’’فیس بک، ٹوئیٹر کو ٹکر دینے کیلئے کوشاں‘‘

سوشل میڈیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم فیس بک نے ٹوئیٹر کو ٹکر دینے کے لیے نئی ایپ کی تیاریاں شروع کر دی ہے، اور اس کے کچھ فیچر کو انسٹاگرام پر بھی متعارف کروایا گیا ہے جوکہ ٹوئیٹر سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کا انتظام ایلون مسک کی جانب سے سنبھالے جانے کے بعد متعدد ادارے اور افراد ٹوئٹر کے ٹکر کا پلیٹ فارم متعارف کرانے کیلئے کوشاں ہیں۔فیس بک نے ٹوئٹر کو ٹکر دینے کے لیے دسمبر 2022 میں ہی متبادل پلیٹ فارم کی تیاری پر کام شروع کر دیا تھا اور بعد ازاں کمپنی نے انسٹا گرام پر ایسے فیچرز بھی پیش کیے تھے جو ٹوئٹر پر موجود ہیں۔
اسی طرح ٹوئٹر کے سابق بانی جیک ڈورسی اور ان کی ٹیم نے بھی ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن ’’بلیو سکائی‘‘ متعارف کرائی تھی تاہم اب فیس بک کی جانب سے تیاریوں کے مراحل میں موجود ایپلی کیشن کے سکرین شاٹس بھی سامنے آ گئے، جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فیس بک کا پلیٹ فارم بلکل ٹوئیٹر کی طرح کا ہی ہوگا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’’دی ورج‘‘ نے فیس بک کے آنے والے پلیٹ فارم کے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارک زکربرگ کی ٹیم نے ہائی پروفائل عالمی شخصیات کو پلیٹ فارم کا حصہ بنا کر اسے لاؤنچ کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن تیاریوں کے مراحل میں ہے، تاہم تاحال اس کا نام فائنل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے متعارف کرانے کی کوئی حتمی تاریخ بتائی گئی ہے، ممکنہ طور پر فیس بک کی جانب سے آئندہ چند ماہ میں پلیٹ فارم کو متعارف کرایا جائے گا، تاہم عین ممکن ہے کہ اسے ریلیز کرنے کا ارادہ ایک سال تک موخر کر دیا جائے۔
اسی حوالے امریکی جریدے فوربز نے اپنی رپورٹ میں بلوم برگ سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا پہلے ہی تصدیق کر چکی ہے کہ ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن تیار کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت ٹوئٹر کے ٹکر کے پلیٹ فارم کو ’پروجیکٹ 92‘ اور ’بارسلونا‘ کے نام سے کمپنی کے ملازمین ہی چلا رہے ہیں، فیس بک کی ایپلی کیشن کی سب سے خاص بات یہ ہوگی کہ ممکنہ طور ہر شخصیات انسٹاگرام پر موجود اپنے فالوورز کو نئے پلیٹ فارم پر منتقل کر سکیں گے۔
اسی طرح صارفین با آسانی انسٹاگرام کے مواد کو بھی نئی ایپلی کیشن پر شیئر کر سکیں گے لیکن سب سے منفرد بات یہ ہوگی کہ لوگوں کو انسٹا گرام
عمران خان کو ریڈ لائن کراس کرنا مہنگا کیسے پڑے گا؟
کے فالوورز کو بھی نئے پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔
