بینظیر کے بیٹے کی حیثیت سے آئین کی گولڈن جوبلی اہمیت کی حامل

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ شہید بینطیر بھٹو کے بیٹے کے طور پر میرے لیے آئین کی گولڈ جوبلی کا دن ایک تاریخی لمحہ ہے۔قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس دن 10 اپریل 1973 کو پاکستان کے آئین کا وفاقی، جمہوری، اسلامی اور متفقہ آئین کی بنیاد رکھی گئی اور پاکستان کی تاریخ میں بہت مشکلات کا سامنا کیا اور ہر مشکل وقت عوام، سیاسی، سماجی کارکنوں نے ان مسائل کا مقابلہ کیا، آمریت کا مقابلہ کیا، ایک نہیں بلکہ تین،تین آمروں کو بھگایا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ایک زمانے میں زمین کے طور پر ٹوٹ بھی چکا تھا اور ہم اس بحران کا مقابلہ کرکے آگے بڑھے اور آج یہ وفاق موجود ہے، پاکستان اکٹھا ہے تو جو زنجیر چاروں صوبوں کو ملا کر پاکستان کی شکل میں ایک ملک اور ایک قوم پوری دنیا کو نظر آرہا ہے تو وہ زنجیر پاکستان کا آئین جو سارے صوبوں کو جوڑ کر پاکستان بناتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 10 اپریل ہمارے لیے ایسا تاریخی اور اہم دن ہونا چاہیے کہ ہمارے سلیبس میں یہ دن ہونا چاہیے اور ہماری آنے والی نسلوں کو اس دن کے بارے میں سکھانا چاہیے تاکہ ہر پاکستانی کو پتا ہو کہ 1947 میں جب پاکستان بنا تھا تو 10 اپریل 1973 کو ہمارے آئین کی بنیاد رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن خوشی کا دن ہے، جمہور کی فتح کا دن ہے، 10 اپریل 1973 پاکستان کے آئینی سفر کے ابتدا کا دن ہے، آج ہماری 50 سال کی جدوجہد کی یوم تاسیس کا دن ہے، خوشی کے ساتھ یہ دن ہمارے لیے اس جمہوریت اور آئین کی خاطر دی ہوئی قربانیوں کو یاد کرنے کا بھی دن ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 1973کے خالق ذوالفقار علی بھٹو نے غریب کو آواز دی اور عوام کو حکومت دینے کی سزا میں انہیں شہید کیا گیا، جنہوں نے آئین کا دفاع کرنا تھا انہوں نے اس جرم میں شامل تھے اور ایک آمر کو اس ملک پر مسلط کیا گیا، جس نے اس ملک میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کا بوجھ ڈالا اور اس کا مقابلہ ہم آج تک کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 اپریل 1986 کو لاہور میں بینظیر بھٹو کا تاریخی استقبال ہوا اور انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کا سفر شروع کیا، یہ سفر اور جدوجہد چلتی رہی اور بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے 30 سال جدوجہد کیا لیکن آمر ضیاالحق کے بعد ایک اور آمر آیا جنرل پرویز مشرف آیا اور اس نے جو بیج بوئے اس کے نتیجے میں ہم آج بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور آج بھی اسی قسم کی نفرت اور تقسیم کا مقابلہ کر رہےہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ جعلی سیاست دان جن کو ہر آمر کھڑا کرتا ہے، تو اس آمر نے کچھ جعلی سیاست دان اور کٹھ پتلیاں کھڑی کیں، آج ہر وہ شخص جو آمریت سے فائدہ لیتا ہے، جو غیرجمہوری دور سے فائدہ لیتا ہے وہ آج بھی ایک ہی جگہ جمع ہیں، ایک ہی پرچم تلے جمع ہیں، وہ تحریک انصاف میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہے ضیا دور کے ہوں یا مشرف دور کے وہ آج بھی اسی نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہے ہیں، غیرجمہوری سیاست پر چلتے آرہے ہیں، جب 2006 میں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت شہید بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق پر دستخط کیے کہ ہم اپنے منشور پر الیکشن لڑیں گے، اپنی جماعتوں کی قیادت سنبھالیں گے۔
میثاق جمہوریت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیادت نے کہا ہم ایک دوسرے کی مخالفت کریں گے مگر الیکشن میں مخالفت کریں گے جب ہم حکومت میں آتے ہیں تو ہماری مخالفت اس حد تک نہیں پہنچے کہ ہم ذاتی دشمنی پر پہنچ آئیں اور مخالفت کو اتنی جگہ نہیں دیں گے کہ اس کی وجہ سے دو بڑی جماعتیں آپس نہیں بیٹھ سکتیں، کسی اور کو فائدہ نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس دستاویز پر دستخط کیا تھا وہ یہ تھا کہ 70 کے اواخر کی پی این اے کی تحریک ہو یا سلیکٹڈ کا تماشا ہمارے ساتھ ہو جس کو 2011 میں کھڑا کیا گیا، جب سیاست