دنیا بھر میں الیکشن کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

دنیا بھر میں الیکشن کا باقاعدہ آغاز 754 قبل مسیح میں سپارٹو آف افورس کی تہذیب میں پہلی مرتبہ عوامی عہدے کے لیے لوگوں کی رائے طلب کی گئی، ان انتخابات میں تمام شہری انتخابات میں حصہ لینے کے اہل تھے۔ایتھنز میں 574 قبل مسیح میں پہلے سولونیائی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کے حوالے سے تاریخی اوراق میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، ان انتخابات میں قانون کے مطابق تمام ایتھنیائی شہری اسمبلیوں میں قانون اور پالیسی کے معاملات پر اور ججوں کے طور پر ووٹ دینے کے اہل تھے، سوائے سب سے نچلے طبقے کے شہریوں کے۔ایتھنیائی شہریوں کو چار طبقات میں تقسیم کیا جاتا تھا، طبقات کی تقسیم مال و دولت اور جائیداد کی حد کے مطابق ہوتی تھی، یعنی جو زیادہ امیر تھے ان کو پہلے درجے میں، جو تھوڑا کم امیر تھے، ان کو دوسرے درجے میں اور سب سے کم امیر لوگوں کو تیسرے درجے میں شمار کیا جاتا تھا جبکہ چوتھے درجے میں وہ لوگ شامل تھے جو مال و دولت اور زمین نہیں رکھتے تھے، اس طبقے کو ووٹ ڈالنے کا بھی حق نہیں دیا جاتا تھا، ان علاقوں میں 180 سال تک انتخابات کا یہ طریقہ رائج رہا۔ساتویں صدی عیسوی میں ابتدائی قرون وسطیٰ کے بنگال میں پال بادشاہ گوپالا کو جاگیردار سرداروں کے ایک گروپ نے حکمرانی کیلئے منتخب کیا، اس طرح کے انتخابات خطے کے معاصر معاشروں میں مقبول عام تھے۔920 عیسوی میں اتھیر امیرور (موجودہ تامل ناڈو) گاؤں کی کمیٹی کے ارکان کے انتخاب کیلئے کھجور کے پتے استعمال کئے جاتے تھے، پتے جن پر امیدواروں کے نام لکھے ہوئے تھے، مٹی کے برتن میں ڈالے جاتے تھے، کمیٹی کے ارکان کو منتخب کرنے کیلیے ایک نوجوان لڑکے سے کہا جاتا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پتے نکالے جتنی پوزیشنیں دستیاب ہیں، یہ طریقہ انتخاب کوڈاولائی نظام کے نام سے جانا جاتا تھا۔شمالی امریکہ اور یورپ کے بہت سے علاقوں میں طاقتور اور صاحب حیثیت طبقہ ہی انتخابات میں غالب رہتا ہے، تاہم 1920ء تک تمام مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کی جمہوریتوں میں ہر بالغ شہری کو بھی حق رائے دہی استعمال کرنے کا اختیار دے دیا گیا، انتخابات مختلف سیاسی، تنظیمی اور کارپوریٹ حلقوں میں منعقد ہوتے ہیں، بہت سے ممالک اپنی حکومتوں میں خدمات انجام دینے کیلئے لوگوں کو منتخب کرنے کیلئے انتخابات کراتے ہیں۔بہت سی جگہوں پر حکومت کیلئے انتخاب عام طور پر ان لوگوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے جو پہلے ہی کسی سیاسی جماعت کے اندر پرائمری الیکشن جیت چکے ہیں، کارپوریشنوں اور دیگر تنظیموں کے اندر انتخابات اکثر ایسے طریقہ کار اور قواعد کا استعمال کرتے ہیں جو حکومتی انتخابات سے ملتے جلتے ہیں۔1947ء سے 1958ء کے درمیان پاکستان میں قومی سطح پر براہ راست انتخابات نہیں ہوتے تھے، صوبائی انتخابات کبھی کبھار ہوتے تھے، آزادی کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے براہ راست انتخابات مارچ 1951ء میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کیلئے تھے، انتخابات 197 نشستوں کیلئے ہوئے، 189 نشستوں کیلئے 939 امیدواروں نے انتخاب لڑا جبکہ باقی نشستیں بلامقابلہ پُر ہوئیں۔8 دسمبر 1951ء کو شمال مغربی سرحدی صوبے میں صوبائی مقننہ کی نشستوں کیلئے انتخابات ہوئے، اسی طرح مئی 1953ء میں سندھ کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے، اپریل 1954 میں مشرقی پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کیلئے عام انتخابات ہوئے جس میں پاکستان مسلم لیگ پان بنگالی قوم پرست متحدہ محاذ اتحاد سے ہار گئی۔پاکستان میں 1970 کے عام انتخابات، برطانوی ہندوستان سے پاکستان کی آزادی کے بعد پہلے براہ راست عام انتخابات تھے، مشرقی پاکستان میں انتخابات کو پاکستان کے بنگالی شہریوں کیلئے خود مختاری پر ریفرنڈم کے طور پر پیش کیا گیا جو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 55 فیصد تھے، یہ انتخاب عوامی لیگ نے جیت لیا، 313 میں سے 167 نشستیں حاصل کیں۔پاکستان میں 1977 میں ہونے والے الیکشن میں پیپلزپارٹی، 1985 میں غیرجماعتی، 1988 میں پیپلزپارٹی، 1990 میں پاکستان مسلم لیگ، 1993 میں پیپلزپارٹی، 1997 میں مسلم لیگ ن ، 2002 میں مسلم لیگ ق، 2008 میں پیپلزپارٹی، 2013 میں مسلم لیگ ن اور 2018 میں پی ٹی

عمران خان کی سزائیں سپریم کورٹ سے بھی ختم نہیں ہوں گی؟

آئی نے میدان مارا۔

Back to top button