امن کا گہوارہ اسلام آباد جرائم کی آماجگاہ کیسے بن گیا؟

مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقعہ خوبصورتی میں اپنی مثال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایک زمانے میں پاکستانیوں سمیت غیرملکیوں کے پسندیدہ شہروں میں شمار ہوتا تھا لیکن آج اس شہر میں ہر طرف جرائم، گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔وفاقی دارالحکومت میں صرف ایک سال کے دوران چوری، ڈکیتی سمیت دیگر وارداتوں کے 10 ہزار 500 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ شہری 4 ارب روپے سے زائد کے سامان، نقدی سے محروم ہوگئے۔
زیادہ پرانی بات نہیں جب لاہور اور کراچی کے مکین اسٹریٹ کرائم کے معاملے میں اسلام آباد کے محفوظ ماحول کو رشک سے دیکھا کرتے تھے۔ ایسا نہیں کہ تب شہر اقتدار چوری چکاری اور ڈکیتی جیسے جرائم سے مکمل پاک تھا مگر شہریوں کے مطابق یہ خوف زندگی کا حصہ نہ تھا کہ کب کوئی راستہ روک کر پستول تان لے اور سب کچھ چھین کر چلتا بنے۔
انگریزی کے معروف اخبار بزنس ریکارڈر میں 26 مارچ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اسلام آباد میں سٹریٹ کرائم کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق، محض ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے مسلح افراد نے 45 موبائل فون چھینے جبکہ اس دوران شہریوں کو 78 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے محروم ہونا پڑا۔
ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف تھانوں میں ”ڈکیتی کے 12، موبائل چھیننے کے 45، کار اور موٹر سائیکل لفٹنگ کے بالترتیب 14 اور 64 مقدمات درج ہوئے، پولیس کی ریکارڈ بک کے مطابق 2022 میں 10 ہزار 500 سے زائد مقدمات درج ہوئے جن میں شہری مسلح ڈکیتی، چوری، سٹریٹ کرائم اور دیگر وارداتوں میں 4 ارب روپے کے سامان اور نقدی سے محروم ہوئے۔
چند ہفتے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ امور عبدالرحمن کانجو نے بھی قومی اسمبلی میں تسلیم کیا کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، اسلام آباد آئی نائن سیکٹر کے ایک رہائشی ستر سالہ جنید ملک نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا،”میرا بچپن، لڑکپن اور جوانی اسی شہر کی گلیوں میں گزرے، میں تقریباً تین دہائیوں تک روزانہ منڈی موڑ سے رات دو بجے پیدل گھر آتا رہا۔ اس دوران میرے ساتھ ڈکیتی کا کوئی واقعہ پیش آیا نہ کبھی ایسا سنا، ڈکیتی کا عفریت اسلام آباد میں پرانا نہیں مگر اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی احمد اعجازنے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ غیر قانونی افغان مہاجرین ہیں۔بائیں بازو کی ایک متحرک سماجی کارکن ڈاکٹر شائستہ خٹک احمد اعجاز کے موقف سے اتفاق کرتی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ ”ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں کو موجودہ ملکی صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لوگ بھیک نہ مانگیں یا ڈاکے نہ ڈالیں تو کیا کریں، ریاست تو جیسے موجود ہی نہیں۔
ڈکیتی کی وارداتوں کا انتہائی تاریک پہلو اسلحے کا استعمال بھی ہے، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وقاص کو چند سال قبل موبائل سنیچنگ کے دوران ایسے ہی ایک بھیانک تجربے سے گزرنا پڑا۔ بتاتے ہیں کہ میں دوست کے ساتھ گلی میں واک کے لیے نکلا ہی تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار آئے اور موبائل اور نقدی چھین کر فرار ہونے لگے۔ میں سولہ سترہ سال کا لڑکا جذبات سے مغلوب ہو کر ان پر جھپٹ پڑا۔ ان میں سے ایک نے پستول سے فائرنگ کر دی۔ گولی میرے کولہے کی ہڈی چیرتی ہوئی ٹانگ میں اتر گئی۔ اس کے بعد جوانی کے تین سال بستر کھا گیا۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر اسامہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ایسے واقعات نفسیاتی طور پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، آپ کو فوری طور پر احساس ہوتا ہے کہ آپ کی کوئی پرسنل اسپیس نہیں، آپ کہیں محفوظ نہیں عموماً ایک خوف آپ کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتا ہے، کوئی راستہ پوچھنے کے لیے قریب آئے تو لگتا ہے موبائل چھیننے والا ہے۔ جس شہر میں لوگ واک یا تفریح کے لیے شام کو پارک میں جانا چھوڑ دیں وہاں لوگوں کی ذہنی صحت کا کیا حال ہوگا۔صحافی احمد اعجاز کا کہنا ہے کہ ان سمیت ان کے بہت سے دوستوں نے شام کو گھروں سے باہر نکلنا ترک کر دیا، آئے روز کسی نہ کسی ایسی واردات کا سنتے ہیں اگر وفاقی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی ملک
کراچی ایکسپو کے دوران ماڈل حسنین لہری، نمرہ جیکب میں گرما گرمی
میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ہوگا۔
