مریم کے انٹرویو کی خفیہ ریکارڈنگ کس نے لیک کی؟

سوشل میڈٰیا پر معروف اینکر پرسن منصور علی خان کا مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے ساتھ کیے گئے ایک انٹرویو کا وہ حصہ گردش کر رہا ہے جسے مریم نواز نے انٹرویو میں شامل نہ کرنے کا کہا تھا۔ اس حوالے سے مریم نواز اور منصور علی خان دونوں کو سوشل میڈیا پر میمز کی صورت میں شدید تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے کلپس میں 2010، 2011 میں مریم نواز کو تحفے میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے کے بارے میں سوال پوچھے گئے تو مریم نواز نے کہا، ’اس کو کاٹیں۔‘اس کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی مریم نے ویڈیو کاٹنے کو کہا۔
مریم نواز سے کیے گئے اس انٹرویو کا حصہ لیک ہونے بارے اینکر منصور علی خان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے انٹرویو کے دوران کیمرے بند کرنے کے مطالبے پر مین کیمرے تو بند ہو گئے تھے لیکن جو ریزرو کیمرے تھے وہ بند نہیں کیے گئے تھے۔ منصور نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’انٹرویو کے بعد جب میں دفتر واپس پہنچا تب مجھے معلوم ہوا وہ فوٹیج ریکارڈ ہوئی ہے۔ لیکن ہم نے اخلاقاً سوچا کہ چونکہ مریم نواز نے اس حصے کو آن ایئر بھیجنے سے منع کیا تھا اس لیے یہ اخلاقی طور پر غلط ہوتا کہ اگر ہم اسے آن ایئر کرتے بیشک اس میں کتنا ہی مصالحہ ہوتا۔’میں یہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس حصے کو مرکزی انٹرویو کا حصہ نہیں بنائیں گے۔‘
انٹرویو کا وہ مخصوص حصہ ایڈیٹنگ کے دوران سسٹم سے ڈیلیٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال کے جواب میں منصور علی خان نے بتایا: ’میں نے اس وقت اپنے ایڈیٹر کو ہدایت دے دی تھی کہ اس مخصوص حصے کو ڈیلیٹ کر دیا جائے لیکن اب ہم اسی چیز کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا بعد میں کہیں انہیں لمحات کے درمیان یہ ویڈیو وہاں سے تو نہیں نکلی کہ ڈیلیٹ کرنے کے باوجود کسی نے وہاں سے کاپی کر لی اور بعد میں نکال دی۔’ہم نے اس کے بعد جو آرکائیوز دیکھیں اور جو پروگرام ایڈٹ کیا اس کے اندر تو انٹرویو کا یہ حصہ نہیں ہے۔ اس کے بعد جب یہ کلپ منظر عام پر آیا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ کہیں سے تو اسے نکالا گیا ہے اور یہ انٹرویو کی ایڈیٹنگ کے دوران ہی ہوا ہے۔‘فوٹیج کس نے لیک کی کیا اس کی تحقیق کی جا رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں منصور نے بتایا: ’ہم تحقیقات کر رہے ہیں، ہم نے اپنی پوری ٹیم کے فرداً فرداً انٹرویو کیے ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس جو سی سی ٹی وی فوٹیج تھی اس کو بھی دیکھا ہے۔
’جب سے انٹرویو ریکارڈ ہوا تب سے لے کر اب تک۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جس مشین پر کام ہوا اس تک کس کس کو رسائی حاصل تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ویڈیو کو ریکارڈ ہوئے تقریباً تین ہفتے ہو چکے ہیں۔ ’اس دوران اتنا زیادہ وقت گزر چکا ہے کہ اگر یہ پہلے 24 یا 48 گھنٹوں میں کچھ ہونا ہوتا تو ہمارے لیے اس شخص تک پہنچنا ہمارے لیے زیادہ آسان ہو جاتا۔ دوسری بات یہ کہ جس کمپیوٹر پر ایڈٹنگ ہو رہی تھی اس پر انٹرنیٹ کی سہولت بھی میسر ہے اس لیے ہیکنگ کے عنصر کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔’یا پھر کسی نے انٹرنیٹ، وی ٹرانسفر یا کسی اور فارمیٹ کے ذریعے فوٹیج بھیج دی ہے تو ہم اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘ منصور کا کہنا تھا ہمارا کام اس وقت بہت مشکل ہے لیکن ہم اسے ٹریس کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
