ضمنی الیکشن: پی ٹی آئی اراکین انتخابی اخراجات سے پریشان

پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی سے مستعفی اراکین کی خالی نشستوں پر سولہ اور انیس مارچ کو ضنمی الیکشن ہو رہے ہیں۔ جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی معاملات عدلیہ اور انتظامیہ کے پاس زیر التوا ہیں۔ تاہم ضمنی الیکشن پاکستان تحریک انصاف کے سابق اراکین قومی اسمبلی کیلئے سونامی جیسے طوفان کے طور پر سامنے آیا ہے اور ان کے لئے الیکشن سے پہلے ایک کڑا امتحان ثابت ہورہا ہے۔سابق اراکین نہ تو اپنے پرانے حلقے خالی کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ قلیل عرصے کیلئے دوہرے انتخابی اخراجات اٹھانے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن انہیں واضح کیا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن نہ لڑنے والے سابق اراکین کو اگلے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنا یقینی نہیں ہے۔ اس پالیسی نے عمرانڈو اراکین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وزیر نے بتایا کہ ’’جس طرح قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن قلیل عرصے کیلئے ہورہے ہیں، اگر پنجاب اسمبلی کے الیکشن بھی ایسی ہی ہوتے تو میں ضمنی الیکشن کا متحمل نہ ہوتا اور ٹکٹ کیلیے اپلائی نہ کرتا۔ پارٹی کے ساتھ کھڑا رہنا ہی پارٹی کے ساتھ وفاداری کا ثبوت ہے۔ دو، دو الیکشن کے اخراجات پارٹی سے وفاداری کا ثبوت نہیں ہونا چاہئیں۔یہ پالیسی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے اور خاص طور پر ہمارے جیسے لوگ تو اس کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے، جنہوں نے اپنی ساکھ اور خاندانی وقار کی بنیاد پر الیکشن لڑنا ہوتا ہے۔ جب پی ٹی آئی کا وجود نہیں تھا تب بھی لوگ ہمیں ووٹ دیا کرتے تھے۔ اُس وقت ہم کہاں سے ووٹ لیتے تھے؟ ووٹ تو موجود تھے۔ اصل بات پارٹی کے پروگرام اور سیاسی حالات کی ہوتی ہے۔
بلاشبہ اب بھی سیاسی حالات پی ٹی آئی کے بہتر ہیں لیکن انتخابی اخراجات اس شدید ترین مہنگائی میں کون برداشت کرسکتا ہے؟ جتنے بڑے حلقے ہیں ان میں تو خالی پیٹرول ہی انتخابی اخراجات کی حد سے زیادہ خرچ ہوجائے گا۔ یہ بات پارٹی قیادت کو سمجھنا چاہئے تھی۔ اب بھی الیکشن جیت کر ہم نے کون سی وفاق میں حکومت بنا لینی ہے؟ رہنا تو اپوزیشن میں ہی ہے اور یہ بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ پارٹی کے چیئرمین الیکشن کے بعد پھر سے اعلان کردیں کہ ہم نے اسمبلی میں نہیں جانا۔ اگر چہ ابھی ایسی کوئی بات نہیں ہورہی، لیکن ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا‘‘۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان ضمنی الیکشن کی مہم میں بھی زمان پارک میں ہی قیام پذیر ہوں گے۔ عدالت سے انہوں نے حاضری کی معافی کی درخواست کررکھی ہے اور وہ انتخابی مہم میں باہر نکل کر آئے روز عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے، کیونکہ اس سے انہیں حاضری سے استثنیٰ ختم ہونے کا اندیشہ رہے گا۔ واضح رہے کہ عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کررکھی ہے۔ جبکہ ان پر فرد جرم عائد ہونا ہے ۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے وطن واپسی کے بعد سیاسی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی اتحادی پی ڈی ایم کی جماعتیں پنجاب کی حد تک قابلِ ذکر حد تک متحرک نہیں۔ لیکن کچھ حلقوں میں متحرک ہوں گی۔ یہ جماعتیں پنجاب سے باہر دیگر صوبوں میں اپنا اہم کردار ادا کریں گی۔ البتہ خیبر پختونخوا میں دس سے زائد ایسی نشستیں بھی ہیں، جن میں یہ جماعتیں اپنے امیدوار نہیں کھڑے کریں گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی ایک طرح سے بند گلی میں پھنس چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان نے غلط سیاسی فیصلے کرکے اپنی جماعت کو بھی مشکلات میں ڈال دیا ہے، بلکہ ایک طرح سے نقصان پہنچایا ہے اور سب سے بڑی غلطی اسمبلی سے باہر آنے کی ہے۔ پہلے قومی اسمبلی سے باہر تو بعد میں خود ہی اپنی دو صوبائی حکومتیں بھی ختم کروادیں۔ جبکہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ حکومت ختم ہونے کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ سبھی ووٹر بھی ختم ہوگئے۔
ووٹر نے تو پوری مدت کیلیے مینڈیٹ دیا تھا۔ یہ درست ہے کہ مقررہ وقت میں الیکشن ہونا چاہئیں اور معاملہ عدالت میں بھی ز یر التوا ہے، سبھی کی نظریں ادھر ہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی پوزیشن پہلے جیسی نہیں رہی، وہ مشکلات کا سامنا کرسکتے ہیں۔ ان کے قول و فعل کی رو سے ان کے حق میں عوام کی پہلے جیسی رائے دکھائی نہیں دیتی۔ اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید فرق آنا بھی خارج ا ز امکان نہیں۔ اس میں اہم کردار ان کی سیاسی انداز اور سوچ کا جس میں پختگی کی ضرورت ہے۔
