ملک بھر سے قافلے لانگ مارچ کیلئے راولپنڈی کی جانب گامزن

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ مختلف قافلوں کی صورت میں ملک بھر سے اپنی منزل راولپنڈی کی طرف گامزن ہیں، جہاں چیئرمین عمران خان لانگ مارچ کو جوائن کریں گے۔

مرکزی جلوس شاہ محمود قریشی کی قیادت میں جی ٹی روڈ سے راولپنڈی کی جانب بڑھ رہا ہے۔پی ٹی آئی کے مراد سعید اپر دیر سے لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے راولپنڈی کی طرف بڑھ رہے ہیں ، دوسری طرف پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر چنیوٹ سے پی ٹی آئی لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کی قیادت میں مرکزی لانگ مارچ سرائے عالمگیر پر پہنچ گیا ہے، جہاں پی ٹی آئی کارکنوں کا قافلے بڑی تعداد میں موجود ہیں، ساڑھے پانچ بجے کے قریب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ویڈیو لنک پر لائیو خطاب کو کارکنوں کو سنوایا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کسی آرمی چیف کو منتخب کرے گا تو پہلا مطالبہ عمران خان کو نااہل کرانے کا ہوگا، جمہوریت ڈنڈے اور بندوقوں کے زور پر نہیں چلتی ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہم نے بندل جزیرہ اور راوی سٹی کے نام سے دو منصوبے شروع کیے مگر بندل جزیرہ پر پیپلز پارٹی نے کام کرنے نہیں دیا حالانکہ اس سے 5 ارب ڈالر آنے تھے جس سے ڈالر کا مسئلہ حل کرتے۔

ارشد شریف کے قتل میں ملوث بھائیوں کا بزنس خطرے میں

انہوں نے کہا ہ راوی سٹی بھی 11 ماہ تک حکم امتناع پر رہ گیا حالانکہ باہر کے سرمایہ کار بھی تیار بیٹھے تھے، عمران خان نے کہا کہ میں نے اسٹیبلشمنٹ اور ہینڈلرز کو سمجھایا کہ اگر آپ نے سازش کامیاب ہونے دی تو یہ ملک نہیں سنبھال سکتے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 6 ماہ قبل کہا تھا کہ اگر پاکستان دیوالیہ ہوتا ہے تو کون اس کو بیل آؤٹ کرے گا جس پر حکومت نے غداری کا مقدمہ درج کرنے کا کہا، عمران خان نے مزید کہا کہ میں نے کہا تھا کہ جو بھی پاکستان کو دیوالیہ سے نکالے گا وہ قیمت مانگے گا اور میں آج بھی کہتا ہوں کہ جو بھی دیوالیہ سے باہر نکالے گا وہ ہمارے سب سے اہم اثاثہ یعنی قومی سلامتی کے پیچھے جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے دورِ حکومت میں ملکی معیشت کی ترقی کا ہدف 4 فیصد رکھا تھا مگر وہ 6 فیصد ہوا، انہوں نے کہا کہ ہم نے برآمدات کا اندازہ 26 ارب تک لگایا تھا مگر ہم نے 32 ارب ڈالر کی برآمدات کیں جو کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ تھا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے زراعت کے شعبہ میں ترقی کا حدف 3.5 فیصد رکھا تھا مگر اس میں 4.4 فیصد تک اضافہ ہوا یعنی 17 برس بعد تیزی سے ہماری زراعت بڑھنے لگی تھی اگر قرض واپس نہ کیے جائیں گے تو دنیا پاکستان کو فنڈ دینا بند کردے گی جس سے روپیہ کی قدر مزید نیچے آئے گی۔ میرا ان لوگوں سے سوال ہے جنہوں نے ان چوروں کو ملک پر مسلط کیا تھا کہ اب اس کا ذمہ دار کون ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں مہنگائی کم تھی مگر اب مہنگائی بھی بڑھ گئی ہے اور سرمایہ کاری بھی کم ہوگئی، بیرونی ممالک پاکستانیوں نے ترسیلات بھیجنا بند کردی اور جس رفتار سے ہم ٹیکس وصول کر رہے تھے وہ بھی کم جمع ہونے لگا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہماری حکومت تھی تو اس وقت بیرونی اداروں کی طرف سے پاکستان کے قرض واپس نہ کرنے کی رسک 5 فیصد تھی جو کہ اب بڑھ کر 64.5 فیصد تک ہوگئی ہے۔

چنیوٹ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت میں قرض واپس نہ کرنے کی رسک 64 عشاریہ 5 فیصد تک ہوگئی ہے۔

جس کا مطلب ہے کہ دنیا اب سمجھتی ہے کہ پاکستان کی معیشت اب اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ وہ اب اپنے قرضے واپس نہیں کر سکتے، عمران خان نے کہا کہ اگر یہ رسک ہوگی تو بیرونی ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کرنے سے ڈریں گے۔

Related Articles

Back to top button