منصور نے مزید بتایا کہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد میں نے خود مسلم لیگ ن سے رابطہ کیا کیونکہ یہ میرے لیے زیادہ شرمندگی کا سبب ہے کہ میں نے آن ایئر ان سے اس بات کا عہد کیا تھا کہ یہ حصہ آن ایئر نہیں جائے گا اور میں نے تو اس عہد کو پورا بھی کیا کیونکہ جو انٹرویو آن ائیر گیا اس میں انٹرویو کا وہ حصہ شامل نہیں تھا۔بعد میں وہ حصہ لیک ہونے کی وجہ سے میں اپنے کیے ہوئے عہد کو پورا نہیں کر سکا جو میرے لیے شرمندگی کا سبب بنا۔منصور نےبتایا کہ انہوں نے خود مسلم لیگ ن سے رابطہ کر کے اپنے افسوس کا اظہار کیا کہ جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور وہ یہ ساری صورت حال کو سمجھ گئے۔ دوسری جانب مریم نواز نے تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان کے پاس متعلقہ معلومات نہیں تھیں اس لیے وہ ریکارڈنگ رکوانا چاہتی تھیں۔
سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں سے اب کون جیتے گا ؟ پارلیمان اور عدلیہ کی لڑائی میں ہمیشہ پارلیمان کو برتری حاصل رہے گی . یہی برتری اس بات کو بھی طے کرتی ہے کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔ فی الوقت پارلیمان کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ اگر الیکشن کے لئے پارلیمان پیسے دینے سے انکار کر دے تو کیا سپریم کورٹ کا کوئی تین رکنی یا پانچ رکنی بنچ پارلیمان کے اکثریتی فیصلے کو بدل سکتا ہے؟ ۔ کیا اب سپریم کورٹ تمام پارلیمان پر توہین عدالت لگا سکتی ہے؟ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہے کہ سیاسی جماعتیں تو اقتدار کے لیے باہم دست و گریبان ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان تو اقتدار کی کوئی جنگ نہیں۔ وہاں تو سب نے میرٹ پر سنیارٹی کے اصول کے تحت چیف جسٹس بننا ہے۔ پھر وہاں کیا لڑائی ہو رہی ہے۔ بنچ فکسنگ کے الزامات ‘ سوموٹو کے غلط استعمال کی باز گشت بھی سیاسی میدانوں سے نکل کر سپریم کورٹ کے فیصلوں میں پہنچ گئی ہے۔عدلیہ کے اندر کی کشمکش نے پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان لڑائی کو جنم دیا ہے، اگر عدلیہ متحد ہوتی تو پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان لڑائی کا کوئی ماحول بن ہی نہیں سکتا تھا۔ چیف جسٹس کو سمجھنا چاہیے کہ جب وہ اپنے گھر کو ٹھیک نہیں رکھ سکتے تو انھیں باہر گلہ کرنا بھی نہیں چاہیے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ آج سوال یہ ہے کہ پارلیمان سپریم ہے کہ عدلیہ سپریم ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان سپریم کی لڑائی نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔یہ طے کرنا آسان نہیں کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔
پارلیمان کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کو پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت فیصلے کرنے ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے پاس سے کوئی قانون اور آئین نہیں بنا سکتی۔ اس لیے کہیں نہ کہیں قانون اور آئین سازی میں پارلیمان کی سپریم حیثیت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو آئین کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ حکومت کسی بھی لمحہ آئین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن جب تک آئین موجود ہے پارلیمان بھی آئین کی پابند ہے۔
آئین سے انحراف کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ بھی آئین کی پابند ہے۔ جیسے پارلیمان اور حکومت آئین کے پابند ہیں ویسے ہی سپریم کورٹ بھی آئین کی پابند ہے۔ سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ آئین سے ہٹ کر نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ کے پاس خود سے آئین لکھنے اس میں ترمیم کرنے اور اس میں تبدیلی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
