جہاں ان کے بقول سکردو جانے کے ارادے سے انہوں نے نمرہ اور مسکان سے رابطہ کیا۔ ڈیانا نے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں خواتین انہیں بحریہ ٹاؤن کے ایک اپارٹمنٹ میں لے گئیں، جہاں احمد تنویر، محسن اور علی زین سمیت مرد موجود تھے۔ انکے مطابق انہیں نشہ آور چیز پلانے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کے موبائل فون اور دیگر سامان بھی چھین لیا گیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہیں گاڑی میں غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
اس کیس میں احمد تنویر، محسن اور علی زین کے نام سامنے آئے تھے۔ ڈیانا نے 28 ستمبر کو مجسٹریٹ کے سامنے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے تین مردوں پر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ رات 11 بجے ایک کیفے میں مسکان سے ملیں، جس کے بعد وہ انہیں بحریہ ٹاؤن لے گئیں۔ رات تقریباً دو بجے احمد تنویر اور محسن وہاں پہنچے، جبکہ بعد میں علی زین سمیت مزید افراد اپارٹمنٹ میں آ گے۔ ڈیانا نے الزام لگایا کہ شراب پینے سے انکار پر انہیں زبردستی روک لیا گیا، محسن نے انہیں الگ کمرے میں بند کیا اور علی زین نے انہیں دھمکیاں دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیگ میں دو لاکھ روپے نقد، آئی فون 13 پرو میکس اور ایک موبائل فون تھا، یہ سب ان سے چھین لیا گیا۔
لیکن اب سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ڈیانا نے کہا کہ وہ اپنا بیان 9 اکتوبر کو ریکارڈ کروا رہی ہیں اور احمد تنویر کو بے قصور قرار دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احمد نے نہ تو ان کے ساتھ زیادتی کی اور نہ ہی ان کا موبائل فون چھینا۔ خاتون نے اپنے پہلے بیان کو دباؤ کا نتیجہ قرار دیا اور مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد 23 اکتوبر کو ڈیانا کے دو مذید ویڈیو بیانات سامنے آئے، جن میں انہوں نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دیا اور محسن اور علی کو معاف کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ملزمان کے خلاف لاہور پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا۔
یاد ریے کہ اسی روز لاہور کی سیشن عدالت میں احمد تنویر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ملزم کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ پیش ہوئے اور عدالت نے عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کی۔ ادھر ڈیانا کے وکیل نے درخواست دی کہ خاتون کا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا جائے کیونکہ انہیں پاکستان کا ویزا نہیں دیا جا رہا۔ عدالت نے اس درخواست پر دلائل طلب کیے اور سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی۔ لیکن عدالتی کارروائی کے فوری بعد سی سی ڈی کے سادہ لباس اہلکاروں نے احمد تنویر کو سیشن کورٹ لاہور کے باہر سے حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بھائی اور دیگر ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا، تاہم پنجاب پولیس یا سی سی ڈی نے ملزم کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
چنانچہ اب ملزم کے وکیل نے بازیابی کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت کی جانب سے 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت میں توسیع اور گرفتاری سے تحفظ کے باوجود احمد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔ درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جا سکتا ہے، لہذا اسے فوری بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس پر الزام عائد کیا تھا کہ ملزم کی جانب سے ڈیانا کو ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے رشوت آفر کرنے کے علاوہ ضمانت دینے والے جج کو بھی رشوت دی گئی۔ مریم نواز کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو انصاف کے نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھیں گے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا نے کہا یے کہ سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کے ویڈیو بیانات سے کیس کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ڈیانا کا دفعہ 164 کے تحت بیان بھی ریکارڈ ہو چکا ہے اور ملزمان اعتراف جرم بھی کر چکے ہیں۔ اب 27 اکتوبر کو عبوری ضمانت سے متعلق اگلی عدالتی کارروائی سے پہلے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ احمد تنویر کہاں ہے اور اسے کس قانونی اختیار کے تحت حراست میں لیا گیاہے۔