دانوں، جمہوری قوتوں کے درمیان فقدان ہوتو اس کا فائدہ ضرور غیرجمہوری قوتیں اٹھاتی ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جب میثاق جمہوریت میں طے کیا کہ ہم 1973 کا آئین بحال کریں گے اور ایک دائرے میں رہ کر سیاست کریں گے تو اسی دوران وہی غیرجمہوری قوتیں اپنی سازشیں بنانا شروع ہوگئیں کہ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا اور پاکستان میں جمہور کو طاقت ملتی رہی تو غیرجمہوری قوتوں کے لیے نہ سیاست میں جگہ ہوگی، نہ پارلیمان اور نہ کاروبار میں جگہ ہوگی اورنہ بیوروکریسی میں اہم عہدے ملیں گے اسی لیے انہوں نے جمہوریت کے خلاف، اس میثاق جمہوریت کے خلاف سازش شروع کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم نے 1973 کے آئین کو بحال کیا، صوبوں کو حقوق دیا، صوبے کو شناخت دی اور وسائل کا مالک بنایا، سیاسی استحکام پیدا کیا جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ 2013 ایک جمہوری حکومت سے پرامن انتقال اقتدار دوسری جماعت کو ہو رہا تھا اور یہ پاکستان کی سیاست میں ایک ہم موقع تھا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں 5 سال سازشوں کے باوجود سیاسی استحکام ملا اور پھر 2008 سے 2018 تک سیاسی استحکام ملا تو معاشی استحکام بھی ملا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) چلتا رہا اور 10 سال میں پاکستان کے عوام کو ترقی ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ چیز کچھ قوتوں کے لیے تکلیف دہ تھا، جیسے ہم نے 30 سال جمہوریت کے لیے جدوجہد کیا تھا ایسے کچھ قوتیں ایسی ہیں جو جمہوریت کے خلاف سازشیں پکا رہے تھے، ان قوتوں کے لیے برداشت سے باہر تھا کہ پاکستان 1973 کے آئین کے تحت ایک جمہوری ملک بنے، ان سے یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابیوں کے جواب میں ہم پر ایک سلیکٹڈ راج مسلط کیا گیا اور اس کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ اس کٹھ پتلی کو اس کرسی میں بٹھایا جائے بلکہ 10 سال میں جو کامیابیاں ملی اس کو واپس کرنا تھا، ان کا مقصد تھا کہ 1973 کے آئین کو ریورس کرنا تھا، ان کا مقصد یہ تھا کہ 1973 کا آئین جو بنگلہ دیش کی جنگ کے بد اکٹھا رکھا تھااسی آئین کو ریورس کرنا تھا اور ایک بار پھر ون یونٹ قائم کرنا تھا۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ تین سال میں اس منصوبے کو ناکام بنایا اور کیسے ناکام بنایا وہ بھی 10 اپریل 2022 کو، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدالت، اسٹیبلشمنٹ یا کسی غیرجمہوری قوت کا کندھا استعمال نہیں کیا بلکہ جمہوری ہتھیار استعمال کرکے اس سلیکٹڈ ، نالائق اور مسلط کیا گیا وزیراعظم کو گھر بھیج دیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں ہماری محنت جاری رہی، وہ سازشیں بھی چلتی رہیں، وہ سازشیں ایک سال سے ملک میں چلتی رہی ہیں، ہمارا وزیراعظم ایک شریف آدمی ہے تو ہم یہ سازشیں ہیں وہ برداشت کرتے رہے، ملک، ادارے اور نظام کی خاطر برداشت کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گولڈن جوبلی کے موقع پر ضروری ہے کہ اس ایوان کے ریکارڈ میں وہ سازش لے کر آؤں ایک سلیکٹڈ وزیراعظم کو خدا حافظ کہہ دیا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سازش ختم ہوئی یا وہ ڈاکٹرائن ختم ہوا، آج تک ہر ادارے میں وہ لوگ موجود ہیں جو اس اتحاد، جمہوری سفر اور میثاق جمہوریت کے اتفاق رائے کے خلاف ہیں۔اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف نظریاتی اور سیاسی طور پر اس اتحاد اور آئین کے خلاف ہیں اور اپنے ذاتی فائدے کی وجہ سے یہ نہیں چاہتے کہ جمہوری تجربہ کامیاب ہو۔
انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہمار اتحاد کامیاب رہے بلکہ چاہتے ہیں جتنا جلدی ہو اسی سلیکٹڈ اور نالائق کو پھر سے مسلط کیا جائے، وہ چاہتے ہیں کہ جہاں سے ہم نے مل کر اس تباہی روکا تھا وہی سے شروع کریں اور ایک بار پھر سلیکٹڈ راج ہو۔بلاول بھٹو نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ پچھلے 3 سال اس سازش کا ایک حصہ ہمارے سامنے تھا اور اس کو برا بھلا بھی کہتے تھے لیکن جو مرکزی کردار تھے وہ شاید ملک اور عوام کے سامنے اس طریقے سے نظر نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ کیا تھا جو آپ سب نے روکا، وہ 10 سال کا منصوبہ تھا، اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے کیا صرف ایک عمران نیازی یا سلیکٹڈ وزیراعظم موجود تھا یا کوئی اور بھی موجود تھا، اگر وہ منصوبہ کامیاب ہوتا تو ملک کو ون پارٹی اسٹیٹ میں تبدیل کیا جاتا تو دوسرے ادارے میں بھی میرٹ کی تباہی ہونا تھی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں ایسے جج موجود ہیں جنہوں نے ہر آمر کے دور میں ان کی آمریت کو دور کیا، ہر غیرجمہوری قدم کے خلاف ایک اختلافی نوٹ لکھا، یہ وہی جج تھے، جنہوں نے قائد عوام کو ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے سے انکار کیا تھا، یہ وہی جج تھے جنہوں نے مشرف کو سیلوٹ کرنے سے انکار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایسے بہادر جج ہماری تاریخ میں موجود رہے ہیں وہی افسوس کےساتھ ایسے بھی جج ہماری اعلیٰ عدلیہ میں رہے ہیں جو کہ اس آئین جس کا انہوں نے دفاع کرنا تھا، اس کا تحفظ نہیں کیا، ہر آمر کا ساتھ دیا، ہر وزیراعظم کے خلاف فیصلہ سنایا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اس ہاؤس کو اس ڈاکٹرائن کے تحت کسی ایک آدمی کو دلوانا تھا تو وہ ہمارا سپریم کورٹ میں بھی کچھ سازش پک رہی تھی، وہاں بھی ایک سازش ہے، اس وقت بڑا زور و شور سے چل رہا تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے اگر کوئی ایسا جج موجود ہو جو آئین کے ساتھ دیں گے اور اپنا کام کریں گے تو اس کا نکالنے کی سازش تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیراعظم کو 10 سال دینا تھا اور کچھ ججوں کو بھی توسیع دلانی تھی تاکہ 10 سال کا ڈاکٹرائن ملتا رہا تو اس کو ربراسٹمب ملتے رہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم سمجھے تھے کہ عدم اعتماد ہوگیا، ہم کامیاب ہوگئے، سازش ختم ہو گئی لیکن ہم غلط تھے، سازش آج بھی چل رہی ہے۔آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بطور بیٹا بینظیر بھٹو شہید، میرے لیے بہت ہی اہم دن ہے، آج کے دن متفقہ آئین کی بنیاد رکھی گئی، ہم نے آمریت کا مقابلہ کیا، ایک دو نہیں تین آمروں کو بھگایا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آئین وہ زنجیر ہے جس نے پاکستان کو جوڑ رکھا ہے، 10اپریل پاکستان کے آئین کے سفر کا دن ہے، آج 50 سالہ جدوجہد کے یوم تاسیس کا دن ہے، شہید بھٹو نے بکھرے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کیا۔انہوں نے کہا کہ آمر جنرل ضیا الحق کے بعد ایک اور آمر آیا جنرل پرویز مشرف، پرویز مشرف نےجو بیج بوئے اس کےنتیجے میں آج بھی انتہا پسندی کا مقابلہ کر رہے ہیں، ہم نفرت اور تقسیم کی سیاست کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا ہر آمر جعلی سیاستدان کھڑے کر دیتے ہیں، اسپیکر صاحب آپ کی کوشش اور عدم اعتماد سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی سازش ناکام کرائی، ایک اور جگہ ہے جو ادارہ نہیں ہے ادارہ کہا جاتا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے ماتحت ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ یہاں بھی سازش تھی جہاں میرٹ کا قتل ہونا تھا، میرٹ کا قتل کرتے ہوئے کسی کو اس پر 10سال مسلط کرنا تھا، یہاں سلکٹڈ وزیراعظم ہوتا وہاں سلیکٹڈ چیف جسٹس ہوتا، سلیکٹڈ آرمی چیف ہوتا، پاکستان میں سلیکٹڈ مارشل لا قائم ہوتا، دنیاکو بتاتے ہم جموری، آئینی ملک ہیں، اصل مک مکا یہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھے تھے کہ عدم اعتمادہوگیا، ہم کامیاب ہوگئے، سازش ختم لیکن ہم غلط تھے، سازش آج تک چل رہی ہے، ہم سب کومل کرسازش کو ناکام بنانا ہے، اگر سپریم کورٹ میں ون مین شو چلےگا توپارلیمان بحران کو نہیں سنبھال سکےگا، جوسازش میں شریک تھے وہ آج بھی اعلیٰ عدلیہ میں موجودہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا یہ چار ججز کے فیصلے کو اقلیت میں ثابت کرنا چاہتے ہیں، عدلیہ اور پارلیمان کے ساتھ کھیلا جانے والاکھیل عوام برداشت نہیں کر سکتے، عمران خان کے چھوڑےگئے معاشی بحران سے نکلنےکی کوشش کر رہے ہیں، سکیورٹی بحران عمران خان اور اس کے سہولت کاروں نے چھوڑا،کوشش کر رہے ہیں کہ اس سکیورٹی بحران کا حل نکالیں، ہم آئین کا دفاع کرنےکے لیے تیار ہیں۔
