اپوزیشن نےسہیل آفریدی کی مبینہ حراست کیخلاف تحریک التواجمع کرادی

اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں سہیل آفریدی کی مبینہ حراست کا معاملہ اٹھاتے ہوئے تحریک التوا سپیکر کو جمع کروادی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اپوزیشن کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے تحریک التواسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروا ئی جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی کی مبینہ حراست پر بحث کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔

تحریک التوا میں چھ ارکان قومی اسمبلی امجد علی خان، جنید اکبر، فضل محمد خان، زبیر خان، حاجی امتیاز احمد چوہدری اور نسیم علی شاہ کی حراست پر بھی بحث کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندوں کی مبینہ حراست جمہوری اداروں کے امور اور عوامی نمائندگی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتی ہے، منتخب نمائندوں کے آئینی حقوق اور پارلیمانی استحقاق کے تحفظ کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے۔

اپوزیشن نے مبینہ حراستوں کے حالات و واقعات پر ایوان میں فوری بحث کا مطالبہ بھی کیا اور معاملے پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی درخواست کی۔

ملک محمد عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے رول 109 اور 110 کے تحت تحریک التوا سپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروادی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ارکان کی عدم موجودگی، پروڈکشن آرڈرز اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو تنگ کرنے کا کوئی شوق نہیں، آپ نے ایک صوبے کی حکومت ختم کردی، اب بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ اور ہمارے ارکان اسمبلی کہاں غائب ہیں؟ سہیل آفریدی سمیت دیگر لوگ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف محمود اچکزئی نے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر دعویٰ کیا کہ جنید اکبر، نسیم شاہ، عادل بازئی اور عزیر خان سمیت متعدد ارکان قومی اسمبلی میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی رکن نے بدترین جرم بھی کیا ہو تو اس کے پروڈکشن آرڈرز حاصل کرنا سپیکر کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ارکان کو اس ایوان میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ایوان میں بولنے کا موقع دیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر نےاسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے، صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کہی گئی بات پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر ارکان کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا تو پارلیمان کا مقصد کیا رہ جائے گا؟ محمود اچکزئی نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 600 سال پہلے ایک بادشاہ کو پانچ ارکان کی ضرورت تھی تو سپیکر نے اس کی درخواست کا احترام کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج اپنے ارکان کی موجودگی اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں کیوں نہیں سنا جا رہا؟

Back to top button