کیا فضائیہ کے بعد پاک فوج بھی حوثیوں کے خلاف لڑے گی؟

سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی نے پاکستان کو اس مشکل سوال سے دوچار کر دیا ہے کہ کیا وہ اپنے قریبی اتحادی سعودی عرب کے دفاع کے لیے حوثیوں کے خلاف فضائیہ کے بعد فوج کو بھی جنگ میں اتارے گا یا نہیں؟
بین الاقوامی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد اس جنگ کا حصہ بنتا ہے تو وہ اپنی قومی سلامتی، علاقائی تعلقات اور پہلے سے موجود سکیورٹی چیلنجز کو مزید خطرے میں ڈال دے گا۔
ان کے مطابق حوثیوں کے خلاف جاری آپریشنز میں پاکستانی فوجی دستوں کی شمولیت خطرات سے بھرپور ہو گی جو راولپنڈی اور اسلام آ باد کے فیصلہ سازوں کو پیچیدہ صورت حال میں دھکیل سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی افغان سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان، بلوچ لبریشن آرمی، داعش، القاعدہ اور دیگر غیر ریاستی عناصر سے درپیش سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے پاس ہر وجہ موجود ہے کہ وہ حوثیوں کے مسئلے میں براہ راست مداخلت سے گریز کرے اور خود کو ایک نئے محاذ سے بچائے۔
یاد رہے کہ 5 اکتوبر کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض میں پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، جس کے بعد جاری اعلامیے میں اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عمل اور عسکری صلاحیتوں کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق رکن ممالک کے قومی قوانین کے تحت سعودی عرب میں افواج اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عسکری تیاری، باہمی تعاون اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو حوثیوں کے خلاف کسی براہ راست فوجی کارروائی میں حصہ لینا ہوگا یا اس کا کردار سعودی عرب کے دفاع تک محدود رہے گا۔
دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک دفاعی معاہدے کے تحت کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے فوجی اہلکار نہیں بھیجے گا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کہہ چکے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہے اور پاکستان اس پر عمل درآمد کا پابند ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات ہوئی ہے، جبکہ ایرانی قیادت حوثیوں اور عراقی گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔
دوسری جانب سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ رواں برس اپریل میں پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل فوجی دستہ مملکت کے مشرقی سیکٹر میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان بھی سعودی عرب میں پاکستانی فورسز کی موجودگی کی تصدیق کر چکے ہیں، تاہم ان دستوں کی مخصوص ذمہ داریوں اور آپریشنل کردار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے پاکستانی لڑاکا طیاروں کے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں استعمال کا دعویٰ سامنے آنے پر پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اسے جھوٹی اور من گھڑت خبر قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
مشرق وسطی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے معروف تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور یمن میں جاری تنازع اب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں، اسلیے پاکستانی آرمی کے اس جنگ بالواسطہ شمولیت کا امکان موجود ہے، چاہے وہ فوری طور پر براہ راست لڑائی کا حصہ نہ بنے۔ ان کے خیال میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کے باعث پاکستان سے تعاون کی توقعات بڑھ سکتی ہیں اور مستقبل میں اس کا کردار موجودہ دفاعی تعاون سے آگے بھی جا سکتا ہے۔
تاہم امریکہ اور برطانیہ میں بطور سابق سفیر فرائض سر انجام دینے والی ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کسی دوسرے ملک کے مفادات پر اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق یمن کے تنازع میں شمولیت کا فیصلہ پارلیمان میں بحث اور اس کی منظوری کے بعد ہونا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا، جب پارلیمنٹ نے پاکستان کو یمن کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے روک دیا تھا۔
پاکستان کے لیے اس معاملے کی پیچیدگی صرف ممکنہ فوجی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس کے سفارتی اثرات بھی اہم ہیں۔ اگر اسلام آباد حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنازع میں پاکستان کی نمایاں فوجی شمولیت مشرق وسطیٰ کی سلامتی میں اس کے کردار کو وسعت دے سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ایران کے ساتھ تعلقات اور پاکستان کی بطور ثالث ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان بھی موجود یے۔ انکے مطابق بیرون ملک کسی تنازع میں فوجی مداخلت کے اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں۔ ویسے بھی افغانستان اور عراق کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایسی جنگوں میں شریک ممالک معاشی طور پر تباہ ہو جاتے ہیں اور کئی دہائیوں تک ان کے نتائج سے نبرد آزما رہتے ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دفاعی اور مالی شراکت دار ہے اور مختلف مواقع پر اسلام آباد کو معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد فراہم کرتا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس تعلق کو یمن کی جنگ میں براہ راست شمولیت کا خودکار جواز نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھتے ہوئے اس کے فضائی دفاع اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ کسی تیسرے ملک میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکی دونوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کیساتھ دفاعی محاذ ہر ہونے والے وعدوں کو پورا کرنے اور علاقائی جنگ میں براہ راست فریق بننے کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ یاد ریے کہ 2015 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے یمن کی جنگ میں براہ راست شرکت سے گریز کا فیصلہ کرتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں پر زور دیا تھا۔ موجودہ حالات میں مکہ دفاعی معاہدے، سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی اور ریاض کو درپیش سلامتی کے خطرات نے اسلام آباد کے لیے صورت حال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدوں اور دوطرفہ تعلقات کا تقاضا ہے کہ پاکستان اس کی سلامتی میں تعاون کرے، تو دوسری طرف داخلی دہشت گردی، افغانستان سے متصل سرحدی خطرات، ایران کے ساتھ تعلقات اور علاقائی ثالثی کا کردار ایسے عوامل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں اپنا کردار فضائی و میزائل دفاع، عسکری معاونت اور سفارت کاری تک محدود رکھ سکے گا یا اسے حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگ میں اترنے کے لیے بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اور اگر اسلام آباد نے اس جنگ میں عملی شمولیت اختیار کی تو کیا اس سے ملک میں پہلے سے موجود سکیورٹی، سفارتی اور معاشی مسائل مزید پیچیدہ نہیں ہو جائیں گے؟
