تحریک انصاف کے اندر سانپ اور سنپولیے کی لڑائی

 

 

 

خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کے بعد سے تحریک انصاف کے اندرونی خلفشار میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے، صورتحال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ اب سینیئر ترین پارٹی رہنما ایک دوسرے کو سانپ اور سنپولیے قرار دے رہے ہیں۔

 

تحریک انصاف میں سانپ اور سنپولیے کی بحث نے تب زور پکڑا جب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سازشی بیانیہ چلانے والوں کو سانپ اور سنپولے قرار دے دیا۔ اس پر سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور صوبائی اسمبلی کے ارکان نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ سے شواہد سامنے لانے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، اس پھڈے سے پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

 

سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر اتفاق رائے کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر جمہوری فیصلہ ساز سرگرم ہیں اور ایک ایسا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 68 ارکان پر مشتمل ایک گروپ بانی چیئرمین عمران خان اور پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کرنے والا ہے۔ انہوں نے اس الزام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ مذکورہ گروپ نے آخری دنوں میں سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے رابطہ منقطع کرکے ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ سلمان اکرم راجہ نے کارکنوں اور رہنماؤں پر زور دیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ایسے بیانیے پر یقین نہ کریں۔

 

سلمان اکرم راجہ کے بیان پر گنڈاپور نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انہیں پارٹی رہنماؤں یا منتخب نمائندوں کو سانپ اور سنپولے قرار دینے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی گروپ پر سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے رابطہ منقطع کرنے یا گورنر راج کی راہ ہموار کرنے کا الزام ہے تو متعلقہ افراد کے نام اور شواہد سامنے لائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اشاروں کنایوں میں الزامات لگانے کے بجائے واضح کیا جائے کہ پارٹی کے اندر کون سازش کر رہا ہے۔ گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں معاملات سمجھ نہیں آ رہے تو سمجھانے کے طریقے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کی غلطیوں کا خمیازہ دوسروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کے سخت مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کا اندرونی اختلاف اب محض تنظیمی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ مرکزی قیادت اور صوبائی رہنماؤں کے درمیان اعتماد کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

 

دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے وضاحت کی کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کا تعلق تحریک انصاف کے کسی رکن سے نہیں بلکہ پارٹی سے باہر موجود ان غیر جمہوری فیصلہ سازوں سے تھا جو ان کے بقول جھوٹا بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی نے ان کے بیان کو اپنے اوپر کیوں لیا، جبکہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان اور پارلیمنٹیرین عمران خان کے وفادار ہیں۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا اور صوبائی ارکان نے بھی ان کے بیان پر تحفظات کا اظہار کیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی ارکان کا مؤقف ہے کہ مشکل سیاسی حالات میں منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر الزامات لگانا افسوس ناک ہے۔ ان تحفظات نے صوبائی قیادت کے کردار، آئندہ وزیر اعلیٰ کی نامزدگی اور پارٹی کے تنظیمی فیصلوں میں منتخب نمائندوں کی حیثیت کے حوالے سے اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

 

ادھر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارٹی میں مکمل اتفاق رائے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کوئی رہنما یا فرد اختلافی بات باہر نہیں کرے گا۔ تاہم، مرکزی سیکرٹری جنرل، سابق وزیر اعلیٰ اور صوبائی ارکان کے متضاد مؤقف نے اس دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پارٹی کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ صوبائی قیادت اور آئندہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب جیسے اہم معاملات پر اختلافات کو کس طرح ختم کیا جائے اور مرکزی و صوبائی رہنماؤں کے درمیان اعتماد بحال کیا جائے۔

عمران خان کو پارٹی فیصلہ سازی سے مائنس کرنے کی سازش

تحریک انصاف میں تازہ تنازعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی آئندہ قیادت اور تنظیمی فیصلوں پر اختلافات اب سوشل میڈیا بیانات سے نکل کر براہ راست رہنماؤں کے باہمی تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایک طرف مرکزی قیادت مبینہ سازشی بیانیے کے پیچھے غیر جمہوری فیصلہ سازوں کی نشاندہی کر رہی ہے، تو دوسری طرف صوبائی رہنما مطالبہ کر رہے ہیں کہ منتخب نمائندوں کی وفاداری پر سوال اٹھانے کے بجائے الزامات کے ثبوت پیش کیے جائیں۔

 

حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کو ایک طرف صوبے میں اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنا ہے تو دوسری طرف مرکزی اور صوبائی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ آئندہ وزیر اعلیٰ کی نامزدگی اور صوبائی تنظیم کے معاملات اس اختلاف کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اگر پارٹی قیادت تمام فریقوں کو اعتماد میں لے کر کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

 

اب بنیادی سوال یہی ہے کہ تحریک انصاف کو اندر سے ڈسنے والے مبینہ ’’سانپ اور سنپولے‘‘ کون ہیں اور کیا پارٹی قیادت ان کی نشاندہی کے لیے شفاف تحقیقات کرے گی؟ یا عمران خان کی جماعت میں مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کے درمیان جاری الزامات کی یہ جنگ پہلے سے مشکلات کا شکار پارٹی کو مزید انتشار سے دوچار کر دے گی؟

 

Back to top button