کیا بھائی لوگ ملک میں نیا سیاسی ڈھانچہ لانے والے ہیں؟

معروف صحافی اور مصنف زاہد حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان میں آمرانہ طرز حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے کا راستہ ہموار کر دیا ہے جس سے پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل مزید تاریک ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ متنازع آئینی ترامیم اور صوبائی حکومت کے خاتمے کی منظوری دے کر اپنے اختیارات سے پہلے ہی دستبردار ہو چکی ہے۔
عمران خان سے ہمدردی رکھنے والے زاہد حسین نے ان خیالات کا اظہار معروف انگریزی روزنامہ ڈان میں اپنے تجزیے میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام صرف قانون سازی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم معاملات پر بحث اور قومی مفادات کا تحفظ بھی ہے، مگر پاکستان میں منتخب ایوان ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو رہا۔ ان کے بقول، پارلیمنٹ کی یہ بے عملی ملک میں جمہوری اداروں کی کمزوری اور آمرانہ طرز حکمرانی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا واضح ثبوت ہے۔
زاہد حسین کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے چند گھنٹوں میں خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت ختم کرنے اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دے دی، لیکن اس اہم فیصلے پر کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ جس صوبائی حکومت کو اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل تھی، اسے ہٹانے اور وزیر اعلیٰ سمیت حکومتی ارکان کی گرفتاریوں کے معاملے پر پارلیمنٹ نے محض مہر لگانے کا کام کیا۔ بظاہر فیصلہ پہلے ہی کہیں اور ہو چکا تھا اور ارکان سے اس کی توثیق کرائی گئی، حالانکہ انہیں شاید یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایمرجنسی کے لیے استعمال کی گئی آئینی دفعات اس صورت حال پر لاگو بھی ہوتی ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان ترامیم کا مسودہ اجلاس سے چند گھنٹے پہلے وزرا کو دکھایا گیا اور ارکان کو ایوان میں فراہم کیا گیا، جس کے باعث بیشتر ارکان نے اسے پڑھے بغیر ہی منظوری دے دی۔ زاہد حسین کے مطابق یہ پارلیمانی تاریخ کے شرمناک واقعات میں سے ایک ہے، جبکہ آزادی اظہار پر قدغنیں لگانے والے قوانین کی منظوری نے بھی پارلیمنٹ کے کردار کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف حکومتی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے زاہد حسین نے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تعاون نہ کرنے کا الزام تو لگایا جا رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ وفاقی حکومت کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کی کوئی جامع پالیسی بھی ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق نہ اس پالیسی پر کابینہ میں سنجیدہ غور ہوتا دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ گزشتہ 25 برس میں ریاست دہشت گردی کے خلاف کوئی جامع حکمت عملی وضع نہیں کر سکی اور آج بھی بڑھتے ہوئے حملوں کے باوجود انحصار زیادہ تر فوجی کارروائیوں پر ہے، جو اس خطرے پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
زاہد حسین نے بلوچستان کی صورت حال کو بھی ریاستی پالیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ 25 برس سے علیحدگی پسند عسکریت پسندی کی لپیٹ میں ہے اور ریاست کئی علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے، مگر اس سنگین مسئلے پر بھی پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ کا مؤثر کردار نظر نہیں آتا۔ ان کے بقول، خیبر پختونخوا میں بدامنی کا ذمہ دار برطرف صوبائی حکومت کو ٹھہرایا جا رہا ہے، لیکن بلوچستان کے حالات کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے متعلق فیصلے بھی منتخب سویلین حکومت اور پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کے اس اہم معاملے پر بھی پارلیمنٹ سے توثیق نہیں کرائی گئی، جبکہ ترکیے میں معاہدے کی پارلیمانی منظوری کا عمل ابھی باقی ہے۔ زاہد حسین کے مطابق اس معاہدے کے پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، لیکن اس پر بحث تک نہیں ہوئی۔ دوسری جانب ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی باتیں ہو رہی ہیں اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کو اس سمت میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس عمل سے پارلیمنٹ کے اختیارات مزید محدود ہونے اور آمرانہ طرز حکمرانی مستحکم ہونے کا خدشہ ہے۔
تحریک انصاف کے اندر سانپ اور سنپولیے کی لڑائی
زاہد حسین نے خبردار کیا ہے کہ گورنر راج، عدلیہ کی آزادی محدود کرنے والی آئینی ترامیم اور میڈیا پر قدغنیں لگانے والے قوانین کی حمایت کرکے حکمران اتحاد جمہوری نظام کو کمزور کر رہا ہے، جس کی اسے بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ ان کے بقول، متنازع مینڈیٹ پر قائم پارلیمنٹ اپنے باقی ماندہ اختیارات بھی کھو چکی ہے، جبکہ ملک میں موجودہ نظام کی جگہ نیا انتظامی و سیاسی ڈھانچہ لانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ پیش رفت پاکستان کو مزید عدم استحکام اور ایک خطرناک سیاسی صورت حال سے دوچار کر سکتی ہے۔
