قومی اسمبلی:5 سال میں 11 ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ دینےکاانکشاف

قومی اسمبلی میں وزارت خزانہ نے گزشتہ پانچ مالی سال کے دوران دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کی تفصیلات پیش کر دیں، جن کے مطابق اس عرصے میں مجموعی طور پر 11 ہزار ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔

سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر سابق آرمی چیف جنرل عبد الوحید کاکڑ اور دیگر شہداء کے لیے دعائے مغفرت کی گئی، جس کی امامت وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کی۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2020-21 میں ایک ہزار 482 ارب 31 کروڑ روپے، 2021-22 میں 2 ہزار 239 ارب روپے، 2022-23 میں 2 ہزار 540 ارب روپے، 2023-24 میں 2 ہزار 434 ارب روپے جبکہ 2024-25 میں 2 ہزار 352 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔

دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 580 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 274 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 499 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ چینی کی درآمد پر 54 ارب روپے سے زائد اخراجات قومی اسمبلی میں چینی کی درآمد سے متعلق تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔

وزارت تجارت کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران 3 لاکھ 6 ہزار 373 میٹرک ٹن چینی درآمد کی گئی۔

وزارت تجارت نے واضح کیا کہ چینی درآمد کرنے کا فیصلہ وزارت قومی غذائی تحفظ نے کیا تھا اور اس عمل میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کا کوئی کردار نہیں تھا۔

وزارت کے جواب کے مطابق 31 اگست 2026 تک درآمد شدہ چینی پر 54 ارب 15 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد اخراجات آئے۔ عالمی منڈی میں اس چینی کی قیمت 575.56 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن رہی، جبکہ درآمد پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی بھی ختم کی گئی تھی۔

وزارت تجارت کے مطابق درآمد کی گئی چینی میں سے ایک لاکھ 98 ہزار 668 میٹرک ٹن چینی 168 روپے 24 پیسے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جا چکی ہے، جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار 69 میٹرک ٹن چینی تاحال ٹی سی پی کے گوداموں میں موجود ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ گوداموں میں موجود چینی کی برآمد کے لیے تاحال کوئی ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا۔ سوال کا جواب نہ ملنے پر سپیکر کا فیصلہ قومی اسمبلی اجلاس میں رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی کے سوال کا جواب پیش نہ کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

رکن اسمبلی نوید قمر نے تجویز دی کہ جواب نہ آنے کی صورت میں معاملہ فنانس کمیٹی کو بھیجا جائے۔ پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے کہا کہ سوال کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا جائے۔ اس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے فیصلہ دیا کہ سوال کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد بھی کیا جائے گا اور اگلی مرتبہ کے لیے مؤخر بھی کر دیا جائے گا۔

Back to top button