عمران خان کو پارٹی فیصلہ سازی سے مائنس کرنے کی سازش

 

 

 

خیبر پختونخوا حکومت کی معطلی کے بعد اب تحریک انصاف کے اندر ایک نئی سازش پنپنے لگی ہے، جس کا بنیادی مقصد عمران خان کو پارٹی کی فیصلہ سازی سے مائنس کرکے جماعت کو ان کی مرضی کے بغیر چلانا ہے۔ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں ناکامی اور صوبے میں حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف اندرونی اختلافات، گروپ بندی اور سیاسی بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں ایک دوسرے کو ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے ساتھ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا یے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پارٹی کے اندر جاری رسہ کشی کا مقصد قیادت کی تبدیلی کے ذریعے عمران خان کو فیصلہ سازی سے باہر کرنا ہے یا تحریک انصاف اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرکے دوبارہ متحد ہونے کی کوشش کرے گی۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی ناکامی نے تحریک انصاف کے اندر موجود اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ اس احتجاج کی حکمت عملی اور فیصلوں پر پہلے ہی پارٹی کے اندر اختلاف رائے پایا جاتا تھا، جبکہ سہیل آفریدی نے اس میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے سامنے اپنی سیاسی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم لانگ مارچ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد پارٹی کے اندر اسکی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف آج بھی ایک بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے، لیکن اندرونی اختلافات کے باعث وہ اپنی عوامی حمایت کو مؤثر سیاسی قوت میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی ناکامی اور خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کو دوبارہ سیاسی طور پر متحرک ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں پارٹی کو گزشتہ تین برس کے دوران اختیار کی گئی سخت گیر پالیسی کا جائزہ لے کر اپنی حکمت عملی کی خامیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ احتجاجی سیاست اور ریاست کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بجائے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے تحریک انصاف کو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

 

مبصرین کے مطابق حکومت اپنے سیاسی مفادات کے تحت تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھ سکتی ہے، تاہم ملک میں سیاسی استحکام کے لیے محاذ آرائی کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج کرنا اور ریاست کے ساتھ مسلسل تصادم کی پالیسی اپنانا دو الگ معاملات ہیں۔ تحریک انصاف کو ان دونوں کے درمیان فرق سمجھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے اس کے سیاسی مفادات کو نقصان پہنچنے کے بجائے بانی پی ٹی آئی کی رہائی سمیت بنیادی مطالبات کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔

 

تجزیہ کاروں نے زور دیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری سمجھنے کے بجائے سیاسی تنازعات کے حل کا موقع قرار دینا چاہیے۔ ان کے مطابق بات چیت کے ذریعے اختلافات دور کرنے اور اہم سیاسی مطالبات پر پیش رفت کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔ مسلسل محاذ آرائی سے مذاکرات کے امکانات محدود ہوتے ہیں، جبکہ سنجیدہ بات چیت کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی رہائی سمیت دیگر بنیادی معاملات پر قابل قبول حل تلاش کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

 

تاہم تحریک انصاف کے اندر جاری اختلافات کے تناظر میں سب سے اہم سوال عمران خان کی جماعت میں فیصلہ کن حیثیت کا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو الگ کرکے یا ان کے کردار کو محدود کرکے جماعت مؤثر انداز میں چلائی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق عمران ہی تحریک انصاف کی سیاسی شناخت اور عوامی حمایت کا بنیادی مرکز ہیں، اس لیے انہیں فیصلہ سازی سے باہر کرنے کی کوشش پارٹی کے اندر مزید اختلافات کو جنم دے سکتی ہے۔ موجودہ بحران میں قیادت کے اختیارات اور سیاسی فیصلوں پر جاری کشمکش نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ پارٹی کا مستقبل عمران خان کی ہدایات کے مطابق طے ہوگا یا اندرونی گروپ اپنی الگ حکمت عملی مسلط کرنے کی کوشش کریں گے۔

پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد افغان مہاجرین صدمے میں کیوں؟

یوں خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے اور اسلام آباد لانگ مارچ کی ناکامی نے تحریک انصاف کو ایک نئے سیاسی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ پارٹی کو اب اندرونی اختلافات ختم کرنے، احتجاجی سیاست کی ناکامیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف رہنما ایک دوسرے کو ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، تو دوسری جانب عمران خان کو فیصلہ سازی سے الگ کرنے کے امکان پر بھی بحث جاری ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرکے جماعت چلانے کا تصور اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی شناخت کا مرکز عمران خان ہیں۔ ایسے میں پارٹی کے لیے اصل چیلنج انہیں فیصلہ سازی سے باہر کرنا نہیں بلکہ ان کی قیادت میں اختلافات دور کرکے جماعت کو دوبارہ متحد اور سیاسی طور پر متحرک کرنا ہے۔

Back to top button