گوادر کے سمندر کو بانجھ کرنے والے کون ہیں؟

گوادر کے نیلے سمندر میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی ٹرالنگ نہ صرف مقامی ماہی گیروں کے روزگار پر ڈاکہ ڈال رہی ہے بلکہ سمندر کو بانجھ کرنے کا سبب بھی بن رہی ہے، حکومت نے ٹرالنگ کا ٹھیکہ پہلے چین کو دے رکھا تھا جس کو خدشات کے بعد ختم کر دیا گیا لیکن اب یہ کام مقامی ٹرالر مالکان کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے گوادر میں مچھلیاں تیزی کیساتھ کم ہوتی جا رہی ہیں مگر دوسری جانب غیر قانونی ٹرالنگ بڑھتی ہی جا رہی ہے، یہ شکوہ گوادر کے تقریباً ہر دوسرے مچھیرے کی زبان پر ہے۔ اگرچہ ’حق دو تحریک‘ کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان کا دھرنا ختم ہو چکا ہے اور اب وہ زیرِ حراست ہیں مگر کئی دنوں تک جاری رہنے والے اس دھرنے کے شرکا کا سب سے اہم مطالبہ یہی تھا کہ ’گوادر کے ساحل سے غیر قانونی ٹرالنگ کو ختم کیا جائے۔  لیکن ٹرالنگ تو ختم نہیں ہوئی لیکن مولانا ہدایت اللہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔.

سوال یہ ہے کہ آخر یہ کتنا بڑا مطالبہ ہے جو پورا نہیں ہو سکتا؟ مقامی ماہی گیر محمد مسلم نے بتایا کہ رات کے وقت جب ہم کام ختم کر کے سو جاتے ہیں تو اُسی دوران تقریباً 10 سے 12 ٹرالرز ایک جھُنڈ کی شکل میں ساحل کے پاس آ کر مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال پھینک جاتے ہیں۔ ان جالوں میں بڑی مقدار میں چھوٹی، بڑی مچھلیاں پھنس جاتی ہیں جو اگلے کچھ عرصے کے لیے سمندر کو بانجھ کر دیتی ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے صبح دس بجے جال ڈالا تھا اور اب دن کے بارہ بجے ہیں اور صرف چند چھوٹی مچھلیاں ہی ہاتھ آئی ہیں۔ یہ صرف ہزار، پندرہ سو روپے کا مال ہے جو میں اگر منڈی میں لے جاؤں تو اس کی قیمت کچھ بھی نہیں۔ دوسری جانب ٹرالنگ بڑی مقدار میں مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ٹرالر اس بڑی ماہی گیری کی کشتی کو کہا جاتا ہے جس میں مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے باریک اور بڑے جال موجود ہوتے ہیں۔

یہ غیر قانونی عمل پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے ساحلِ سمندر پر بھی عام ہے۔ ماضی میں اِس کو روکنے کے لیے کئی مہمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ مگر جہاں کچھ ممالک اسے روکنے میں کچھ حد تک کامیاب ہوئے ہیں، وہیں پاکستان کا ساحل اب بھی اس غیر قانونی عمل سے سخت متاثر ہے اور مقامی ماہی گیر بہت عرصے سے اس کے خلاف لگاتار احتجاج کرتے رہے ہیں۔ ٹرالنگ کے ذریعے مچھلیوں کو پکڑنے کے کام میں نہایت ہی باریک جال کا استعمال ہوتا ہے جسے عام زبان میں ’گجہ‘ بھی کہا جاتا ہے، اس باریک جال کو سمندر کے ساحل کے قریب پھینکا جاتا ہے، جہاں سے بڑی اور چھوٹی مچھلیوں کے ساتھ پیدا ہونے والی مچھلیوں کی نئی نسل بھی شکار کر لی جاتی ہے جسے مقامی افراد ’سمندر کو بانجھ‘ کرنا کہتے ہیں، ماہی گیروں کے مطابق ان چھوٹی مچھلیوں کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے تاکہ بڑی مچھلیاں انھیں کھانے کے لیے ساحل کے قریب آ سکیں اور ماہی گیر انھیں پکڑ سکیں۔ لیکن ٹرالر کے پھینکے ہوئے جال میں آ کر تمام تر چھوٹی مچھلیاں بھی سمندر کی تہہ سے نکال لی جاتی ہیں، عام طور پر ایسا ہوتا تھا کہ چینی کمپنیوں کے ٹرالر بلوچستان کے ساحلی علاقوں کی طرف سمندر سے ایک ہی جھٹکے میں سینکڑوں ٹن مچھلیاں لے جاتے تھے مگر انھیں روکنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ کے ان پاس پاکستانی حکومت کے جانب سے دیے گئے اجازت نامے موجود تھے۔ لیکن ڈائریکٹر جنرل فشریز سیف اللہ کیتھران نے بتایا کہ چینی ٹرالرز اب بلوچستان کے سمندر میں نہیں آتے، ان کی جگہ اب مقامی ٹرالر مافیا نےلےلی ہے۔

نوجوان 1 لاکھ روپے تنخواہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

Back to top button