مس یونیورس سشمیتا انڈیا میں نفرت کا نشانہ کیوں بنیں؟

مس انڈیا اور مس یونیورس کا اعزاز حاصل کرنیوالی بھارتی ماڈل و اداکارہ سشمیتا سین نے انکشاف کیا ہے کہ جب کیرئیر کا آغاز کیا تو مجھے بُرا تصور کیا جاتا تھا، جبکہ بچوں سے بھی مجھ کو دور رکھا جاتا تھا۔دراز قد اور خوبصورتی کی وجہ سے شہرت رکھنے والی سابق ’مس انڈیا‘ اور ’مس یونیورس‘ و بالی وڈ اداکارہ سشمیتا سین نے بتایا کہ 1996 میں فلم ’دستک‘ سے کیریئر کا آغاز کیا، اب تک وہ 50 کے قریب فلموں میں نظر آ چکی ہیں، انہوں نے اپنی اداکاری کی بناء پر فلم فیئر، آئیفا، سٹار سکرین اور زی سائنے سمیت متعدد ایوارڈ اپنے نام کیے۔سشمیتا سین نے 1994 میں مس انڈیا کا اعزاز اپنے نام کیا تھا، جس کے بعد وہ اسی برس مس یونیورس بھی منتخب ہوئی تھیں، اگرچہ شادی نہیں کی، تاہم انہوں نے 2 بچوں کو گود لے رکھا ہے، اداکارہ نے سب سے پہلے 2000 میں ایک بچی اور بعد ازاں 2010 میں دوسری بچی کو گود لیا تھا۔شوبز میگزین ’’فلم فیئر‘‘ کے مطابق سشمیتا سین نے اپنی ریلیز ہونے والی ویب سیریز کی کامیابی پر ایک انٹرویو میں بتایا کہ 1990 کی دہائی میں لوگ اتنے باشعور نہیں تھے اور اس وقت اظہار رائے کی آزادی کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ان کے مطابق اس وقت ان کی شخصیت کے حوالے سے یہ تاثر عام پایا جاتا کہ وہ بچوں اور دیگر کم عمر افراد پر خراب تاثر چھوڑیں گی، اس لیے انہیں بُرا سمجھ کر انہیں نظر انداز کیا جاتا۔سشمیتا سین کے مطابق لوگ انہیں دوسروں پر برے اثرات مرتب کرنے والی عورت سمجھ کر بچوں کو ان سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا مقصد ہوتا ہے کہ اداکارہ کسی بھی طرح دوسرے لوگوں کے سامنے نہ آ سکیں، لوگوں کے ایسے رویے کی وجہ سے وہ اس وقت خاموش ہوجاتی تھیں، کوئی بات نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی انہیں ایسا کوئی پلیٹ فارم میسر تھا، جہاں وہ بات کرتیں، ان کے مطابق اس وقت کا معاشرہ زیادہ تنگ نظر تھا، اس لیے جب کوئی بھی شخص اپنی سوچ کے مطابق کوئی بات کرتا تھا تو اسے غلط اور بُرا سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے جدید دور کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ہر کسی کے پاس سوشل میڈیا ہے، ہر کوئی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہے اور کوئی کسی کو کسی کے طرز زندگی پر برا تصور نہیں کرتا، خیال رہے کہ سشمیتا سین کی ویب سیریز ’تالی‘ کو 15 اگست کو ریلیز کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ٹرانس جیںڈر شخص کا کردار ادا کیا ہے۔ویب سیریز میں انہیں پیدائشی لڑکا جب کہ بعد ازاں خاتون بنتے دکھایا گیا ہے۔ویب سیریز میں ٹرانس جینڈرز کے ساتھ بھارت میں ناروا سلوک کو دکھایا گیا کہ کس طرح انہیں انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔
