امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو ایران جواب میں کیا کرے گا؟

امریکہ میں مڈٹرم انتخابات قریب آتے ہی امریکی صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر بڑے فضائی حملے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاہم دوسری جانب بتایا جا رہا ہے کہ ایران بھی امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے جوابی طور پر خلیجی ممالک کے فوجی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ٹارگٹ کر سکتا ہے۔ انکے مطابق آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث کسی بڑے فوجی تصادم کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ کے مین سٹریم میڈیا کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کی رسد پہنچا دی گئی ہے اور ایسے ہتھیار بھی تعینات کیے جا رہے ہیں جو ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات اورو مضبوط فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ادھر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، تاہم اس دوران کسی بڑے معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، جس سے خطے میں ایک نئی بڑی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

 

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے امریکی بحریہ کی تیاریوں میں تیزی لائی جا رہی ہے اور طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کی رسد فراہم کی گئی ہے۔ اس بحری جہاز پر ایسے ہتھیار بھی لادے جا رہے ہیں جو زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس فوجی تیاری کا مقصد ایران کی جوہری تنصیبات اور مضبوط فوجی ڈھانچے کے خلاف ممکنہ حملوں کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔ اردن، لبنان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی مشنز کے عملے میں عارضی کمی کی جا رہی ہے، جبکہ سعودی عرب میں غیر ضروری امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امریکی حکام نے ان اقدامات کو خطے میں امریکی اہلکاروں کے خلاف ممکنہ خطرات سے متعلق خفیہ اطلاعات سے جوڑا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے میں کمی کو ایران پر نئے حملوں کے حتمی فیصلے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے، اس دوران پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک مرتبہ پھر ایران کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں ممکنہ امریکی حملوں کے حوالے سے گفتگو ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات نے 23 اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ کرنے، کسی سمجھوتے کے ذریعے تنازع کو کنٹرول کرنے یا موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے جیسے راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے اور پینٹاگون کو بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امریکی انتخابات سے پہلے اور بعد میں فوجی کارروائی کے امکانات پر بحث نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی بڑی فوجی کارروائی کی صورت میں تہران میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے جوابی حملے کر سکتا ہے۔ اس سے خلیجی ممالک کے فوجی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہاز رانی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث کسی بڑے فوجی تصادم کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا ایک مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر لانا بھی ہو سکتا ہے، تاہم اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں کشیدگی قابو سے باہر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اگر ایران نے امریکی فوجی کارروائی کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی تنصیبات یا توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا تو تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر دونوں فریق مذاکرات میں لچک دکھانے پر آمادہ ہو گئے تو کسی معاہدے کے ذریعے بڑے فوجی تصادم سے بچنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں امریکی بحری نقل و حرکت، مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی عملے کی تعداد میں کمی اور ٹرمپ کے سخت بیانات نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے لیے ایک طرف ایران کو جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ کرنا اہم ہے، جبکہ دوسری طرف ایک نئی جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات سے بچنا بھی بڑا چیلنج ہے۔ امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے فوجی کارروائی کے سیاسی اثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ خطے میں جنگ کی شدت امریکی معیشت، تیل کی قیمتوں اور انتخابی سیاست کو متاثر کر سکتی ہے۔

 

Back to top button