کرکٹ بائی چانس: پاکستان نے گوروں کو دھول کیسے چٹائی؟

 

 

 

لاہور میں پاکستان اور انگلینڈ کے مابین دوسرے ون ڈے میچ میں کرکٹ بائی چانس کی اصطلاح تب حقیقت بن گئی جب پاکستانی ٹیم نے یقینی شکست کے دہانے سے ناقابلِ یقین فتح حاصل کرتے ہوئے گوروں کو دھول چٹا دی۔

 

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی 9 وکٹیں صرف 154 رنز پر گر چکی تھیں، لیکن شاداب خان کی دھواں دار سنچری اور حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ پر 89 رنز کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پاکستان نے 47ویں اوور میں کرشمہ دکھاتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا اور انگلینڈ کو شکست دے دی۔ یوں سٹیڈیم سے مایوس ہو کر چلے جانے والے ہزاروں پاکستانی شائقین کرکٹ ایک یادگار مقابلے کے آخری لمحات دیکھنے سے محروم رہ گئے۔

 

شاداب خان نے 5 چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے 96 گیندوں پر 113 رنز کی ناقابلِ یقین اننگز کھیلی۔ یہ ان کے انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر کی پہلی سنچری تھی۔ دوسری جانب حارث رؤف نے 19 گیندوں پر 7 رنز بنائے اور اپنی وکٹ بچائے رکھی تاکہ شاداب خان دوسرے اینڈ سے سکور کرتے رہیں، یوں دونوں نے آخری وکٹ پر 89 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کرکے انگلش بولرز کی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیا۔

 

میچ کا سنسنی خیز موڑ تب آیا جب 45ویں اوور میں امپائر نے شاداب خان کو ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔ تب پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 20 رنز درکار تھے۔ جب پاکستان کی آخری امید بھی دم توڑتی دکھائی دی تو سٹیڈیم شائقین سے خالی ہونا شروع ہو گیا، لیکن اس دوران شاداب نے ریویو لے کر خود کو آؤٹ ہونے سے بچا لیا۔ ریویو میں واضح ہوا کہ گیند پیڈز سے پہلے ان کے بلے کو چھو کر گزری تھی۔ بالآخر 47ویں اوور کی پہلی گیند پر حارث رؤف کے چوکے نے پاکستان کو ہدف تک پہنچا دیا اور سٹیڈیم میں موجود شائقین خوشی سے جھوم اٹھے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ میچ سے پہلے شاداب خان کی ٹیم میں شمولیت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کی حالیہ کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے بعض شائقین نے سفیان مقیم اور ابرار احمد کو ترجیح نہ دینے پر ٹیم مینجمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا، مائک ہیسن اور عاقب جاوید کو شاداب خان کی ٹیم میں شمولیت پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، لیکن شاداب نے اپنی یادگار اننگز سے ناقدین کو خاموش کرا دیا اور ثابت کر دیا کہ کرکٹ بائی چانس ہے اور میچ کے دوران کسی بھی لمحے بازی پلٹ سکتی ہے۔

 

میچ کے بعد شاداب خان نے اپنی کامیابی کا زیادہ کریڈٹ حارث رؤف کو دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کریز پر دباؤ لینے کے بجائے انجوائے کر رہے تھے اور کرکٹ کے علاوہ دوسری باتیں بھی کر رہے تھے۔ ان کے مطابق گزشتہ میچ میں شکست کے بعد انگلش بولرز پر دباؤ تھا، جبکہ اوس پڑنے سے بیٹنگ کے لیے حالات بہتر ہو گئے تھے، جس سے انہیں ہدف حاصل کرنے کی امید پیدا ہوئی اور انہوں نے پاکستانی ٹیم کا بیڑا پار لگا دیا۔

 

پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے شاداب خان کی اننگز کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسی اننگز نہیں دیکھی۔ چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے علاوہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی ٹیم کو مبارک باد دی اور شاداب کی سنچری اور حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت داری کو سراہا۔

سہ ملکی سیریز : صائم ایوب بقیہ میچز سے باہر، صاحبزادہ فرحان شامل

اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو شاہین شاہ آفریدی نے ابتدائی اوورز میں دو اہم وکٹیں حاصل کرکے حریف ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا۔ انگلینڈ کی 8 وکٹیں 187 رنز پر گر چکی تھیں، لیکن بین ڈکٹ نے 111 گیندوں پر 105 رنز کی سنچری بنا کر ٹیم کو سنبھالا دیا، جبکہ سیم کرن نے 42 اور گس اٹیکنسن نے 36 رنز بنا کر انگلینڈ کا مجموعہ 241 رنز تک پہنچا دیا۔

 

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رضا اللہ نے 2 اور حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اس میچ میں شاہین آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی 150 وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔ تاہم دن کا اصل ہیرو شاداب خان ثابت ہوا، جس کی سنچری اور حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت نے کرکٹ بائی چانس کی اصطلاح کو حقیقت بنا دیا اور پاکستان کو ایسی فتح دلائی جسے شائقین طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔

Back to top button