لانگ مارچ تحریک انصاف کو2سال پیچھے دھکیل دےگا،راناثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو 9 مئی کے معاملے پر بھی بہت زیادہ اعتماد تھا، اتنا اعتماد تھا کہ بڑی غلطی کر بیٹھے، جبکہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے بعد پی ٹی آئی 2 سال پیچھے چلی جائے گی۔
راناثنااللہ کانجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھاکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان کو کہا گیا تھا کہ 25 مئی کا الٹی میٹم نہ دیں، الیکشن کا اعلان ہو رہا ہے۔ پھر اس کے بعد 25 نومبر کو بھی پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ سنگجانی میں جاکر بیٹھ جائیں آپ سے بات ہوگی مگر یہ نہیں مانے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ہمیشہ ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں، ایسے اعتماد کو حماقت بھی کہا جاتا ہے اور اس کے بعد یہ اپنا نقصان کروا بیٹھتے ہیں۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ 20 لاکھ لوگ تو دور کی بات، پی ٹی آئی والے 2 لاکھ آدمی بھی نہیں لاسکتے۔ پی ٹی آئی والے بھڑک تو مار دیتے ہیں مگر بعد میں ہوتا کچھ نہیں ہے۔
کراچی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہاکہ کراچی سندھ سے الگ ہوجائے تو ایم کیو ایم کو اور کیا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ کراچی کو وفاق کے زیرانتظام لانے کی آئین میں گنجائش نہیں، اس کے لیے دوبارہ آئین میں ترمیم کرنا ہوگی جو متنازع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام سے متعلق حکومت کا ایم کیو ایم سے وعدہ ہے۔
انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے معاملے پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ صوبوں سے متعلق بل آخر پارلیمنٹ میں ہی آنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی میں صوبوں سے متعلق بحث ہوگی تو اکثریت سے مؤقف اپنایا جائے گا۔ صوبوں کا بل پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے کابینہ میں آنا ہے، اور حکومتی مؤقف کابینہ سے ہی آئے گا۔
انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہاکہ لوگ کہتے ہیں 26ویں ترمیم آئی تو کسی کو پتا نہیں تھا، ایسا نہیں ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم پہلے کابینہ میں آئی تھی۔
پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ان کا تعلق صوبوں کی بحث سے نہیں ہے۔