اگر سپریم کورٹ کوئی فیصلہ آئین سے متصادم دے تو کیا کرنا ہو گا ۔ اگر سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ آئین میں ترمیم بن جائے تو کیا کیا جائے۔ کہاں سے انصاف حاصل کیا جائے۔ شاید آئین بنانے والوں کو اس بات کااندازہ نہیں تھا۔۔ لیکن اب سوال یہ سامنے آ چکا ہے اور اس سوال کے آگے بند گلی نے ہی سارے مسائل پید اکیے ہوئے ہیں ۔ یہ بند گلی سب کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اگر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ ختم کر سکتا ہے تو پارلیمان کا پیسے نہ دینے کا فیصلہ کیوں نہیں ختم کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ موازنہ درست نہیں ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اکیلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی۔ اس کے لیے ایوان میں کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ تحریک انصاف اکثریت کھو چکی تھی۔ لیکن فنانس بل پارلیمان کی اکثریت سے منظور شدہ ہوگا۔ اس لیے اس کا اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔
دونوں الگ الگ ہیں۔ دونوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کو بھی ایسے اقدامات کرنے چاہیے کہ پارلیمان سے محاذ آرائی ختم ہو سکے۔ اس لڑائی میں پارلیمان کو برتری حاصل ہے اور رہے گی۔پارلیمان میں عدلیہ مخالف تقاریر پر عدلیہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتی۔ جواب میں عدلیہ کچھ نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس سے اس کو جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ کمزور کوشش تھی کیونکہ پارلیمان سے روز حملے ہو رہے ہیں۔ اور چیف جسٹس ریمارکس سے روز جواب نہیں دے سکتے۔ سیاسی حملوں کا جواب اس طرح دیا ہی نہیں جا سکتا۔
اس کے لیے جواب میں سیاست ہی کرنی ہوگی۔ اس لیے پارلیمان اور عدلیہ کی لڑائی میں ہمیشہ پارلیمان کو برتری حاصل رہے گی۔ یہی برتری اس بات کو بھی طے کرتی ہے کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔کیا پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرئی کسی نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے۔ یہ سمجھنا درست نہیں کہ یہ ایک لاحاصل لڑائی ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ آج جو صورتحال ہے اس میں فی الوقت پارلیمان کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ اب اگر پارلیمان پیسے دینے سے انکار کر دے تو کیا سپریم کورٹ کا کوئی تین رکنی پانچ رکنی بنچ پارلیمان کے اکثریتی فیصلے کو بدل سکتا ہے؟۔
آج سوال یہ ہے کہ پارلیمان سپریم ہے کہ عدلیہ سپریم ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان سپریم کی لڑائی نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔یہ طے کرنا آسان نہیں کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔پارلیمان کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کو پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت فیصلے کرنے ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے پاس سے کوئی قانون اور آئین نہیں بنا سکتی۔ اس لیے کہیں نہ کہیں قانون اور آئین سازی میں پارلیمان کی سپریم حیثیت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو آئین کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ حکومت کسی بھی لمحہ آئین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن جب تک آئین موجود ہے پارلیمان بھی آئین کی پابند ہے۔ مزمل سہروردی سوال کرتے ہیں کہ کیا اب سپریم کورٹ تمام پارلیمان پر توہین عدالت لگا سکتی ہے؟ کیا حکومت کو توہین عدالت پر گھر بھیجا سکتا ہے؟ کیا پوری کابینہ کو توہین عدالت میں سزا دی جا سکتی ہے؟
کیا پارلیمان کے منظور شدہ فنانس بل کو سپریم کورٹ کا بنچ ختم کر سکتا ہے؟ یہ کوئی آسان سوالات نہیں ہیں۔ ان کے جواب کسی کے پاس نہیں۔ آپ بات کو جتنا بڑھائیں گے اتنا ہی پھنستے جائیں گے۔ یہی اب تک ہو رہا ہے۔
پارلیمان اور عدلیہ کی لڑائی میں ہمیشہ پارلیمان کو برتری حاصل رہے گی . یہی برتری اس بات کو بھی طے کرتی ہے کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔ فی الوقت پارلیمان کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ اگر الیکشن کے لئے پارلیمان پیسے دینے سے انکار کر دے تو کیا سپریم کورٹ کا کوئی تین رکنی یا پانچ رکنی بنچ پارلیمان کے اکثریتی فیصلے کو بدل سکتا ہے؟ ۔ کیا اب سپریم کورٹ تمام پارلیمان پر توہین عدالت لگا سکتی ہے؟ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے .
وہ لکھتے ہے کہ سیاسی جماعتیں تو اقتدار کے لیے باہم دست و گریبان ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان تو اقتدار کی کوئی جنگ نہیں۔ وہاں تو سب نے میرٹ پر سنیارٹی کے اصول کے تحت چیف جسٹس بننا ہے۔ پھر وہاں کیا لڑائی ہو رہی ہے۔ بنچ فکسنگ کے الزامات ‘ سوموٹو کے غلط استعمال کی باز گشت بھی سیاسی میدانوں سے نکل کر سپریم کورٹ کے فیصلوں میں پہنچ گئی ہے۔عدلیہ کے اندر کی کشمکش نے پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان لڑائی کو جنم دیا ہے، اگر عدلیہ متحد ہوتی تو پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان لڑائی کا کوئی ماحول بن ہی نہیں سکتا تھا۔ چیف جسٹس کو سمجھنا چاہیے کہ جب وہ اپنے گھر کو ٹھیک نہیں رکھ سکتے تو انھیں باہر گلہ کرنا بھی نہیں چاہیے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ آج سوال یہ ہے کہ پارلیمان سپریم ہے کہ عدلیہ سپریم ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان سپریم کی لڑائی نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔یہ طے کرنا آسان نہیں کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔
پارلیمان کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کو پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت فیصلے کرنے ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے پاس سے کوئی قانون اور آئین نہیں بنا سکتی۔ اس لیے کہیں نہ کہیں قانون اور آئین سازی میں پارلیمان کی سپریم حیثیت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو آئین کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ حکومت کسی بھی لمحہ آئین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن جب تک آئین موجود ہے پارلیمان بھی آئین کی پابند ہے۔
آئین سے انحراف کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ بھی آئین کی پابند ہے۔ جیسے پارلیمان اور حکومت آئین کے پابند ہیں ویسے ہی سپریم کورٹ بھی آئین کی پابند ہے۔ سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ آئین سے ہٹ کر نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ کے پاس خود سے آئین لکھنے اس میں ترمیم کرنے اور اس میں تبدیلی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
اگر سپریم کورٹ کوئی فیصلہ آئین سے متصادم دے تو کیا کرنا ہو گا ۔ اگر سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ آئین میں ترمیم بن جائے تو کیا کیا جائے۔ کہاں سے انصاف حاصل کیا جائے۔ شاید آئین بنانے والوں کو اس بات کااندازہ نہیں تھا۔۔ لیکن اب سوال یہ سامنے آ چکا ہے اور اس سوال کے آگے بند گلی نے ہی سارے مسائل پید اکیے ہوئے ہیں ۔ یہ بند گلی سب کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اگر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ ختم کر سکتا ہے تو پارلیمان کا پیسے نہ دینے کا فیصلہ کیوں نہیں ختم کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ موازنہ درست نہیں ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اکیلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی۔ اس کے لیے ایوان میں کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ تحریک انصاف اکثریت کھو چکی تھی۔ لیکن فنانس بل پارلیمان کی اکثریت سے منظور شدہ ہوگا۔ اس لیے اس کا اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔
دونوں الگ الگ ہیں۔ دونوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کو بھی ایسے اقدامات کرنے چاہیے کہ پارلیمان سے محاذ آرائی ختم ہو سکے۔ اس لڑائی میں پارلیمان کو برتری حاصل ہے اور رہے گی۔پارلیمان میں عدلیہ مخالف تقاریر پر عدلیہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتی۔ جواب میں عدلیہ کچھ نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس سے اس کو جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ کمزور کوشش تھی کیونکہ پارلیمان سے روز حملے ہو رہے ہیں۔ اور چیف جسٹس ریمارکس سے روز جواب نہیں دے سکتے۔ سیاسی حملوں کا جواب اس طرح دیا ہی نہیں جا سکتا۔
اس کے لیے جواب میں سیاست ہی کرنی ہوگی۔ اس لیے پارلیمان اور عدلیہ کی لڑائی میں ہمیشہ پارلیمان کو برتری حاصل رہے گی۔ یہی برتری اس بات کو بھی طے کرتی ہے کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔کیا پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرئی کسی نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے۔ یہ سمجھنا درست نہیں کہ یہ ایک لاحاصل لڑائی ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ آج جو صورتحال ہے اس میں فی الوقت پارلیمان کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ اب اگر پارلیمان پیسے دینے سے انکار کر دے تو کیا سپریم کورٹ کا کوئی تین رکنی پانچ رکنی بنچ پارلیمان کے اکثریتی فیصلے کو بدل سکتا ہے؟۔
آج سوال یہ ہے کہ پارلیمان سپریم ہے کہ عدلیہ سپریم ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان سپریم کی لڑائی نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔یہ طے کرنا آسان نہیں کہ دونوں میں سے سپریم کون ہے۔پارلیمان کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کو پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت فیصلے کرنے ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے پاس سے کوئی قانون اور آئین نہیں بنا سکتی۔ اس لیے کہیں نہ کہیں قانون اور آئین سازی میں پارلیمان کی سپریم حیثیت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو آئین کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ حکومت کسی بھی لمحہ آئین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن جب تک آئین موجود ہے پارلیمان بھی آئین کی پابند ہے۔ مزمل سہروردی سوال کرتے ہیں کہ کیا اب سپریم کورٹ تمام پارلیمان پر توہین عدالت لگا سکتی ہے؟ کیا حکومت کو توہین عدالت پر گھر بھیجا سکتا ہے؟ کیا پوری کابینہ کو توہین عدالت میں سزا دی جا سکتی ہے؟کیا پارلیمان کے منظور شدہ فنانس بل کو سپریم کورٹ کا بنچ ختم کر سکتا ہے؟ یہ کوئی آسان سوالات نہیں ہیں۔ ان کے جواب کسی کے پاس نہیں۔ آپ بات کو جتنا بڑھائیں گے اتنا ہی پھنستے جائیں گے۔ یہی اب تک ہو رہا ہے۔
